" یوم آزادی مبارک "
قوم کو یقینی طور یاد ہوگا .کہ پاکستان کے وجود کی اصل بنیاد مذھب کی آزادی اور اسلامی طرز حکومت کی خواہش تھی . مسلمانوں کا جذبہ محض اسی ایک امید پر موجزن تھا ، کہ وہ ایسی سر زمین حاصل کرنے جا رہے ہیں ، جو انکی امنگوں کی ترجمان ہو گی - اپنے بھائی حکمران ہوں گے ، اپنا قانون ہو گا ، اپنے طریقے ہونگے - مذھب کی یہ لگن اسلام دشمن صیہونی کو ناگوار لگی . اس نے آزادی کا پرچہ دےدیا مگر آزادی نہیں دی - اسکی مکروہ سوچ ھمیں وراثت میں مل گئی ، اسکا قانون ، نظام ، عدالتیں ، طرز تعلیم ھماری تگ و دو پہ حاوی ھو گیا. کہ آج ستر سال بعد بھی اسی پہ قائم ہیں . کچھ بھی اپنا نہیں ،
نہ قانون ،نہ نظام.
کیا یہ تھی وہ آزادی جس پر ہم نے لاکھوں سروں کی ، ہزاروں عصمتوں کی ، ہنستے بستے گھروں کی قربانی دی - کیا یہ سب ہم نے ان لٹیروں کے لئے کیا ، جو آج ھماری نسلوں کو بیچ رھے ھیں . جنہوں نے ھماری سونا اگلنے والی سر زمین کو بھانجھ کر ڈالا ، دریاوں کا پانی بیچ دیا ، عزت و وقار کو چھوڑگداگری شروع کر دی ِ اگر جمہوریت مقصد تھا تو یہ شوق تو ہندو کے ساتھ رہ کر بھی پورا ھو سکتا تھا -
کبھی غور تو کریں کہ جمہوریت کے شوق نے تو مذہبی رہنماؤں کو بھی رستے سے بہکا دیا ھے - کبھی غور تو کریں ھماری کونسی بات آزاد قوموں والی ھے - آج بھی ہم غلام ہیں ، انگریز کے غلاموں کے غلام ، وڈیروں اور جاگیر داروں کے غلام ، سرمایہ داروں اور ساہو کاروں کے غلام .
کہاں ھے آزادی جس کا خواب دیکھا تھا .
ھمیں حقیقی آزادی کی بنیاد رکھنا ہو گی . اس خواب کی تعبیر کی طرف بڑھنا ہو گا ، جو ہم نے دیکھا . وہ ہو گی آزادی ۔
وہ ہو گی مبارک آزادی .
شکریہ
آزاد ھاشمی
Tuesday, 6 March 2018
یوم آزادی مبارک
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment