Monday, 9 April 2018

تفرقات کا رسولؐ سے کوئی تعلق نہیں

" تفرقات کا رسولؐ سے تعلق  نہیں "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ انعام ١٥٩ میں  رسول پاک کو مخاطب کرتے ہوئےفرمایا کہ
" یقین جانو کہ جن لوگوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ، انکا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر وہ ان سے پوچھے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں ۔ "
آیت کریمہ پر غور کیا جائے تو اس میں دو طرح کے لوگوں کا تذکرہ ہے ایک وہ جنہوں نے پھوٹ ( تفرقہ )  ڈالی اور دوسرے وہ جنہوں نے گروہ بنا لئے ۔ اللہ سبحانہ تعالی نے اس انداز میں کہا ہے  کہ ان سے تو وہ خود دیکھ لے گا ۔ اور اس معاملے کو اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے ۔ نبیؐ پاک کو انکے کسی بھی تعلق سے الگ فرما دیا ۔ یہاں تخصیص کے ساتھ ذکر ہے کہ جن لوگوں نے " دین " میں انتشار اور پھوٹ ڈالی ہے ۔ انکا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔
ہر وہ عمل جو قرآن کے احکامات کی ضد میں ہے اور اسے درست ثابت کرنے کی ہر دلیل انتشار ہے ، فساد ہے اور شر ہے ۔ پھر ایسی متضاد تاویلات اور دلائل پر اپنے ہم رائے لوگ تیار کرنا تفرقہ ہے ، ملت اسلامیہ کی تقسیم ہے اور گروہ بندی ہے ۔
ایسے تمام معاملات میں معاونت بھی انتشار میں  براہ راست شامل ہونا ہی تصور ہو گا ۔ ایسے تمام لوگ ، جو دین میں نئے نئے ، من گھڑت قصے اور کہانیاں شامل کرتے ہیں وہ بھی اسی انتشار اور فساد کے حصہ دار ہیں ۔ دین میں صرف عبادات ہی شامل نہیں ہیں ، بلکہ ہر وہ عمل شامل ہے جسکا حکم قرآن میں ہوا اور جس کو اللہ کے نبیؐ نے اپنی زندگی میں خود بھی کیا اور کرنے کی تاکید بھی کی ۔ ہمارے پاس قرآن ایسی کسوٹی ہے جس سے کسی بھی حکم اور عمل کو پرکھا جاتا ہے ۔ اسکے علاوہ کوئی بھی دوسرا پیمانہ اسی صورت میں مستند ہے کہ وہ کسی قرآن کے حکم کا متضاد نہ ہو اور متصادم نہ ہو ۔
شائد قران سے دور رکھنے کی کوشش اسی ایماء کی کڑی ہے کہ تفرقاتی اور گروہی سوچ آسانی سے پروان چڑھتی رہے ۔ یہ جان لینے کے بعد کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایسے فعل پر انتہائی سخت گرفت کا فرمایا ہے ۔ کم از کم ہمیں اس سے اجتناب کرنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment