Thursday, 8 March 2018

یوم نسواں

" یوم نسواں "
آدم علیہ السلام نے اللہ کے حضور آرزو کی ۔ کہ اے مالک ارض و سماء ، اکیلے میں دل نہیں لگتا ۔ اداسی ہوتی ہے ۔ کوئی مونس و ہمنوا مل جائے تو وقت اچھا گذرے گا ۔ یہ آرزو ، زمین پر نہیں کی ، جنت میں کی ۔ گویا آدم ؑ کو جنت میں بھی تنہائی نے اداس کئے رکھا ۔  یوں لگتا ہے جنت بھی وجود زن سے مکمل ہوتی ہے ۔ پھر  اللہ نے جو تخلیق فرمائی اور وہ بھی آدمؑ کے پہلو سے ، وہ عورت تھی ۔ اس وقت یہ تخلیق ایک رفیق سفر تھی ۔ آدمؑ کی آرزو کی تکمیل تھی ، ایک استراحت تھی ۔
پھر یہ وجود عروج کیطرف بڑھایا جانے لگا ۔ بیٹی کے روپ میں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ، عورت کے روپ کی دوسری شان ، ماں کی ہمراز و غمگسار بیٹی کے روپ  میں اور عظمت کے اس مقام پر فائیز ہو گئی ، جہاں جنت اسکے پاوں تلے بنا دی ۔ یہ مقام تھا ماں کا ۔ یہ شان تھی عورت کی ، یہ معراج تھی اس تخلیق کی ۔
ابن آدم کتنا بھی جتن کرلے ، اسے ٹھنڈک ملتی ہے تو بیٹی کے وجود سے ، استراحت ملتی تو بیوی کے قرب سے ، عظمت ملتی ہے تو ماں کی خدمت سے ۔ اسی تخلیق کا ایک اور روپ " بہن " کی شکل میں بھی ہے ۔ ہمدردی کا جو احساس بہن سے ملتا ہے ، اسے کوئی نام ہی نہیں دیا جا سکتا ۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر عورت نہ ہوتی تو نہ تخلیق مکمل ہوتی اور نہ نظام دنیا چل پاتا ۔
سلام ہے تمام صالحہ بیٹیوں کو ، مونس و غمخوار بیویوں کو ، ہمدردی کی تصویر بہنوں کو اور عورت کی معراج ماوں کو ۔
اللہ سبحانہ تعالی کے اس  انعام پر صد تشکر ۔
آزاد ھاشمی

Tuesday, 6 March 2018

حجتیں اور دلیلیں

" حجتیں اور دلیلیں "
جب بھی اسلامی نظام کی بات کی جاتی ہے ، تو جمہوریت کے پروانے تلملا اٹھتے ہیں ۔ جو سوالات اور اعتراضات اسلامی طرز حکومت پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ ان تمام سے جو بات سامنے آتی ہے کہ  اسلامی نظام سے آگہی  کا فقدان ہے ۔ اسلام کا طرز حکومت قران میں واضع طور پر بتا دیا گیا ۔ اور اسوہ حسنہ نے اسکی عملی تصویر سامنے رکھ دی ۔ اب کس دلیل کی ضرورت باقی ہے ۔ رہا یہ اعتراض کہ پوری دنیا میں کہیں بھی اسلامی نظام قائم ہی نہیں ہو سکا ، جس کو مثال بنا کر پیش کیا جائے ۔ جمہوریت سے بہتر نظام موجود ہی نہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
ہر حکومت کے بنیادی پہلووں  کو سمجھ لیا جائے ، تو بہت سارا ابہام از خود دور ہو جاتا ہے ۔
طرز عدل ، تعزیرات ، اصول معیشت ، معاشرت کا نظام ، بنیادی حقوق کا تحفظ ،  عوام کی فلاح کا مربوط کنٹرول ،  اور وسائل کا موزوں استعمال کرنے کو نظام مملکت کہا جاتا ہے ۔ اور یہ تمام پہلو اسلامی طرز حکومت کے لئے پہلے سے واضع شکل میں موجود ہیں ۔ کسی نئے معرکے کی قطعی ضرورت نہیں ۔ 
کوئی ایک جمہوریت کا مبلغ ، کوئی ایک جمہوریت کا پرستار ، بتا سکتا ہے کہ حکمرانی کی سیڑہی کے علاوہ جمہوریت کیا ہے ۔ کیا کوئی ایک امید کی کرن باقی ہے کہ ہم اس طرز حکومت سے بہتری لا سکیں گے ۔ ہمارا چھٹکارا ہو جائے گا کرپٹ لوگوں سے ۔ اگلے سو سال میں صاحب کردار لوگ منتخب ہونے کی  کوئی امید ہے ۔  دنیا میں جتنے بھی ممالک جمہوریت کی اساس پر چل رہے ہیں ۔ کیا ان سب میں مخصوص گروپ ہی حکمران نہیں رہتے ۔ کیا تبدیلی آتی ہے ووٹوں سے ۔ غور تو کرو ۔ سمجھ آ جائے گا ۔ دلیلیں اور حجتیں بے سود لگیں گی ۔
ضرب المثل ہے
من حرامی حجت ہزار
شکریہ
ازاد ہاشمی

قاتک کون

" قاتل کون "
جس عہد میں , سر بازار قتل ہونے لگتے ہیں , قاتل کوئی اور نہیں حکمران ہوتے ہیں - شہر کا داروغہ قاتل ہوتا ہے - جو معاشرہ چپ سادہ لیتا ہے وہ قاتل ہوتا ہے -
آج کے جدید دور میں جب ساری سہولتیں میسر ہیں , دہشت کی لہر کا بار بار اٹھنا , حفاظت کے ذمہ داروں کی مجرمانہ غفلت نہیں مجرمانہ ذہنیت کی عکاس ہے - جب محافظ چند سکوں پر قاتل کی طرفداری کرنے لگیں گے تو مقتول کا خوں یونہی بہتا رہے گا - جب عدل کی کرسی پر مصلحت اندیش قاضی بیٹھا ہو گا , جرم یونہی دندناتا رہے گا - جب حکمران سینکڑوں محافظوں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھے گا , بزدلی مجرموں کو مزید بہادر بناتی رہے گی - جب تک معاشرہ ظلم سہتا رہے گا , تب تک گردنیں کٹتی رہیں گی - فوج , رینجرز اور عسکری ایجنسیز کے دعوے محض طفل تسلی بن گئے , عوام پہلے بھی غیر محفوظ تھے آج بھی قاتلوں کے رحم و کرم پہ ہیں - پولیس کے بڑے بڑے ذمہ دار اپنے دفتروں میں  پہلے بھی  پیسے بناتے تھے اب بھی بنا رہے ہیں - ادارے , حکمران , سیاستدان اور دیگر ذمہ دار , جب ناکامی دیکھتے ہیں تو کبھی کسی سیاسی جماعت کو , کبھی کسی کالعدم تنظیم کو , کبھی ہمسایہ ملکوں کی ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہرا کر پہلو تہی کر جاتے ہیں - عوام پھر خاموشی سے اگلے قتل کا انتظار کرنے لگتے ہیں - چند روز اخبارات پر واویلا ہوتا ہے , چند لاکھ مقتول کے وارثوں کو حکمران دے کر تصویریں چھپوا لیتے ہیں - اور بات پرانی ہو جاتی ہے - جرم کی بیخ کنی کیلیے نہ کوئی قانون بنا نہ کوئی موثر آپریشن ہوا اور نہ کوئی تحریک اٹھی - ایک سوال کل بھی تھا آج بھی ہے کہ یہ قتل صرف اور صرف غریب کا کیوں - یہ قاتل ارباب اقتدار سے انتقام لینے کی بجاے غریبوں سے کیوں لیتے ہیں - پروفیسر , ڈاکٹر , علماء , بسوں کے مسافر اور غریب راہگیر کیوں نشانہ بنتے ہیں - مذھب سے وابستہ لوگ کبھی قاتل اور دہشتگرد نہیں ہوتے - مذھب یا عقیدہ کوئی بھی ہو , امن کا , حسن سلوک کا , باہمی روا داری کا , انسانوں سے  محبت کا پیامبر ہوتا ہے -
اداروں کو , حکمرانوں کو کہانیاں گھڑنے سے اجتناب کرتے ہوے اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہو گا اور اپنے فرائض کو بغیر کسی مصلحت کے پورا کرنا ہو گا - نہیں تو قاتل کسی بھی آنگن میں گھس جایگا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

ہم اور ہماری خارجہ پالیسی

" ہم اور ہماری خارجہ پالیسی "
ہم سب شکایت کرتے ہیں کہ انڈیا ہر میدان میں پاکستان سے بازی لئے جا رہا ہے - تجارت میں قریب قریب دنیا کی ساری مارکیٹوں سے پاکستان نکل چکا ہے - پچھلے کئی سال سے چاول جیسی جنس گوداموں میں پڑی ہے کوئی خریدار نہیں - اگر کوئی ہے تو انڈیا کے تاجر - باہمی تعلقات میں ہمارے بہترین دوست ممالک بھی رحجان بدل رہے ہیں - یوں لگتا ہے کہ چند سال میں ہم دیوار کے ساتھ لگ جایئں گے - ہماری پہچان صرف اور صرف ایک فسادی , دہشت گرد قوم کے سوا کچھ نہیں ہو گی - ظاہر ہے جب گاہک نہیں ہو گا , تجارت ختم ہو جایئگی , معاشی بدحالی کو روکنا ممکن نہیں ہو گا - اگر اسباب پر نظر کی جاے تو ہر زبان پہ ایک ہی فقرہ ہو گا - کہ ہمارے سفارتی ادارے نا اہل ہیں -
بات یہ بھی غلط نہیں , اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے سفیروں کے پاس کوئی ایسا مشن نہیں ہوتا , جس سے کوئی ملکی مفادات ہوں یا وہاں پہ ہموطنوں کیلیے کوئی منصوبہ ہو - نہ جانے  وہ کونسے خفیہ مشن ہوتے ہیں جن کیلیے بھاری اخراجات ملکی وسائل پہ ڈالے جاتے ہیں - اگر مزید گہرائی میں جایں تو یہ بھی حقیقت ہے کہ جسقدر دوسری کمیونٹی متحرک ہوتی ہیں  اور اپنی قومی مفادات سے مخلص ہوتی ہیں - ہم اتنے مخلص نہ انفرادی طور پہ ہیں نہ اجتماعی طور پہ -
ایسی قوم کا پیچھے رہ جانا کوئی اچنبھا نہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

اللہ کرے

الله کرے
کہ رمضان کی برکتیں ہر مسلمان کو ہدایت کی راہ پر گامزن کر دیں - انسانی ہمدردی کا مردہ جذبہ پھر سے زندہ ہو جاے - ہمیں ہماری بھوک اور پیاس ہر بھوکے اور پیاسے کا احساس دلا دے - ہماری آسائشیں ہمارے بھائیوں کی ضروریات پوری کرنے میں تبدیل ہو جایں - ہمارے دستر خوانوں پہ غریبوں اور مستحق لوگوں کی جگہ بن جاے -
الله کرے
کہ ہماری عبادات صرف رب کی رضا کیلیے ہو جایں , دکھاوا  اور  ریا ہماری عبادات سے نکل جاے - ہمیں شکر کا میٹھا پھل نصیب ہو جاے - ہم الله کی پاک ذات پر توکل کرنے لگیں - ہم الله کے پیارے حبیب کے اسوہ کو اپنی رہنمائی کے لئے منتخب کر لیں -
الله کرے
کہ ہم باہمی خلفشار چھوڑ کر اخوت اور یگانگت کی رسی پکڑ لیں - ہم شرک , کفر اور منافقت سے دور ہو جایئں -
الله کرے
کہ ہمارے تمام مسلمان بھائی , جہاں جہاں بھی ہیں , امن اور سلامتی سے رہیں -
الله کرے
کہ تمام مسلمان رہنما حقیقی طور پہ نظام اسلام سے مخلص ہو جایئں - اور کفر کی تائید سے باز آ جایئں -
الله کرے الله کرے -
آمین
آزاد ہاشمی

ناصع بھی بادہ کیش نکلا

" ناصح بھی بادہ کیش ہے "
ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ ہم جسے اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں ۔ جس کی مسیحائی کو آخری ضرورت خیال کرتے ہیں ۔ اسکے ھاتھ کا وہ خنجر نہیں دیکھتے جو اسنے کمر کے پیچھے چھپا رکھا ہوتا ہے ۔ ہر دور میں ایک ہی آواز اٹھتی ہے کہ حکمران وطن کو لوٹ رہے ہیں ۔ پھر شور مچانے والے خود آ جاتے ہیں ۔ تو دوسرے وہی راگ الاپنے لگتے ہیں ۔ یہ سمجھنا کہ سچ کیا ہے نا ممکن ہو گیا ہے ۔
ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اللہ نے ہمیں جو شعور بخش رکھا ہے ہم نے اسے استعمال کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ، ورنہ یہ سمجھنا نہایت آسان ہے کہ سب کے سب سیاستدان تاجر ہیں ۔ انتخابات پہ سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ضرب کے عمل سے منافع کماتے ہیں ۔
صرف ایک سوال ان ہمدردان ملک و ملت سے کہ کیا وہ مراعات جو وہ اسمبلی ممبر ہونے کے ناطے حاصل کرتے ہیں ۔ انکا جائیز استحقاق ہے ۔ کیا اسے کرپشن کا نام دینا غلط ہے ۔ کیا یہ ملکی وسائل کا بے جا استعمال نہیں ۔ اس جرم میں کون کون شامل نہیں ۔
کوئی بتانے کی زحمت کرے گا کہ یہ سارے نیلی ، پیلی ، گلابی میٹرو ، ٹرین ، پل ، سڑکیں اتنی اہم ہیں تو ہسپتال ، کارخانے ، تعلیمی ادارے ، تحقیقی انسٹیٹیوٹ  ، زراعت پر عدم توجہ کا کوئی تو سبب ہو گا ۔ شائد اسکی وجہ وہ کمیشن ہے جو اصل وجہ دلچسپی ہے ۔
ہم جن ناصحین کی تقلید میں چل نکلتے ہیں ، پتہ یہی چلتا ہے کہ وہ خود بھی بادہ کیش ہیں ۔ وقت ملا تو وہ بھی ملکی وسائل کے جام پہ جام  لنڈھائیں گے ۔
اس ساری بے راہروی کو روکنے کا ایک ہی حل ۔ اسلام کا نظام ۔
یہ وہ چھلنی ہے جس سے سارا گند الگ ہو جائے گا ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

جنگ کا شوق

" جنگ کا شوق "
اسلام امن کا درس دینے والا مذہب اور ہمارے پیارے ہادی و رہنما صل اللہ علیہ وسلم پوری کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے  ۔ آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ انسانیت کی بہتری اور فلاح کی کوشش سے معمور ہے ۔ غزوات اور سرائیہ کسی جنگی خواہش یا کفار کو مغلوب کرنے کی غرض سے نہیں ، فساد اور فتنہ روکنے کی ضرورت کے تحت کرنا پڑے ۔
جہاد یلغار کا نام نہیں بھلائی پھیلانے اور برائی روکنے کی کوشش کا نام ہے ۔
ہم مسلمانوں کے بارے میں ایک رائے قائم کر لی گئی یے کہ ہم جنگجو قوم ہیں اور ہمارا دین ہمیں لڑائی کا درس دیتا ہے ۔ اس تاثر کو تقویت اسوقت ملتی ہے جب ہم عقل و شعور کا دامن چھوڑ کر جذبات سے مغلوب ہو جاتے ہیں ۔ ہر شخص آمادہ پیکار نظر آنے لگتا ہے ۔ اسے ہم نے جذبہ ایمانی کا نام دے رکھا ہے ۔ حقائق سے چشم پوشی کے ساتھ کئے جانے والے فیصلے نہ ایمانی جذبہ ہے نہ قومی ۔
حقائق یہ ہیں کہ ہم سفارتی اعتبار سے نا اہل ہیں ، ہمارے رہنما منڈی میں بکنے والی جنس بن چکے ہیں ۔ جب ہر طرف سے ناکامی گلا دبوچ لیتی ہے تو ہمیں جھگڑنے کی راہ آسان لگتی ہے ۔ ایک قوم جو معاشی پسماندگی کا شکار ہے ، جس کے اپنے گھر میں خلفشار ہے ، جسکے ارباب اقتدار خود غرض اور بد دیانت ہیں ، جسکی کھوکھ غداروں سے بھری پڑی ہے ، جسکے سفارتکار آرام طلب اور نا اہل ہیں ۔ جنگ کے اہل نہیں ہو سکتی ۔ جنگوں کے اثرات عوام کو بھگتنے پڑتے ہیں جرنیلوں کو مراعات ملتی ہی رہتی ہیں ۔
حقائق یہ ہیں کہ ہمارا دشمن ہر میدان میں متحرک ہے ، ثقافتی ، سفارتی ، سماجی ، تجارتی اور معاشی میدان میں ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے ۔ اگر ہم کو جنگ کا اتنا ہی شوق ہے تو توپ و تفنگ کے علاوہ یہ سارے میدان باقی ہیں ۔ یہی جذبہ ان میدانوں میں کیوں نہ آزمایا جائے  ۔
یاد رکھیں ، جنگیں تباہی لے کر آیا کرتی ہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی

تعلیم مساوی حق

تعلیم ایک ایسا شعبه ہے , جو کسی بھی فرد , کسی بھی گھر , کسی بھی قوم اور کسی بھی ملک کی تقدیر ہوتا ہے - اس شعبه سے وابستہ لوگ خدمت کا نشان ہوتے ہیں , اور یہ لوگ قوم کی بنیاد رکھتے ہیں - علم کی روشنی کو پھیلانا , ایک متبرک کام ہے - آج وہ تمام قومیں , جن کے پاس قدرتی وسائل موجود ہی نہیں , علم کے بل بوتے پر راج کر رہی ہیں - اور بہت سے ممالک جن کو الله نے قدرتی خزانوں سے نواز رکھا ہے , قرضوں اور امداد پر جی رہے ہیں , صرف  تعلیم میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے -
ہماری قوم میں تعلیم کے ادارے سراسر کمرشل ہیں - اور اس شعبه کو  متوسط طبقے کی پہنچ سے دور کر دیا گیا ہے - غریب کے لئے تو یہ راستہ بند ہو چکا ہے - یہ وہ اہم موڑ ہے , جس پر ہم سب کو سوچنے اور متحرک ہونے کی ضرورت ہے - ہم اپنے لیڈروں سے اپنے محلوں  , قصبوں اور دیہاتوں کی گلیوں , سڑکوں اور دیگر ضرورتوں پر تو اسرار کرتے ہیں - مگر اپنی نسلوں کی تعلیم کے حق کی کبھی بات نہیں کرتے -
تعلیم ایسا حق ہے , جس کی تمام تر ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے - کہ وہ تمام تر وسائل فراہم کرے کہ ہر بچہ تعلیم حاصل کر سکے - یہ شعبه کسی بھی طور تجارتی نہیں ہونا چاہیے - یہ وہ تحریک ہے , جس پہ ہر شہری کو فکر کرنی چاہیے اور اسے عملی شکل میں لانے کر ممکن کوشش کرنی ہو گی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

بے نام رشتے

کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں , جن کو نام دینا مشکل ہو جاتا ہے - مگر ان رشتوں کی خوشی اپنے خون کے رشتوں کی طرح عزیز ہو جاتی , اور انکے پاؤں میں لگنے والے کانٹے کی چبھن اپنے دل میں محسوس ہوتی ہے - بن دیکھے , بن ملے بھی احساس کا رشتہ اتنا مضبوط ہو جانا , نہ فہم قبول کرتا ہے اور نہ روایات میں مثال ملتی ہے -
ایسا ہی رشتہ میری زندگی کی کتاب کی ایک کہانی بن گیا - وہ ایک با وقار افسر اور ذہین نوجوان ہے - نہ گردن میں افسرانہ اکڑ , نہ لہجے میں تیکھا پن - ہر ضرورت مند کی مدد کے لئے تیار - گفتار میں مٹھاس - نوجوانی میں بھی مکمل سنجیدگی - ایسی بہت ساری خوبیوں نے اسے میرے اپنے بچوں کی طرح میرے روح کا حصہ بنا دیا -
ایک تذبذب پہلے دن سے میرے لئے سوال تھا کہ جب بھی بات ہوتی , وہ بات کرتے کرتے کہیں گم ہو جاتا - میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کسی دن یہ راز جاننے کی کوشش کروں گا - دو دن پہلے جب یہ راز پتہ چلا تو میں خود بھی اسی کیفیت کا شکر ہو گیا - اس کے دل پہ ایک ایسا گہرا گھاؤ تھا , جس درد کسی بھی علاج سے نہیں رکتی - اسکی دو بہنیں , عروسی لباس میں , چند منٹوں کے اندر , اسکی نظروں کے سامنے جل  گئیں - وہ کچھ نہیں کر سکا - پھول جیسی بچیاں یوں جل کر راکھ ہو جایں گی - اور بھی عروسی لباس میں - ایک قیامت گزر گئی پورے گھر پہ - ماں مبہوت ہوۓ بچیوں کے عروسی لباسوں کی جگہ کفن دیکھ رہی تھی - چاہوں بھی تو درد کی کیفیت نہیں لکھ سکتا - ایسے درد ہر پیمانے سے باہر ہوتے ہیں -
اب سوچتا ہوں , اس گھر میں کبھی کوئی شہنائی نہیں بجے گی , جب بھی کوئی شادی ہوتی ہو گی , ماں مر جاتی ہو گی - بہن بھائی آنسو نہیں روک پاتے ہوں گے -
اب اسکا فون آتا ہے تو ڈرتا ہوں کہ کیسے ہنسی خوشی کی باتیں کروں  گا - کیسے اسکے زخموں کی درد بانٹوں گا -
الله ! سے وہ ہمت مانگ رہا ہوں کہ اپنے اس رشتے کی لاج نبھا سکوں - وہ مرہم مل جاے جو اسکے زخم پہ رکھ سکوں -
الله سے وہ سکون مانگ رہا ہوں جو اس گھر کو ضرورت ہے -
الله سے انصاف مانگ رہا ہوں - بچیوں کے لئے جنّت کے بلند مقام مانگ رہا ہوں -
گھر والوں کے لئے وہ نعمتیں مانگ رہا ہوں , جو اس زخم کی درد مٹا دیں - الله کریم بھی ہے قدیر بھی -
وہ ضرور سنے گا -
آزاد ہاشمی

کون جیتا ، کون ہارا

" کون جیتا کون ہارا "
یہ فکر چھوڑو - یہ پانسے پھینکنے کا کھیل ہے - جو جتنی اچھی چال چلے گا , وہی جیتے گا - اس میں نہ کردار کا کوئی رول ہے , نہ شرافت کا , نہ حب الوطنی کا اور نہ کسی مثبت سوچ کا -
اس کھیل میں اصل شکست میری اور آپکی ہے - ایسی شکست جس میں ہم نے اپنی عقل و فہم , اچھائی کی ہر  امید , اپنے ضمیر کی آواز , اپنے بچوں کا مستقبل اور اپنے دین سے وابستگی ہار دی ہے - ہم ان لوگوں کی جیت پر خوش ہیں , یا ان لوگوں کی شکست پر اشکبار , جن کا ہم سے کوئی رشتہ ہی نہیں - جو کرسی پر بیٹھنے کے بعد بادشاہ بن جاتے ہیں - ہمارے حصوں کی روٹیاں بھی چھین کر اپنے محلوں پہ لگا دیتے ہیں - ہمارے بچوں سے تختی اور سلیٹ بھی دور کر کے اپنے بچوں کو یورپ پڑھنے بھیجتے ہیں - ہم غلاموں کو جنم دیتے ہیں اور یہ آقا جنتے ہیں - ہم سے زندگی بچانے کا حق چھین لیتے ہیں اور خود سر درد کا علاج یورپ سے کراتے ہیں - ہمارا پیسہ ہم سے چھین لیتے ہیں اور ہمارے لئے مانگی ہوئی بھیک بھی ہڑپ کر جاتے ہیں - ہماری نسلوں کو بیچ کر اپنے بنک بنائے بیٹھے ہیں - یہ سب درندے اور ہم سب بھیڑیں بن گئے ہیں -
بتایے شکست کس کو ہوئی - اور کون جیتا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

اپنا احتساب

سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں - مگر ہم جب بھی کرتے ہیں دوسروں کا احتساب کرتے ہیں - اپنی کوتاہیاں , برائیاں اور عیبوں پر کبھی غور نہیں کرتے - چھوٹی سی نیکی کر کے اسکی تشہیر میں لگ جاتے ہیں - اور اسکی داد طلب کرتے ہیں - یہ انداز سوچ ہمیں خود بین بنا دیتا ہے - یہ ایک ایسا غلط انداز فکر ہے کہ ہم اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی برائیوں کو اکٹھا کرنے لگ جاتے ہیں - اور اپنے دائیں بائیں نیکیوں کے مواقع نظر انداز کر دیتے ہیں -
عبادت  کلی طور پر بندے اور رب کا معاملہ ہے - اسے بھی ہم دنیاوی فوائد کے لئے سہارا بنا لیتے ہیں , جس  سے عبادت  کی روح ہی ختم ہو جاتی ہے - ایک تشہیر بن کر رہ جاتی ہے -
حقوق العباد جو عبادت کا ایک ایسا رخ ہے , جس سے دنیاوی راحت بھی ملتی ہے اور الله کی رضا بھی - ایک چھوٹی سی نیکی بخشش کا سبب بن سکتی ہے - مگر ہم اسطرف سے غافل رہتے ہیں - کسی یتیم کے سر پہ رکھا ہوا  دست شفقت , کسی مریض کی زندگی بچانے کی کوشش , کسی فاقہ کش کو دیے ہوے چند لقمے , کسی غریب بچی کی شادی , کسی مظلوم کی داد رسی اور نہ جانے کتنے مواقع ہمارے ارد گرد موجود ہیں , جو ہماری بخشش کا یقینی سبب ہو  سکتے ہیں - ہم اگر اپنا اپنا احتساب کریں , تو شاید پوری زندگی میں بھی ایک ایسا موقع حاصل نہیں کر سکے ہونگے - ہم اگر احتساب کریں تو ہم اسراف سے ہاتھ روک کر , خدمت خلق کر دیں , تو کتنی رحمتوں کے حقدار ہو سکتے ہیں -
اگر ہم غور کریں کہ اگر ہم حقوق العباد کو بھی ایک عبادت سمجھ لیں تو ہمارے معاشرتی مسائل کسقدر کم ہو جاینگے -
آئیے ! اس کار خیر میں انفرادی یا اجتماعی طور پہ جو بھی کر سکیں وہ کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

دعا

اے مالک ارض و سما ! 
اے دلوں کے بھید جاننے والے !
اے معاف اور در گزر کرنے والے !
اپنے پیارے حبیب کے ہر امتی کو اپنی رحمتوں سے نواز , ہر بیمار کو شفا کی نعمت سے سر فراز فرما , ہمارے دلوں کی کدورتوں کو دور فرما , جو تیرے راستے سے بھٹک چکے ہیں انہیں ہدایت کی روشنی عطا کر , جو ظالموں کے ظلم کا شکار ہیں انکی مدد فرما , ہر بے اولاد کو اولاد سے نواز دے , تیرے حبیب کے ہر امتی کو کافروں , مشرکوں , حاسدوں , اور لا دینوں  کے غلبے سے نجات دے , ہمارے دلوں کو اپنی اور اپنے حبیب کی محبت سے بھر دے -
تو کریم ہے , ہم تیری کریمی کے سوالی ہیں , ہم تیری پناہ مانگتے ہیں ہر اس کام سے , ہر اس ارادے سے جس میں تیری رضا نہ ہو -
ہمیں مانگنا نہیں آتا , ہمیں بن مانگے عطا فرما - ہماری ٹوٹی پھوٹی دعاؤں کو قبول فرما -
آمین
آزاد ہاشمی

صرف ایک جماعت

" صرف ایک جماعت "
جب ہم اپنے وطن کی سیاسی بساط کو دیکھتے ہیں ،  تو تقریباً تمام پارٹیاں ایک ہی محور کے گرد گھومتی ہیں اور وہ ہے جمہوریت ۔ رفتہ رفتہ یہ تصور ہی ختم ہو گیا کہ جمہوریت کے سوا کوئی چارہ کار باقی ہے ۔ مذہب کی چادر اوڑھے ہوئے قائدین بھی جمہوریت کو لازم قرار دینے پر بڑی شد و مد سے متحرک ہیں ۔ صرف ایک امید باقی تھی کہ اگر اسلامی نظام کو لایا جا سکتا ہے تو وہ صرف ایک ہی جماعت ہے جو منظم بھی ہے اور فعال بھی ۔ ایک قابل احترام دوست لکھتے ہیں کہ اگر انہیں دو لاکھ فعال کارکن مل جائیں تو انقلاب کی نوید سنانے کا یقین دلاتے ہیں ۔ میں محترم دوست کی بات سے کلی طور پر اتفاق کرتا ہوں ۔ اگر اسی پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو یہ سعادت جماعت اسلامی کو حاصل تھی کہ وہ ایک دعوت پر لاکھوں منظم کارکنوں کو میدان میں لے آتے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے میدان میں آنے سے ایک جم غفیر ساتھ ہوتا ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ جماعت نے بھی قوم و وطن سے شطرنج ہی کھیلا ۔ انہیں بھی جمہوریت کی سواری  ہی میں اسلام کا نفاذ دکھائی دیتا ہے ۔  منجھے ہوئے دانشور کارکن بھی اپنی قیادت کی ویسی ہی پرستش کرتے نظر آتے ہیں ، جیسی دوسری پارٹیوں میں ہے ۔ وہ  مراعات   جو   جو دوسرے اراکین اسمبلی حاصل کرتے ہیں ، وہی یہ اسلام کے مجاہد ہونے کے دعویدار کر رہے ہیں ۔ اسلامی نظام کا انقلاب لانے میں اسے رکاوٹ سمجھنا شائد غلط نہیں ۔ اکثر دوست کہتے ہیں قوم ووٹ دیکر اسمبلی انکے حوالے کرے  تو پھر وہ انقلاب لا کر دکھائیں گے ۔ میں اپنی ناقص عقل کے تحت سمجھتا ہوں کہ انقلاب لانے کے لئے جس طاقت کی ضرورت ہے وہ پہلے سے انکے پاس ہے ۔ انکے پاس لاکھوں لوگ ہمہ وقت موجود ہیں ۔ رہی اسمبلی میں اکثریت تو شائد یہ محض پہلو تہی کا طریقہ ہے ۔ یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مینڈیٹ بڑھنے کی بجائے کم ہو رہا یے ۔ اسلام کے نظام کا تصور بہت تیزی سے ذہنوں سے نکل رہا ہے ۔  وقت کو سمجھنے اور ایکشن لینے کی  ضرورت  آج ہے ۔ 
شکریہ
آزاد ہاشمی

اے میری ماں

" اے میری ماں "
چوالیس سال پہلے جب میرے والد محترم اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ اللہ انہیں جنت نصیب کرے ۔ میرے کندھے بہت کمزور تھے اور بوجھ بہت زیادہ تھا ۔ نہ دل گبھرایا نہ ہمت نے ساتھ چھوڑا ۔ چند آنسو بہے اور قرار آگیا ۔ کیوں ۔ پتہ نہیں چلا ۔ امتحان آتے رہے ، اور گذرتے رہے ۔ لوگ سمجھتے رہے اور کہتے رہے کہ میں بہت دلیر ہوں ۔ یہ سچ بھی تھا اور وقت کی ضرورت بھی ۔ در اصل میرے پاس دعا کے لئے اٹھنے والے ہاتھ تھے ۔ سکون دینے والی ایک آغوش تھی ۔ سر رکھ کر رونے کو ایک کندھا تھا ۔ میری جرات کا سارا بھرم اسی پہ قائم تھا ۔ آج یہ سہارا مجھ سے دور چلا گیا ۔ نہ آنکھیں سوکھ رہی ہیں نہ دل کو چین آرہا ہے ۔ چیخ چیخ کر رونے کو دل چاہ رہا ہے ۔ منوں مٹی تلے پڑی ماں سے لپٹ کر اپنی ضدیں دھرانے کو من کر رہا ہے ۔ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ اے ماں ، یہ تو بتا جا ، اب کس کندھے پہ یہ سر رکھوں ۔ کس سے چپکے چپکے ان دعاؤں کے لئے کہوں ، جو دنیا کی دلدلوں سے نکالے ۔  آخر کیا حرج تھا چند سال اور رک جاتیں ۔  تیرے بغیر نہیں جی سکوں گا ۔ نہیں جی سکوں گا ۔  نہیں جی سکوں گا ۔  تم جانتی ہو ، جو کہتا ہوں کرتا ہوں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی