" عید کے روز بھی "
ہمارے اردگرد کچھ لوگ عید کے روز بھی گوشت کی چند بوٹیوں کے انتظار میں دروازے کی دستک پر کان لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ کئی مائیں خواب بن رہی ہونگی کہ آج وہ بھی اپنے بچوں کو پیٹ بھر کے گوشت کھلائیں گی ۔ کئی باپ یاس اور حسرت کے آنسو دبائے ، قسمت کی دیوی کو کوس ریے ھوں گے۔ آج بھی کئی گھروں میں کچھ نہیں پکے گا ۔
قربانی بھی کئی رنگوں میں ہو گی ۔ فرض کی ادائیگی والے بھی ہونگے ، نمائش والے بھی . بھرم والے بھی ، ناک بچانے والے بھی ۔ حلال رزق والوں کے ہاں بھی کمزور سا جانور کٹے گا اور ناجائز دولت کے آقاؤں کے ہاں بھی کئی کئی جانور کٹیں گے ۔ خوشامد کرنے کی غرض سے بھی قربانی کا نام استعمال ہو گا ۔
گوشت سماجی رشتوں کی بھینٹ بھی چڑھے گا ، سیاسی رنگ بازی بھی ہو گی ۔ کھالوں کی رسہ کشی میں کئی الجھنیں بھی جنم لیں گی ۔ کتنا ہی اچھا ہوتا ھم قربانی کے مقصد کو سمجھ لیتے ۔ ہر قربانی اسلامی روح کے مطابق ہوتی .کم از کم عید کے روز ہی گوشت حقداروں تک پہنچ جاتا ۔ عید کے روز تو کوئی بھوکا نہ سوتا۔
کاش ایسا ہو جاتا۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Monday, 5 March 2018
عید کے روز بھی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment