Monday, 9 April 2018

یزید کا طوق

" یزید کا طوق "
نہ جانے کیوں ایک مخصوص طبقہ یزید کو جنتی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اسکے حق میں احادیث اور روایات کا سہارا لینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ سورہ النساء آیت ٩٢ میں اللہ کا حکم ہے کہ
" کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے سوائے اسکے کہ غلطی سے ایسا ہو جائے "
آیت ٩٣  میں ارشاد فرمایا
" اور شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے ، اسکی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا ، اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا  ۔ اور اللہ نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے "
پہلی آیت میں یزید کے اہل ایمان ہونے کی نفی ہے ۔ کسی مومن کیلئے ایک مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر ،  اللہ تعالی ایمان کے دائرے سے خارج  کر دیتا ہے ۔ یزید نے تو ایک نہیں بلکہ بہتر ایسے لوگوں کو شہید کیا ، جس میں سے بیشتر آل رسولؐ تھے ۔  شہید بھی محض اقتدار پر قابض رہنے کیلئے کیا گیا ۔ آل رسولؐ کو زیر کرنے کی آرزو کیلئے کیا ۔ اب کتنی بھی روایات یا دلائل کیوں نہ دے لئے جائیں ۔ یزید کو قرآن پاک کی آیت کے مطابق صاحب ایمان ثابت نہیں کیا جاسکتا ۔
دوسری آیت میں ایسے شخص کیلئے ، جو ناحق قتل کا مرتکب ہوتا ہے ۔ اس پر  سزا جہنم ہے اور یہ جہنم کی سزا ہمیشہ رہے گی ۔ اللہ تعالی ایسے بد بخت پر اپنے غضب کی وعید فرماتا ہے ۔ اور نہ صرف غضب بلکہ اس پر اللہ نے لعنت بھیجنے کا اعلان بھی فرمایا ہے ۔ اللہ یہ بھی واضع فرماتا ہے کہ اللہ نے ایسے شخص کیلئے دردناک عذاب تیار کر رکھا ۔ جب ایک ایسے قاتل کی سزا اسقدر سنگین ہے ، جو ناحق کسی مسلمان کو قتل کرے ۔ تو کیسے ممکن ہے کہ یزید کیلئے خصوصی رعایت ہو گی ۔ جب یزید کا سفاکانہ فعل کہیں زیادہ بھیانک ہے ۔ جس نے ایک شیرخوار کو  بھی شہید کرنے سے دریغ نہیں کیا  ۔ قتل کی یہ شکل کہ شہداء کے جسموں پر گھوڑے دوڑا دئیے گئے ۔ انکے سر کاٹ کر نیزوں پہ چڑھا دئیے گئے ۔ اسلام تو غیر مسلم کی لاش کو بگاڑنے سے بھی منع فرماتا ہے ۔ کیا جو لوگ یزید کی محبت میں سرشار ہو کر ، اسکی غلامی کا طوق گلے میں ڈالے بیٹھے ہیں ، اس جتن میں لگے ہیں کہ کسی طرح یزید کو جنتی ثابت کر لیں ۔ ایسا نہ ہو کہ روز قیامت یہ طوق بھی اللہ کے غضب کو آواز دے دے ۔ اور آخرت میں اللہ کی لعنت نصیب میں آئے ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment