Monday, 9 April 2018

خیرات میں بخل

ہم نے اپنے لئے بڑے بڑے گھر بنا لئے - جائز نا  جائز کی تمیز کیے بغیر مال و زر جمع کرنے کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا -
ہم کتنے بے خبر ہیں کہ وہ جمع کیا جو ہمارا نہیں , جو ہمارے کسی کام نہیں آنے والا -
ہم جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے - صرف اپنی اغراض کی پرستش کو حصول زندگی سمجھتے رہتے ہیں -
چند سجدے , ریا کاری سے بھری ہوئی عبادت , کبھی کبھی رستے چلتے بھکاری کو چند سکوں کی خیرات , لوٹی ہوئی دولت میں سے چند پیسے کسی عبادت گاہ کی تعمیر پر دان کر دینے سے سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم نے حق زندگی ادا کر دیا -
اپنے نفس کی غلامی کرتے رہتے ہیں اور اسی کشمکش میں زندگی کا سفر اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے -
برائیوں سے بھرا ہوا دامن , حق تلفیوں میں لتھڑے ہوۓ ہاتھ , اور گناہوں سے پراگندہ چہرہ لئے سفید کفن پہننے کا وقت سر پہ آ جاتا ہے -
پھر دل کرتا ہے , نیکیاں کرنے کا , دوسروں کی بھلائی سوچنے کا , صدقه جاریہ کے کام کرنے کا -
کف افسوس ملتے ملتے سب چھوڑ چھاڑ کر چلے جاتے ہیں  , کہانی ختم ہو جاتی ہے -
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment