Tuesday, 6 March 2018

اپنا احتساب

سب سے اچھا عمل یہ ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں - مگر ہم جب بھی کرتے ہیں دوسروں کا احتساب کرتے ہیں - اپنی کوتاہیاں , برائیاں اور عیبوں پر کبھی غور نہیں کرتے - چھوٹی سی نیکی کر کے اسکی تشہیر میں لگ جاتے ہیں - اور اسکی داد طلب کرتے ہیں - یہ انداز سوچ ہمیں خود بین بنا دیتا ہے - یہ ایک ایسا غلط انداز فکر ہے کہ ہم اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی برائیوں کو اکٹھا کرنے لگ جاتے ہیں - اور اپنے دائیں بائیں نیکیوں کے مواقع نظر انداز کر دیتے ہیں -
عبادت  کلی طور پر بندے اور رب کا معاملہ ہے - اسے بھی ہم دنیاوی فوائد کے لئے سہارا بنا لیتے ہیں , جس  سے عبادت  کی روح ہی ختم ہو جاتی ہے - ایک تشہیر بن کر رہ جاتی ہے -
حقوق العباد جو عبادت کا ایک ایسا رخ ہے , جس سے دنیاوی راحت بھی ملتی ہے اور الله کی رضا بھی - ایک چھوٹی سی نیکی بخشش کا سبب بن سکتی ہے - مگر ہم اسطرف سے غافل رہتے ہیں - کسی یتیم کے سر پہ رکھا ہوا  دست شفقت , کسی مریض کی زندگی بچانے کی کوشش , کسی فاقہ کش کو دیے ہوے چند لقمے , کسی غریب بچی کی شادی , کسی مظلوم کی داد رسی اور نہ جانے کتنے مواقع ہمارے ارد گرد موجود ہیں , جو ہماری بخشش کا یقینی سبب ہو  سکتے ہیں - ہم اگر اپنا اپنا احتساب کریں , تو شاید پوری زندگی میں بھی ایک ایسا موقع حاصل نہیں کر سکے ہونگے - ہم اگر احتساب کریں تو ہم اسراف سے ہاتھ روک کر , خدمت خلق کر دیں , تو کتنی رحمتوں کے حقدار ہو سکتے ہیں -
اگر ہم غور کریں کہ اگر ہم حقوق العباد کو بھی ایک عبادت سمجھ لیں تو ہمارے معاشرتی مسائل کسقدر کم ہو جاینگے -
آئیے ! اس کار خیر میں انفرادی یا اجتماعی طور پہ جو بھی کر سکیں وہ کریں -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment