Tuesday, 6 March 2018

کونسےمفکر

" کونسے مفکر "
علم و دانش کی باتیں مستعار لینے کی ضرورت ان لوگوں کو پڑتی ھے ، جو از خود کوئ رہنما نہیں رکھتے یا پھر انکے رہنما سے بہتر کوئی دوسرا ھوتا ھے - صرف امت مسلمہ کو اعزاز حاصل ھے کہ انکی رھنمائ کیلیے اللہ تعالیٰ کے حبیب صل الله علیہ وسلم جیسے رہنما کی رہنمائی حاصل ھے . پھر وہ کونسی مجبوری ھے کہ ھمارے اکثر دانشور اپنی دانشوری کا رعب جمانے کیلیے ارسطو ،  لینن ، سقراط ، ابراھم لنکن وغیرہ وغیرہ کے قول سناتے ھیں . یہ اصل میں دانش نہیں بے خبری کی انتہا ھے . مسلمان اگر قرآن پاک کو سمجھ  لیتے ، اسوہ حسنہ کی پیروی میں لگ جاتے - تو وہ کونسی کمی باقی رہ جاتی ، جس کی تشنگی پوری کرنے کےلیے دوسرے مفکرین کو پڑھنا ضروری تھا . ھم نے گم گشتہ راہ کو اپنا رھبر مان کر اپنی منزل بھی کھو دی ، اور فکر کی بلندی بھی  ھمارے  ھا تھ سے نکل گئی . اب  سینکڑوں فلسفیوں ، دانشوروں ، نظریاتی لیڈروں کی آراء اکٹھی کرتے پھرتے ھیں کہ شاید کوئی راستہ مل جاے .
اگر چند لمحے فکر کریں تو یہ سب نظریاتی کشمکش ہر دور میں تبدیلی اور تنزل کا شکار رہی ھے. اگر دوام ملے گا تو صرف الله کی راہ کو -
پھر کیوں نہ اپنی راہ کا تعین اسی پر کر لیں-
شکریہ
آزاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment