Monday, 5 March 2018

تبدیلی کا اصل محور کیا؟

ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں تبدیلی کا آنا ضروری ہے - مگر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ تبدیلی کا اصل محور اور مقصد کیا ہے - اگر حکمران بدلنے کا نام تبدیلی ہے تو ہر پانچ سال کے بعد ہم بدل لیتے ہیں - ایک ناکارہ پرزے کی طرح دوسرا ناکارہ پرزہ لگا لیتے ہیں - یونہی ملک کی گاڑی چلے جا رہی ہے - کبھی یہ پرزہ یورپ والے بھیج دیتے ہیں کبھی امریکہ کی سٹیمپ لگے پرزے آ جاتے ہیں - تبدیلی چہروں کے بدلنے کا نام نہیں , تبدیلی نظام کے بدلنے کا نام ہے - تبدیلی سوچ کے بدلنے کو کہا جاتا ہے - تبدیلی مزاج بدلنے سے آتی ہے - اور یہ سب کام قوم کے ایک ایک فرد کا ہے - ایک ایک ذہن بدلنا ہو گا - ہم سب کو اس جہاد کا حصہ بننا ہو گا - پھر نظام بھی بدلے گا اور تبدیلی بھی آیگی -
اسوقت مایوسی کا یہ عالم ہے کہ کوئی ایک شخص یہ ماننے پر آمادہ ہی نہیں کہ ہم نظام بدل سکیں گے - یہ سوچ قوموں کی موت ہوا کرتی ہے - جمہوریت کا نظام ایسا نظام ہے جس کا اصل مقصد اسلامی نظام کو شکست دینا ہے - اس عمل کی پزیرائی  بھی ہم مسلمان کر رہے ہیں - کیا الله کی رضا حاصل کیے بغیر کوئی کامیابی ممکن ہے - کبھی نہیں - الله کی رضا اسی میں ہے کہ ہم مسلمان الله کے نظام کو اختیار کریں - یہی ہے وہ منزل جو ہمارے مسائل کا حل ہے - ورنہ چہرہ کوئی بھی ہو  یہی ڈگر رہے گی اور یہی راگ - کچھ نہیں بدلے گا اگر نظام نہیں بدلا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment