" بہت ہو گیا "
ہم سے ایک بھول ہوئی - ہم سمجھ بیٹھے کہ دین کی ساری ذمہ داری مساجد اور مدرسوں میں بیٹھے لوگوں کی ہے - خود کو یہ کہہ کر بری الزمہ کر لیا کہ ہم تو دین سے واقفیت نہیں رکھتے اسلیۓ ہم قصور وار نہیں - اسکا اثر یہ ہوا کہ مذھب صرف مسجد اور مدرسے کی چار دیواری تک محدود ہو گیا - ایک عملی غلطی اور بھی ہوئی کہ ہم نے یہ یقین کر لیا کہ مذھب صرف اگلے جہاں کی تیاری کے لئے ہے - رکوع و سجود , عبادت و ریاضت ہی مقصود و مطلوب ہے , تا کہ جنت کا راستہ سیدھا ہو جاے -
رفتہ رفتہ جو مذھب سے فاصلے پر تھے , وہ دور سے دور ہوتے چلے گئے , جو مذھب سے پیوستہ تھے وہ صرف ثواب کمانے کے چکر تک محدود ہو گئے - اسلام عملی میدان سے الگ کر دیا گیا - آج جدید دور کے محقق , میڈیا کے نا خدا , دیس کی کشتی کے کھیون ہارے , اس خیال پہ پختگی کیساتھ قائم ہیں , کہ اسلام صرف مذھب ہے نظام نہیں -
ہم میں سے کتنے لوگ ہیں , جو یہ ارادہ کرنے پہ آمادہ ہیں کہ ہمیں اسلام کا نظام لانے کی کوشش کرنا چاہیے -
کتنے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ اسلام کے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش بھی عبادت ہے -
کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ اسلام کے نظام پہ ووٹ مانگنے والے سیاستدان بھی , جمہوریت کی کشتی پہ سوار ہو کر نظام اسلام لانے کا خواب دیکھ رہے ہیں -
کیا یہ تماشہ بہت نہیں ہو گیا کہ ہم الله کا نظام چھوڑ کر یہود کے نظام کا پرچار کر رہے ہیں -
کیا ہم نے مسلمان ہو کر جو عہد الله سے کیا , اس سے روگردانی نہیں کر رہے -
ہمیں مسجدوں سے مذھب کو میدان عمل میں لانا ہو گا -
یہ
ہے عبادت , یہ ہے صدقه جاریہ- شکریہ
آزاد ہاشمی
Monday, 5 March 2018
بہت ہوگیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment