علماء کو کیا کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے کیا کیا - بغیر کسی فرقہ کی جانبداری سے تجزیہ کرنا چاہیے - ہو سکتا ہے کہ پھر سے موافقت کی راہیں کھل جائیں - ہو سکتا ہے کہ نظام اسلام کی طرف بہتر پیش رفت ہو جاے -
علماء کی حقیقی ذمہ داری کو سمجھا جاے تو وہ مسلمانوں کی تربیت ہے , اور یہ تربیت اسلام کے اصول و ضوابط کے مطابق ہونی چاہیے - لوگوں میں اس کی آگاہی کو عام ہونا چاہیے - مگر ایسا نہیں ہو سکا - اسلام کے بہت سارے اہم مسائل کی آگاہی ایک عام مسلمان کو تو کجا , مذہبی سرگرمیوں میں متحرک لوگوں کو بھی نہیں - جیسے پردہ کے اصول کیا ہیں , مخلوط رہن سہن کا کیا مطلب ہے , بدکاری کی حدود کیا ہیں , حق تلفی کا اسلام میں کیا مقام ہے , جہاد کب اور کیسے لازم ہو جاتا ہے , اسلام میں معیشیت کا طرز کیا ہے , اسلام کا نظام عدل انگریز کے قوانین سے بہتر کیسے ہے - وغیرہ وغیرہ -
ہو سکتا ہے کہ میرا مشاہدہ غلط ہو , مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایسے بہت سارے معاملات کے بارے میں ہمارے زیادہ تر علماء کو بھی خبر نہیں -
ہمارے علماء نے اسلام کے نظام زندگی پر عبور حاصل کرنے کی طرف توجہ ہی نہیں دی - بلکہ فروعی اختلافات پہ سینکڑوں کتابیں لکھ ڈالیں , ہزاروں مذاکرے کر دئیے اور بیشمار مدرسے بنا ڈالے ہیں -
آج میڈیا پہ ان لوگوں کو جس تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے , یہ اسی کمزوری کی وجہ سے ہے کہ یہ اپنی اصل منزل کا تعین نہیں کر سکے -
ہمارا علم بحثیت سنی , شیعہ , اہلحدیث , دیوبندی , بریلوی تو مکمل ہے - نہ دلائل کی کمی ہے , نہ حوالوں کی - مگر بحثیت مسلمان چند باتوں سے آگے کچھ نہیں جانتے - غیر مذاہب کو اپنی دلیل پہ قائل کرنا تو دور کی بات ہے , اپنے لوگوں کے سوالوں کا جواب نہیں ہوتا -
ہمیں بحثیت مسلمان ان حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا - اور اگر طاغوت کا مقابلہ کرنا ہے تو اپنی راہ منتخب کرنا ہو گی -
مزید انتظار یا فرقہ بندی کی دیواریں چنی جاتی رہیں تو وہ دن زیادہ دور نہیں , جب ہم اپنے بچوں کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکیں گے اور ان کو طاغوتی تقلید سے روکنے کے لئے نہ ہی کوئی دلیل ہمارے پاس ہو گی -
جو علماء کا رہا سہا احترام ہے وہ بھی ختم ہو جاے گا -
الله کرے ہم اپنی منزل کی شناخت کر لیں -
آزاد ہاشمی
Monday, 5 March 2018
علماء کو کیا کرنا تھا؟
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment