" کھلا تضاد "
کچھ لوگ اس بات پر بہت فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں ۔ کچھ جمہوریت کی آبیاری میں جان دے بیٹھے ۔ کچھ مذہب کے لبادے میں بھی جمہوریت کو بچانے کی بھر پور کوشش میں ہیں ۔
کوئی مفکر بتا سکتا ہے کہ ہمارے دین کا ، ایمان کا ، کیا تعلق ہے اس نظام حکومت سازی میں ۔
ہماری پارلیمنٹ ، ہماری عدلیہ ، انتظامیہ ، تمام اعلیٰ افسران ، بیورو کریسی حلف تو قرآن پہ اٹھاتے ہیں ، عملی طور پر پیروی اسلام کے منافی قواید و ضوابط کی کرتے ہیں ۔ عدالتوں کے تمام قوانین ، دستور کی ساری شقیں ، بنکوں کا سارا نظام ، اداروں کے تمام طریقے اسلامی نظام سے قطعی مطابقت نہیں رکھتے ۔ کیا اسلامی مملکت کے لئے صرف اسلامی لکھدینا کافی ہے یا اسلام کے ضوابط اپنانا ضروری ہے۔
ہم اپنے قول و فعل میں کھلے تضاد کا شکار ہیں ۔
سمجھ نہیں آتا کہ اتنے زیادہ کھلے تضاد کے باوجود ہم کیسے سمجھ لیتے ہیں کہ اللہ سے دعائیں مانگنے پر قبولیت ہمارا حق ہے ۔
کیا اس منافقت کے روپ میں ہمارا وہی حشر نہیں ہونا چاہئے تھا جو ہو رھا ہے ۔ یہ چور اچکوں کی حکمرانی ہمارا مکافات عمل نہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی
Tuesday, 6 March 2018
کھلا تضاد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment