Monday, 5 March 2018

احتساب کون کرے گا

" احتساب کون کرے گا "
احتساب کےلیے چند ابتدائی عوامل کا ھونا لازمی ھے ،  اسکے بغیر کوئی بھی تحریک کامیاب نھیں ھو سکتی،-
١- قانون کا بے لچک ھونا ابتدائی کڑی ھے ، جس قانون کے تحت ھم چل رھے ھیں ، وہ ایک خوبصورت مزاق ھے جو انگریز نے ھمیں تحفے میں دیا اور ھم نے اپنا رکھا ہے -
٢- عدلیہ کا دیانتدار ہونا , دوسری اھم کڑی ھے ، جس پر بھروسہ بھی عبث  ہے -
٣- اسمبلیوں میں بیٹھے سیاستدان اھم کردار ادا کر سکتے ھیں ، مگر وہ خود اس میں ھاتھ رنگے بیٹھے ھیں-
٤- ملکی استحکام کے ذمہ دار  ادارے اس برائی کو روکنے کے پابند بھی ھیں اور حلف یافتہ بھی - مگر انہیں بھی اپنی ترقی زیادہ عزیز ھے -
٥- رہی سہی امید عوام ھے کہ وہ ایک نا قابل شکست جذبے کے ساتھ ، ان تمام عوامل کے خلاف متحد ھو جایں اور اسے روکنے میں موثر کردار ادا کریں - عوام میں جن کو شعور ھے وہ تماشہ دیکھنے میں لگے ھیں ، جو باقی ھیں وہ کسی نہ کسی کا نعرہ لگانے کو فرض سمجھے بیٹھے ھیں -
احتساب کا موثر اطلاق صرف اور صرف نظام اسلام میں ھے - مگر ھم نے اپنی عملی زندگی سے اسلام کو الگ کر رکھا ھے ، صرف نماز ، روزہ ، حج ، زکواة ھی اسلام کا مفہوم بن کر رہ گیا ھے -
یہ آئے دن کی شورش صرف انتخابی مہم کے سوا کچھ نہیں - جن کی منزل کرسی ھو ، مصلحت اندیشی ھو ، بود و باش ھو - احتساب ان کے بس کی بات نہیں - احتساب کےلیے نظام حکومت کا درست ھونا ھی اصل راستہ ھے اور یہ خوبی صرف اور صرف اسلامی طرز حکومت میں ھے،
شکریہ
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment