" وسیلہ تلاش کرو "
سورہ مائدہ میں حکم ربی ہے ،
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو ۔ اور اسکی راہ میں جہاد کرو ۔ تاکہ تم فلاح پاو "
تخلیق انسانیت کے بعد اللہ نے اپنے نبیوں کو متواتر انسانوں کی رہنمائی کیلئے بھیجنے کا عمل جاری رکھا ۔ انبیاء بندے اور رب کے درمیان ایک وسیلہ تھا ۔ وسیلہ کو عام مفہوم میں یوں سمجھنا آسان ہو گا ۔ کہ اگر آپ پانی گرم کرنا چاہیں ، آپ کے پاس پانی بھی ہو اور آگ بھی ، تو پانی گرم کرنے کیلئے ایک برتن کی ضرورت ہو گی ۔ آگ برتن کو گرم کرے گی اور برتن پانی کو ۔ برتن وسیلہ ہے آگ اور پانی کے درمیان ۔ ایسے ہی ہدایت کیلئے انبیاء وسیلہ تھے انسان اور رب کے درمیان ۔ نیک اعمال بھی وسیلہ ہیں ، اللہ کے احکامات کی اطاعت بھی وسیلہ ہے ، مگر اعمال صالحہ اور احکامات ربی ہم تک انبیاء کے وسیلے سے پہنچے ۔ انبیاء سے معلوم ہوا کہ رب کی ذات کو کن نشانیوں سے پہچانا جا سکتا ہے ۔ رب کے احکامات کیا ہیں اور رب تک اپنی حاجات کیسے پہنچانی ہیں ۔ انبیاء کا سلسلہ مکمل ہوا ، اب کونسا وسیلہ ہے جو اللہ کی ذات تک پہنچنے میں مدد کرے گا ۔ حکم ہے کہ تلاش کرو ۔ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو ۔ ایک وسیلہ تو قرآن ہے اور دوسرا وسیلہ اللہ کے نبیؐ نے کیا بتایا ، اسے تلاش کرنے کی ضرورت تھی ۔ ہم اس دوسرے وسیلے کی تلاش میں ہر شعبدہ باز کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں ۔ اللہ کے نبی کی ذات سے جڑے تعلق بھی وسیلہ ہیں ۔ اللہ نے تلاش کرنے کا حکم دیا تو ہمیں وہ راہ تلاش کرنا ہو گی ، وہ تعلق تلاش کرنا ہو گا جو وسیلہ بن سکے ۔ میری نظر میں اہل بیت ، صالحین اور قرآن بہترین وسیلے ہیں ۔ جن کو ہم نے نظر انداز کر رکھا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Monday, 9 April 2018
وسیلہ تلاش کرو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment