" اگر تم کافروں کا کہا مانو گے "
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ "
اگر تم ان کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تمہیں الٹے پاوں پھیر دیں گے ، اور تم گھاٹے میں پڑ جاو گے "
سوال یہ ہے کہ اتنی واضع تنبیہ ، ہمیں کیوں سمجھ نہیں آ رہی ۔ اتنے واضع الفاظ کے بعد بھی ہم کافروں کو اپنا رہبر بنائے بیٹھے ہیں ۔ انکی ماننا تو دور کی بات ہو گئی ہے ۔ ہم تو یہ باور کر چکے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں ۔ ہمارا حکومتی نظام کافروں کا دیا ہوا ،
ہمارا معاشی نظام کافروں کا ، ہمارا عدالتی نظام کافروں کا ، ہمارا معاشرہ کافروں کی طرز پر ، ہمارا تعلیمی نظام کافروں کا عنایت کردہ ۔
ایک ایسا مسلمان ، جو قران کی تعلیمات سے اگاہ نہیں ۔ اسکا عذر تو ہو سکتا ہے کہ مجھے خبر نہیں تھی ۔ مگر ان لوگوں کے پاس کیا عذر باقی ہے ، جو مذہب کی تعلیمات سے بخوبی اگاہ ہیں ۔ ان علماء کے پاس کیا جواب ہے ، جنہوں نے دین کی خدمت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔ انہوں نے اپنے مقلدین کو اللہ کی اس تنبیہ سے اگاہی کیوں نہیں دی ۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں قران پاک کی ہدایت سے سرفراز فرمایا ، ہم نے قران حفظ کر لیا ، تجوید سیکھ لی ، مگر سمجھ نہیں پائے کہ پیغام کیا تھا ۔
ہمیں فلاسفروں کی فلاسفی سمجھ آگئی ، منطق سیکھ لی ، دنیا بھر کے علوم پر دسترس حاصل کر لی ۔ اگر سمجھ نہیں آیا تو قران ۔ ہمیں کچھ مکاتب فکر کے کرتا دھرتا نے ڈرا دیا کہ قران سمجھنا عام ذہن کے بس میں ہی نہیں ۔
یہ ایک سازش تھی کافروں کی ، جو آہستہ آہستہ مسلمانوں کے ذہنوں پہ بٹھا دی گئی ، اور ہمیں الٹے پاوں روشنی چھوڑ کر گمراہی کی طرف موڑ دیا گیا ۔ آج ہم جس مقام پر آچکے ہیں ، اسے روشنی نہیں کہا جا سکتا ۔
یہ سب کافروں کی تقلید کے سبب ہے ۔
ازاد ھاشمی
Friday, 13 April 2018
اگر تم کافروں کا کہا مانو گے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment