Monday, 5 March 2018

کراچی کے دکھ

" کراچی کے دکھ "
پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ، کماو پتر اور غریب پرور شہر ۔ ہر وہ مایوس ، جسے پیٹ  بھرنے کیلئے کہیں اور پناہ نہیں ملا کرتی تھی ، اسے کراچی اپنے سینے سے لگا لینے والاشہر ۔ راتیں بھی جاگا کرتی تھیں دن بھی ۔  یہ کوئی پرانے زمانوں کی بات نہیں ، قریب کی باتیں ہیں ۔کراچی  کا دامن ہمیشہ وسیع رہا ۔ یہی کشادہ دلی تھی کہ کروڑوں لوگوں کی آباد دنیا کا شہر بن گیا ۔
سب کو یاد ہے کہ تحریکیں بنتی رہیں ، مگر لوگوں کے دل پھر بھی ایک ساتھ دھڑکتے تھے ۔  ایک ہی نگر میں بسنے والے کبھی کبھار الجھا بھی کرتے ہیں ، آپس میں شکایات بھی ہوا کرتی ہیں ۔ کچھ ایسی ہی فضا کراچی کی بھی بننے لگی ۔ بات بڑھتی رہی ، تاک میں بیٹھا شیطان ، اس چنگاری کو آگ کا الاو بنانے پر تل گیا ۔ گلیوں ، سڑکوں ، بازاروں ، عبادت گاہوں ، جگہ جگہ خون بہنے لگا ۔
حل ڈہونڈھنے کے نا اہل اور ناعاقبت اندیش ذمہ داروں کو آسان لگا ، کہ کسی ایک کے گلے میں اس آگ کی ذمہ داری ڈالو اور بس ۔ 
جذباتی لوگ اکثر ایسی حماقتیں کرتے ہیں  ، کہ مجرم نہ ہوتے ہوئے مجرم بن جاتے ہیں ۔ اصل مجرم چوکنا ہوتا ہے آسانی سے رخ بدل لیتا ہے ۔ شاید ایسا ہی کچھ کراچی میں ہو گیا ۔ مجرم کا وار کارگر تھا ، شہر کی رونقیں اداسی میں بدل گیئں ۔ پھر بھی کوئی محب وطن شہری ، لیڈر ، افسر ، سیاستدان ، تاجر  ، محافظ یا دانشور آگے نہیں بڑھا کہ ناراض بچوں کو سنے ، بگڑے ہیں تو سمجھاے ، روٹھے ہیں تو منائے ، گلے سے لگا کے انکے دکھ سنے ۔  اور مداوا کرے ، شاید کسی کو بھی حل سے دلچسپی نہیں ۔ شاید کوئی نہیں چاہتا کہ کراچی پھر رونقیں بانٹنے لگے ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment