" آزادی ہی آزادی "
آزادی کی آواز پر ایک قوم اٹھی ، جو اپنے لئے ، اپنی نسلوں کے لئے ، ایسا خطہ حاصل کرنا چاہتی تھی - جس پہ وہ اپنے دین ، اپنے عقائد کے مطابق آزادی سے رہ سکیں - اس پوری قوم کا نام مسلمان تھا ، ایک وطن کی لگن تھی ، جس کا ایک نام ہو گا ، جس کا ایک جھنڈا ہو گا ، جس کا ایک مقصد ہو گا - یہ اور اس جیسی بہت ساری ذمہ داریاں سامنے تھیں - آزادی کا تصور صرف یہ تھا کہ اللہ کے دین کی باغی قوموں سے الگ ہو کر اپنے رب اور اسکے حبیب پاک صل اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوے راستے پر آزادی سے رہا جائے۔ ایسی دھرتی کا خواب جہاں کوئی اجنبی نہ ہو ۔ سب اپنے ہوں ۔ کوئی ھمارے اثاثے لوٹ کر اپنے دیس نہ لے جا سکے ۔ جہاں غریب بھی پاکستانی ہو اور امیر بھی . یہ آزادی در اصل ایک پابندی تھی جو ھم قبول کر رھے تھے ۔ تاکہ ھر فرد کو آزاد رکھیں ۔
پھر ھم آزاد ہو گئے ، مگر سب نہیں ، چند گھرانے آزاد ھو گئے ۔ انہوں نے وسائل پہ اپنی اجارہ داری قائم کر لی ۔ کرسی پر تسلط کر لیا ۔ نہ قانون بدلا ، نہ نظام ۔ گورے حکمرانوں کی جگہ پہ سانولے حکمران بیٹھ گئے اور پوری آزادی سے ملک کو لوٹنے لگے ۔ انکے لیے نہ کوئی ڈر ہے نہ خوف ، نہ کوئی پوچھنے والا نہ ھاتھ روکنے والا ۔
وطن کو جنگل بنا ڈالا , جو طاقتور ہے وہی زندہ رہنے کا حقدار .
شیر کو حق ہے ، جس کو چاہے کھا جائے ۔
آزادی ھی آزادی صرف بد معاشوں کے لیے ، چوروں کے لیے ، پیسے والوں کے لیے ۔ ملک کے حقیقی غداروں کے لیے ۔ آزادی مبارک جو آزاد ھیں ۔ اے کاش سارے پاکستانی بھی آزادی کا سانس لے سکیں ، وہ آزادی جس کا خواب دیکھا تھا۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Tuesday, 6 March 2018
آزادی ہی آزادی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment