" حجتیں اور دلیلیں "
جب بھی اسلامی نظام کی بات کی جاتی ہے ، تو جمہوریت کے پروانے تلملا اٹھتے ہیں ۔ جو سوالات اور اعتراضات اسلامی طرز حکومت پر اٹھائے جاتے ہیں ۔ ان تمام سے جو بات سامنے آتی ہے کہ اسلامی نظام سے آگہی کا فقدان ہے ۔ اسلام کا طرز حکومت قران میں واضع طور پر بتا دیا گیا ۔ اور اسوہ حسنہ نے اسکی عملی تصویر سامنے رکھ دی ۔ اب کس دلیل کی ضرورت باقی ہے ۔ رہا یہ اعتراض کہ پوری دنیا میں کہیں بھی اسلامی نظام قائم ہی نہیں ہو سکا ، جس کو مثال بنا کر پیش کیا جائے ۔ جمہوریت سے بہتر نظام موجود ہی نہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
ہر حکومت کے بنیادی پہلووں کو سمجھ لیا جائے ، تو بہت سارا ابہام از خود دور ہو جاتا ہے ۔
طرز عدل ، تعزیرات ، اصول معیشت ، معاشرت کا نظام ، بنیادی حقوق کا تحفظ ، عوام کی فلاح کا مربوط کنٹرول ، اور وسائل کا موزوں استعمال کرنے کو نظام مملکت کہا جاتا ہے ۔ اور یہ تمام پہلو اسلامی طرز حکومت کے لئے پہلے سے واضع شکل میں موجود ہیں ۔ کسی نئے معرکے کی قطعی ضرورت نہیں ۔
کوئی ایک جمہوریت کا مبلغ ، کوئی ایک جمہوریت کا پرستار ، بتا سکتا ہے کہ حکمرانی کی سیڑہی کے علاوہ جمہوریت کیا ہے ۔ کیا کوئی ایک امید کی کرن باقی ہے کہ ہم اس طرز حکومت سے بہتری لا سکیں گے ۔ ہمارا چھٹکارا ہو جائے گا کرپٹ لوگوں سے ۔ اگلے سو سال میں صاحب کردار لوگ منتخب ہونے کی کوئی امید ہے ۔ دنیا میں جتنے بھی ممالک جمہوریت کی اساس پر چل رہے ہیں ۔ کیا ان سب میں مخصوص گروپ ہی حکمران نہیں رہتے ۔ کیا تبدیلی آتی ہے ووٹوں سے ۔ غور تو کرو ۔ سمجھ آ جائے گا ۔ دلیلیں اور حجتیں بے سود لگیں گی ۔
ضرب المثل ہے
من حرامی حجت ہزار
شکریہ
ازاد ہاشمی
Tuesday, 6 March 2018
حجتیں اور دلیلیں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment