Friday, 13 April 2018

تم کیوں روتےہو

"تم کیوں روتے ہو؟ "
سوشل میڈیا  پر ایک کافر ، جسکا رنگ بھی گورا تھا اور جسکا وطن بھی نہ کشمیر تھا نہ پاکستان ۔ یہ کہتے ہوئے رو پڑا ۔
" کشمیر میں دس ہزار خواتین کی بیحرمتی کی گئی ۔ دس ہزار عورتوں کو بھارتیوں نے بے آبرو کیا "
وہ شخص جذبات سے مغلوب ہے جسکا ان کشمیری خواتین سے کوئی رشتہ نہیں ۔ نہ مذہب کا ، نہ تہذیب کا ، نہ علاقہ ایک ، نہ مزاج ایک ، نہ زبان ایک ۔ میری نظر میں اسکا ایک ایک آنسو مسلمانوں کی حمیت ، غیرت اور خودداری پہ تازیانہ ہے ۔ ہم بے حس قوم ، مردہ انسان ہیں ۔ اپنی بہو بیٹیوں کی حفاظت سے اسقدر غافل ہیں کہ ہماری مسلمان بہنیں اس عذاب سے گذر رہی ہیں ۔ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا ۔ عافیہ صدیقی بھی ہماری ہی ایک بیٹی تھی ۔ کس اذیت سے گذر رہی ہے ۔ ہم بے حس ہیں ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس گورے سے پوچھوں کہ تم کیوں روتے ہو ۔ ہمیں دیکھو ، ہم اپنی زندگی کو اپنی سمجھتے ہیں ۔ دوسروں کا دکھ پالنے والے ہمارے اجداد تھے ، ہم نہیں ۔ تم بھی آنسو پونچھ ڈالو ۔ جن  قوموں کی غیرت مر جاتی ہے انکی بیٹیوں کو طاقتور اپنے لئے طوائفیں بنا لیا کرتے ہیں ۔ یہی تاریخ ہے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اسے کہوں ، جاو اپنے گھر آرام کرو ۔ ہمارے سکون کو برباد نہ کرو ۔ ہم ابھی بہت سارے دھندھوں میں الجھے بیٹھے ہیں ۔ ابھی ہم سیاست میں صادق اور امین ڈھونڈھ رہے ہیں ۔ انتخابات کی تیاری ہے ، ابھی ہمارے ضمیروں کی منڈی سجنی ہے ۔ ابھی بہت سارے مسلمانوں کو کافر کہنا ہے ۔ تو کیوں ہلکان ہو رہا ہے ۔ اب تو ہم خود اپنی معصوم بچیوں کو نوچنے کی مشق شروع کر رہے ہیں ۔ ہم نے کتنی محنت سے عدل کو دفن کیا ہے ۔ کتنی جانفشانی سے انصاف کا گلا گھونٹا ہے ۔ ہمیں اپنی غیرت کو قتل کرنے میں بہت مشکل سے گذرنا پڑا ہے ۔ تو پھر سے ہمیں محمد بن قاسم بنانے پہ کیوں تلا بیٹھا ہے ۔ پاگل کہیں کا ۔ سمجھ رہا ہے کہ ہماری رگوں میں ابھی اسلاف کا خون دوڑ رہا ہے ۔ ہم سود کھانے والی قوم بن گئے ہیں ۔ ہم حرام کو کمیشن کہہ کر کھا جاتے ہیں ۔ اب اسلاف والی حریت سے ہمارا کوئی ناطہ نہیں ۔ جا ہماری کشمیری بہنوں کیلئے مت رو ۔ ہم دیکھ لیں گے یہ سارے معاملات ۔ ہم نے ایک بڑے سے پیٹ والا ملا رکھا ہوا ہے ۔ اسے قوم کا خون پلاتے ہیں کہ اس کشمیر کے ظلم پر کچھ کرے ۔ وہ ابھی مصروف ہے ، اسے سب ڈھونگ آتے ہیں ۔ تو جا گورے بابا ۔ جا ہمارے لئے مت رو ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment