Tuesday, 6 March 2018

اے میری ماں

" اے میری ماں "
چوالیس سال پہلے جب میرے والد محترم اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ۔ اللہ انہیں جنت نصیب کرے ۔ میرے کندھے بہت کمزور تھے اور بوجھ بہت زیادہ تھا ۔ نہ دل گبھرایا نہ ہمت نے ساتھ چھوڑا ۔ چند آنسو بہے اور قرار آگیا ۔ کیوں ۔ پتہ نہیں چلا ۔ امتحان آتے رہے ، اور گذرتے رہے ۔ لوگ سمجھتے رہے اور کہتے رہے کہ میں بہت دلیر ہوں ۔ یہ سچ بھی تھا اور وقت کی ضرورت بھی ۔ در اصل میرے پاس دعا کے لئے اٹھنے والے ہاتھ تھے ۔ سکون دینے والی ایک آغوش تھی ۔ سر رکھ کر رونے کو ایک کندھا تھا ۔ میری جرات کا سارا بھرم اسی پہ قائم تھا ۔ آج یہ سہارا مجھ سے دور چلا گیا ۔ نہ آنکھیں سوکھ رہی ہیں نہ دل کو چین آرہا ہے ۔ چیخ چیخ کر رونے کو دل چاہ رہا ہے ۔ منوں مٹی تلے پڑی ماں سے لپٹ کر اپنی ضدیں دھرانے کو من کر رہا ہے ۔ پوچھنا چاہ رہا ہوں کہ اے ماں ، یہ تو بتا جا ، اب کس کندھے پہ یہ سر رکھوں ۔ کس سے چپکے چپکے ان دعاؤں کے لئے کہوں ، جو دنیا کی دلدلوں سے نکالے ۔  آخر کیا حرج تھا چند سال اور رک جاتیں ۔  تیرے بغیر نہیں جی سکوں گا ۔ نہیں جی سکوں گا ۔  نہیں جی سکوں گا ۔  تم جانتی ہو ، جو کہتا ہوں کرتا ہوں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment