Monday, 9 April 2018

زمین پہ بسنے والوں کی اکثریت

" زمین پہ بسنے والوں کی اکثریت "
سورہ انعام ( ١١٦ ) اللہ سبحانہ تعالی نے حکم فرمایا ۔
" اگر تم زمین پہ۔بسنے والوں کی اکثریت کے پیچھے چلو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ  کر ڈالیں گے ۔ وہ تو وہم و گمان کی اتباع کرتے ہیں اور اسکے سوا کچھ نہیں کہ اندازے لگاتے رہیں  "
تخلیق آدم سے شیطان ، پوری توانائی سے برائی کو پھیلانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔ تاریخ انسانی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بھلائی کی راہ پر چلنے والے اکثریت میں ہوں ۔ اسکی ایک وجہ تو یہ رہی کہ اللہ پاک نے انسان کو شعور دے کر آزاد کر دیا کہ وہ برائی اور اچھائی کی تمیز کرے اور خود فیصلہ کرے کہ اسے برائی کیطرف جانا ہے یا اچھائی کیطرف ۔ اس برائی اور اچھائی میں فرق بیان کرنے کیلئے اللہ نے انبیاء کا طویل سلسلہ جاری رکھا ۔ تاکہ انسان یہ عذر اختیار نہ کرلے کہ اسے علم ہی نہیں ہوا اور اسے ہدایت کیطرف بلانے والا کوئی نہیں تھا ۔ برائی میں کشش بھی ہے اور  شیطان زندگی کی چکا چوند بھی شامل کرکے انسان کی توجہ مرکوز کرتا رہا ۔ اور کرتا رہتا ہے ۔ اللہ پاک اپنے بندوں سے آزمائش کا عمل بھی دہراتا رہتا ہے ، امتحان لیتا رہتا ہے تاکہ درجات بنائے جائیں ۔ جو مشکل بھی ہوتے ہیں اور چکا چوند بھی نہیں ہوتی ۔ قدم قدم پر پابندیوں کے باعث اچھائی ہمیشہ اقلیت ہی رہی ۔ اب اللہ کا ارشاد کہ ایمان کیطرف راغب لوگوں سے ہے کہ تم اکثریت کے پیچھے مت چل نکلنا اگر ایسا کرو گے ، تو جو راہ اللہ نے منتخب کی ہے ، یہ اکثریت اس راہ سے بھٹکا دے گی ۔ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ان کے شعور سے متاثر مت ہو جانا ، یہ گمان اور اندازوں سے کام لیتے ہیں ۔ گمان اور اندازہ انسانی عقل کے تابع ہوتا ہے ۔ اب چونکہ اکثریت گمراہی کیطرف مائل رہتی ہے ، اسلئے ان کے اندازے گمراہی کیطرف ہی لے  کر جائیں گے ۔ ہم نے ایسا ہی کیا کہ تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ، قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ انجام کیا ہوا ، اکثریت کے باوجود باطل مٹ گیا اور اقلیت کے باوجود حق جیتتا رہا ۔ ہم نے اپنے تمام فیصلے اکثریت کی صوابدید پر چھوڑ دئیے ، آج ہمارے سروں پر بدکردار ، بد قماش ، حواس باختہ ، اللہ کے سرکش اور بد اخلاق لوگ مسلط ہو گئے ۔ اس لئے کہ یہ خواب دیکھنے والے تھے اور خواب دکھانے والے تھے ۔ یہ وعدے کرتے ہیں کہ خوشحالی دیں گے اور ہم گمراہ ہو جاتے ہیں ۔ بھول جاتے ہیں کہ کشائش تو وہی دے سکتا ہے جس کے پاس کچھ ہو ۔ خزانوں کا مالک تو اللہ کی ذات ہے ، جس کی بات ہم سنتے بھی نہیں اور مانتے بھی نہیں تو ہمیں کشائش اور خوشحالی کون دے گا ۔  حیرانی اس بات کی ہے کہ قران کے اتنے واضع اعلان کے باوجود ہمارے بہت سارے مذہب سے جڑے لوگ بھی اکثریت کی رائے کو ایمان کیوں بنائے بیٹھے ہیں ۔
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment