" عبادت یا تجارت "
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ
" میں جنت کے شوق میں عبادت نہیں کرتا کہ یہ تجارت ہے، اور نہ ہی جہنم کے خوف سے کرتا ہوں کہ یہ غلامی ہے۔ میں صرف اور صرف اس لیے عبادت کرتا ہوں کہ میرا رب عبادت کے لائق ہے "
عبادت ایک لگن کا نام ہے جو ایک بندے کو اپنے رب سے ہو جائے اور وہ اسکا عملی اظہار کرے ۔ ایک عشق ہے کہ جو اللہ سے کیا جائے اور اللہ کی خوشی ڈھونڈھنے کے جتن کئے جائیں ۔ اللہ کی محبت میں اپنی ذات ہیچ کر دی جائے ۔ یہ عبادت ہے ۔ نماز اسی عبادت کا ایک طریقہ ہے ، جیسے اللہ چاہتا ہے ویسے قیام کیا جاتا ہے ، جھکا جاتا ہے ، بیٹھا جاتا ہے اور سر جھکایا جاتا ہے ۔ اللہ کی شان کا اقرار کیا جاتا ہے ، اپنی ہدایت کا سوال کیا جاتا ہے ۔ ایک عشق اور ایک لگن کے ساتھ ۔ ایک تڑپ کے ساتھ کبریا کے سامنے کھڑے ہو کر حاضری کہ کائنات کا مالک سن بھی رہا ہوتا ہے ، دیکھ بھی رہا ہوتا ہے ۔
ہمیں نماز میں ایک بات سمجھ آگئی کہ چند لمحے اللہ کے سامنے پیش ہو جاو اور یقین بنا لو کہ اب اس سے حاجات مانگنا ہمارا حق ہوگیا اور اسکو پورا کرنا اسکی عظیم ذات پر لازم ٹھہرا ۔ گویا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قول کے مطابق ہم نے تجارت کی ہے ۔ لگن اور عشق کا حق ادا نہیں کیا ۔ ہم نے یہی سنا کہ نماز پڑھنے سے اللہ ہماری حاجات کی دعائیں سن لیتا ہے ، ہم نے سوچا ہی نہیں کہ حاجات پورا ہونے سے کہیں بہتر تھا کہ اللہ ہمیں اپنا عبد مان لے ۔ یا ہم نماز اس خوف کیساتھ پڑھتے ہیں کہ ایک نماز کی ادائیگی سے بھی چوک گئے تو اللہ کے عتاب کا شکار نہ ہو جآئیں ۔ جیسا کہ علماء ہمیں بتاتے ہیں ۔ ایسے خوف کیساتھ ادا کئے جانے والے سجدے ، شاید وہ سجدے نہ ہو سکیں ، جو اللہ کی شان کے مطابق ہوں ۔ تڑپ اور لگن کا ایک سجدہ ، ایسے ہزار سجدوں پہ بھاری ہے ۔ حسین علیہ السلام نے جو آخری سجدہ کیا ، یہ جانتے ہوئے کہ زندگی کی حاجات تو ختم ہوئیں ، اب باقی ایک اللہ کی رضا ہے ، تو آخری لمحے بھی اللہ کی رضا کے نام کر دینا ، عبادت کی معراج ہے ۔ یہ وہ سجدہ جس نے ہر سجدے کو عظمت دے ڈالی ۔ اصل نماز ہی یہی ہے کہ اللہ کی عظمت کے سامنے جھکا جائے ۔ جس جبیں کو اللہ کی عظمت کے سامنے جھکنے کا سلیقہ آگیا وہ ہر طمع اور خوف کے سجدے سے بلند ہو گیا ۔
اے مالک ارض و سماء ، ہمیں ان سجدوں کی لذت سے آشنا کردے جو تیری عظمت کو جان کر کئے جائیں ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 10 April 2018
عبادت یا تجارت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment