Tuesday, 6 March 2018

ہم اور ہماری خارجہ پالیسی

" ہم اور ہماری خارجہ پالیسی "
ہم سب شکایت کرتے ہیں کہ انڈیا ہر میدان میں پاکستان سے بازی لئے جا رہا ہے - تجارت میں قریب قریب دنیا کی ساری مارکیٹوں سے پاکستان نکل چکا ہے - پچھلے کئی سال سے چاول جیسی جنس گوداموں میں پڑی ہے کوئی خریدار نہیں - اگر کوئی ہے تو انڈیا کے تاجر - باہمی تعلقات میں ہمارے بہترین دوست ممالک بھی رحجان بدل رہے ہیں - یوں لگتا ہے کہ چند سال میں ہم دیوار کے ساتھ لگ جایئں گے - ہماری پہچان صرف اور صرف ایک فسادی , دہشت گرد قوم کے سوا کچھ نہیں ہو گی - ظاہر ہے جب گاہک نہیں ہو گا , تجارت ختم ہو جایئگی , معاشی بدحالی کو روکنا ممکن نہیں ہو گا - اگر اسباب پر نظر کی جاے تو ہر زبان پہ ایک ہی فقرہ ہو گا - کہ ہمارے سفارتی ادارے نا اہل ہیں -
بات یہ بھی غلط نہیں , اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ہمارے سفیروں کے پاس کوئی ایسا مشن نہیں ہوتا , جس سے کوئی ملکی مفادات ہوں یا وہاں پہ ہموطنوں کیلیے کوئی منصوبہ ہو - نہ جانے  وہ کونسے خفیہ مشن ہوتے ہیں جن کیلیے بھاری اخراجات ملکی وسائل پہ ڈالے جاتے ہیں - اگر مزید گہرائی میں جایں تو یہ بھی حقیقت ہے کہ جسقدر دوسری کمیونٹی متحرک ہوتی ہیں  اور اپنی قومی مفادات سے مخلص ہوتی ہیں - ہم اتنے مخلص نہ انفرادی طور پہ ہیں نہ اجتماعی طور پہ -
ایسی قوم کا پیچھے رہ جانا کوئی اچنبھا نہیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment