Monday, 9 April 2018

احتساب تیرا اور میرا

" احتساب ! تیرا اور میرا "
ہم شور مچائے جا رہے ہیں کہ ہمارے تمام لیڈر کرپٹ ہیں ۔ ان سب کی کرپشن کے سینکڑوں ثبوت بھی موجود ہیں ۔ حقائق بھی بتاتے ہیں کہ کرپشن ہوئی اور جی بھر کے ہوئی ۔ ہم مانتے ہیں کہ جمہوری نظام نے ہماری اخلاقیات کا کچومر نکال دیا ہے ۔ ہم کسی کی بہن بیٹی کی عزت پر آوازے کسنے والی سیاست کو عروج پر دیکھ رہے ہیں ۔ ہم سنتے ہیں کہ ہمارے سیاسی پنڈت بازاری کن ٹٹے غنڈوں کی زبان بولتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ تمام ترقیاتی فنڈز منتخب ممبران کی توندوں میں چلے جاتے ہیں ۔ ہم گواہ ہیں کہ ہمارے لیڈر زانی ، شرابی اور جواری بھی ہوتے ہیں ۔ ہم اس بات سے بھی بے خبر نہیں کہ جو جس کرسی پر بیٹھا ہے اسی کرسی کو ذاتی استعمال میں لاتا ہے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ملا نے ہمارے درمیان مسالک کی فصیلیں کھڑی کر دی ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سچ بولنے والی زبان کو گدی سے کھینچ لیا جاتا ہے ۔ ہم نے بیشمار تجربے کئے کہ ملک دشمنوں سے چھٹکارا مل جائے ، مگر پھر انہی کے پیچھے چل پڑے جو حقیقی ملک دشمن تھے ۔ حق تلفی کی عادت نے ہمارا ایک بازو کاٹ دیا اب یہی حق تلفی سے ہمارے دیگر اعضاء کاٹنے کے جتن جاری ہیں ۔
آپ بتائیں کہ احتساب کس کا ہونا چاہئیے ؟ کیا ہم سب نے اپنی اپنی سیاسی وابستگی کی پٹی اپنی آنکھوں پر نہیں باندھ رکھی ؟ کیا ہم برائی کا ساتھ ضد اور ہٹ دھرمی کیوجہ سے نہیں دیتے ؟ ایک تجزیہ کے مطابق نوے فیصد اسمبلی ممبران انتخاب کے بعد اپنے حلقوں میں ہی نہیں جاتے ۔ پھر بھی انکو منتخب کون کرے گا ، ہم اور آپ ۔۔۔ جب تک میں نے اپنا اور آپ نے اپنا احتساب نہ کیا ، یہ سب چلتا رہے گا ۔ سوچنے ، سمحھنے اور عملی اقدامات کرنے ہونگے ۔ اگر ہم نے کر لیا تو سب تبدیل ہو جائے گا ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment