Monday, 9 April 2018

بے نام قربانیاں

بہت ساری قربانیاں بغیر کسی پزیرائی کے دفن ہو جاتی ہیں - اور بعض حماقتیں قربانی کی جگہ لے لیتی ہیں -
ہماری تاریخ میں بہت سارے پولیس والے قانون , عوام اور اپنے فرائض پر کبھی ڈاکووں , کبھی غنڈوں , کبھی سمگلروں اور کبھی سیاسی بدمعاشوں کے ہاتھوں مارے گئے - جن کے گھروں میں فاتحہ کے لئے نہ کبھی کوئی لیڈر گیا نہ کبھی کوئی افسر - جن کے یتیم بچے حسرت بھری نگاہوں سے اپنے مستقبل کو تلاش کرتے ہوۓ نظر آتے ہیں - نہ کوئی ستارہ , نہ کوئی تمغہ - گویا یہ قربانی اس تنخواہ کا حصہ تھی جو وہ چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی پر لیتا رہا -
ایسے سرحدوں کی حفاظت پہ قربان ہونے والے لاکھوں جوان بغیر کسی پزیرائی کے قبروں میں سوۓ ہوۓ ہیں - اور انکے بچے انہی ٹاٹ اور بوریا والے سکولوں میں کلرک , چپڑاسی یا کوئی اور قربان ہونے والا سپاہی بننے کی تیاری میں لگا ہوں  گے -
دوسری طرف غیر اخلاقی اور غیر سماجی کاروائیوں میں ملوث غنڈے , قاتل , ڈاکو اور بدمعاش مارے جایں تو سیاسی پنڈت , نام نہاد دانشور پشت پر دکھائی دیتے ہیں - بہت سارے شہادت کے رتبے پہ فائز کر دیے جاتے ہیں - مہینوں اخبارات , میڈیا اور تبصرہ نگار انکی موت کو ظلم کہتے رہتے ہیں -
کیا یہ ہمارے معاشرے کی بے حسی نہیں - کیا یہ برائی سے لڑتے ہوے جان دینے والے ہمارے ہیرو نہیں - کیا ان کے پسماندگان کا اس وطن کے وسائل پہ ہم سے زیادہ حق نہیں -
آزاد ہاشمی
١٧ فروری 2016

No comments:

Post a Comment