" گود "
خوش پوش ، عمر رسیدہ شخص ، پارک کے ایک کونے میں بیٹھا ، عجیب سی بیتابی سے پہلو پہ پہلو بدل رہا تھا ۔ چند بچے اسکے ارد گرد جمع تھے اور شور کر رہے تھے ۔
" کیوں تنگ کر رہے ہو ، بابا جی کو "
ایک نوجوان بچوں کو ڈانٹتے ہوئے بولا
" انکل ! باباجی رو رہے ہیں ۔ اور کہہ رہے ہیں ماں بہت یاد آ رہی ہے "
ایک بچے نے چہکتے ہوئے نوجوان کو بتایا ۔ تو اس نوجوان کی سنجیدگی مسکراہٹ میں بدل گئی ۔ اب تو یوں سماں تھا جیسے سارے پارک والوں کو کھلونا مل گیا ہو ۔ ایک ایک کرکے ایک ہجوم اس سفید پوش بزرگ کے ارد گرد تھا ۔ وہ بار بار اپنی ٹانگ کو مسلتا اور درد کے عجیب سے شدت کا اظہار کرکے رونے لگتا ۔ تکلیف تو بہرحال تکلیف ہوتی ہے ، اسکی شدت کا اندازہ وہی کر سکتا ہے ، جس پر گذر رہی ہو ۔ مگر ایسا بھی کیا کہ بچوں کیطرح رونا شروع کر دیا جائے ۔ یہ وہ خیال تھا جو سب کو دل لگی پر اکسا رہا تھا ۔
" محترم ! آپ کچھ بتائیں گے کہ آپ کو کیا تکلیف ہے ۔ اور آپ کے رونے کا کیا سبب ہے "
ایک نوجوان نے پوچھا ، بابا جی نے دیکھا اور تڑپنے کے انداز میں بولے ۔
" بیٹا ! آج پندرہ دن سے شدید اذیت میں ہوں ۔ بہت درد ہوتی ہے ۔ میں درد کی شدت سے نہیں رو رہا ۔ بس ایک سال پہلے میری ماں اللہ کے پاس چلی گئی ہیں ۔ جب بھی کوئی تکلیف ہوتی تھی ، ہزاروں میل دور نہ جانے انہیں کیسے پتہ چل جاتا ہے ۔ اگلے ہی دن فون آ جایا کرتا تھا ۔ میں اپنا درد بتا دیا کرتا ۔ بس پتہ نہیں کیوں ، مجھے فوری آرام مل جاتا ۔ "
بابا جی نے کروٹ لی اور ٹانگ کو مسلتے ہوئے ، نہایت گلوگیر آواز میں بولے ۔
" یہ بچے میرا مذاق بنا رہے ہیں ۔ اللہ انکو یونہی مسکراتا رکھے ۔ اللہ انکی ماوں کو سلامت رکھے ۔ وہی بچہ چہکتا ہے جس کی ماں زندہ ہوتی ہے ۔ دوسرا بچہ تو مرجھا جاتا ہے ۔ میری طرح "
بابا جی نے " میری طرح " کہا تو سب لوگ ہنسنے لگے ۔
" بیٹا یقین کرو ، ماں کے جانے کے بعد سے ایسے ہی لگتا ہے کہ میں ایک بے سہارا بچہ ہوں ۔ جب تک ماں زندہ تھیں ، مجھے بچہ ہی بنائے رکھا ۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ میں بھی بڑا ہو گیا ہوں ۔ بوڑھا ہوتا جا رہا ہوں ۔ جب وہ کہا کرتیں " تو کب بڑا ہو گا " تو دل کرتا انکی گود میں سر رکھ کر سو جاوں "
بابا جی نے لمبی سانس لی
" ماں زندہ ہو تو سارے درد قریب نہیں آتے ۔ اب روز کوئی نہ کوئی درد جاگ جاتا ہے "
یہ کہہ کر اٹھے اور پارک کے دروازے کیطرف بڑھ گئے ۔
آزاد ھاشمی
Saturday, 14 April 2018
گود
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment