Tuesday, 6 March 2018

غدار کون

" غدار کون "
جب کوئی طبقہ  مسلسل  استحصال کا نشانہ بنا رہتا ھے- تو فطری طور پہ باغیانہ رحجان جنم لیتا ہے - رفتہ رفتہ یہ رحجان شدت اختیار کر جاتا ھے - اور جب اس شدت کو مسائل کیطرف توجہ کیے بغیر طاقت سے دبانے کی کوشش زور پکڑ جاے ، تو انتقام کی آگ سلگنے لگتی ھے - یہ وہ پہلا زینہ ہے , جہاں سے غداری کا آغاز ہوتا ھے -
ہمیں پہلی سزا اسوقت ملی جب مشرقی پاکستان کے وہ لوگ , بنگلہ دیش بنانے پہ تل گئے  ، جو پاکستان کی اساس میں ہراول دستے میں شامل تھے - طاقت کام نہیں آئی - پاکستان کی تحریک میں بلوچ اور پختون بھی پوری قربانی دے کر پاکستان بنانے میں مساوی کی حصہ دار تھے - انکا بھی بنیادی ضروریات پر تقاضہ جائز تھا , اور جائز ہے - انکے جائز مطالبات پر غداری کا طوق انکے گلے میں ڈال دینا ، کونسی وطن کی خدمت ھے - یہ لوگ نہ تو وطن کے اثاثے لیکر بھاگے اور نہ کوئی عملی قدم اٹھایا کہ جس سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ھو-  کچھ ایسی ھی صورت حال سندھ کے چند مخصوص زیرک سیاستدانوں کی بن گئی ھے - وہ لوگ جو حقیقی قربانیاں دے کر پاکستان آئے  ، مسلسل استحصال کا شکار رھے اور انہیں یہ تاثر ملا کہ وہ تیسرے درجے کے شہری ھیں - انکی آواز حقوق کےلیے تھی جو آہستہ آہستہ شدت کی راہ پہ چل پڑی کیونکہ پیشہ ور سیاستدانوں کو غریب طبقے کی بےباقی قبول نہیں تھی - شائد اگر جبر کی راہ سے ہٹ کر سوچا جائے اور مصالحت کی راہ اختیار  کر لی جائے تو یہ غداری کے تمام ملزم محب وطن ثابت ہوں - پنجاب میں بھی استحصال کا احساس روز بروز بڑھ رہا ھے ، کچھ بعید نہیں وہاں کے متحرک لوگوں کو بھی ایسے ھی القاب ملنے لگیں -
اگر تاریخی حقائق پر نظر کی جائے تو جن کو غداروں کی فہرست میں ڈال رکھا یے انہی کے اباو اجداد اصل تحریک پاکستان کے روح رواں تھے اور آج جو اقتدار سنبھالے بیٹھے ھیں انکے اباو اجداد مخالف کھڑے تھے ، یا انگریز کے نوازے ھوے تھے -
آج بھی جو ملک کو لوٹ رھے ھیں ، ملکی وسائل کو اپنی جاگیر سمجھے بیٹھے ہیں - دہشتگردی کو فروغ دے رھے ہیں ، عدالتوں کو یرغمال بنائے بیٹھے ہیں ، ترقیاتی منصوبوں پہ کمیشن کھا رھے ہیں ، محب وطن ہیں-
یہ ہیں غدار -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment