Monday, 5 March 2018

ہماری تنخواہ بڑھاو

" ہماری تنخواہ بڑھاؤ "
یہ مطالبہ قوم کے درد میں مبتلا پارلیمنٹ ممبران کا ہے - ان کا فرمانا ہے کہ اتنی کم تنخواہوں پر دستخط کرتے ہوۓ انہیں شرم محسوس ہوتی ہے - ایک
اچھا شگون یہ ہے کہ انہیں اب شرم تو محسوس ہونے لگی - یہ ایک چیز تھی جو سیاستدانوں کی لغت میں نہیں ہوا کرتی - کیونکہ شرم کا احساس ضمیر کے زندہ ہونے سے مشروط ہوتا ہے -
کاش یہ شرم اس وقت بھی محسوس ہونے لگے , جب انکے ووٹرز  دس بارہ ہزار میں اپنا گزر کرتے ہیں اور انکی شنوائی کہیں نہیں ہوتی - کاش یہ شرم ا سوقت بھی محسوس ہو جب جعلی ڈگریوں پہ انتخاب لڑتے ہیں - جب ترقیاتی فنڈ ہضم کر جاتے ہیں - جب بوگس ووٹوں سے اسمبلی میں پہنچ جاتے ہیں - ایک ڈاکٹر , انجنئیر , استاد اور پی ایچ ڈی لیول کے لوگوں کی تنخواہ ساٹھ ہزار سے اسی ہزار کے درمیان ہوتی ہے , جن کو نہ کوئی ترقیاتی فنڈ ملتے ہیں , نہ فون بل میں کوئی سہولت ہوتی ہے , نہ جہاز اور ٹرین کا ٹکٹ فری ملتا ہے , نہ فیملی کو اضافی سہولت دی جاتی ہے - تو پھر ان اسمبلی ممبران کو کونسے سرخاب کے پر لگے ہیں , کونسی قابلیت ہے جس کے بغیر ملکی مشنری رک سکتی ہے , کہ انہیں چار  لاکھ ساٹھ ہزار روپے صرف  تنخواہ دے جاتی ہے , مراعات اور فنڈز کی خرد برد الگ ہے - ان میں سے کتنے ہیں , جو اہلیت کے اعتبار سے پچاس ہزار سے زیادہ کے حقدار ہیں - یہ صاف دامن کا شور کرنے والے سیاسی اور مذہبی لیڈر کہاں ہیں - یہ میڈیا کہاں ہے - یہ صحافی اور دانشور کہاں ہیں - یہ احتساب کرنے والے فرشتے کہاں ہیں - یہ ملک کا قاضی کہاں ہے - - - باقی سب تو اس نظام جمہوریت کے میٹھے پھل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں - مگر یہ احمق ووٹر کہاں ہیں - جن بچے بھی ان سیاسی پنڈتوں نے گروی رکھ دیے ہیں - کیوں نہیں پوچھتے کہ صاحب یہ 60 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ کس بات کی -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment