" یوم نسواں "
آدم علیہ السلام نے اللہ کے حضور آرزو کی ۔ کہ اے مالک ارض و سماء ، اکیلے میں دل نہیں لگتا ۔ اداسی ہوتی ہے ۔ کوئی مونس و ہمنوا مل جائے تو وقت اچھا گذرے گا ۔ یہ آرزو ، زمین پر نہیں کی ، جنت میں کی ۔ گویا آدم ؑ کو جنت میں بھی تنہائی نے اداس کئے رکھا ۔ یوں لگتا ہے جنت بھی وجود زن سے مکمل ہوتی ہے ۔ پھر اللہ نے جو تخلیق فرمائی اور وہ بھی آدمؑ کے پہلو سے ، وہ عورت تھی ۔ اس وقت یہ تخلیق ایک رفیق سفر تھی ۔ آدمؑ کی آرزو کی تکمیل تھی ، ایک استراحت تھی ۔
پھر یہ وجود عروج کیطرف بڑھایا جانے لگا ۔ بیٹی کے روپ میں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ، عورت کے روپ کی دوسری شان ، ماں کی ہمراز و غمگسار بیٹی کے روپ میں اور عظمت کے اس مقام پر فائیز ہو گئی ، جہاں جنت اسکے پاوں تلے بنا دی ۔ یہ مقام تھا ماں کا ۔ یہ شان تھی عورت کی ، یہ معراج تھی اس تخلیق کی ۔
ابن آدم کتنا بھی جتن کرلے ، اسے ٹھنڈک ملتی ہے تو بیٹی کے وجود سے ، استراحت ملتی تو بیوی کے قرب سے ، عظمت ملتی ہے تو ماں کی خدمت سے ۔ اسی تخلیق کا ایک اور روپ " بہن " کی شکل میں بھی ہے ۔ ہمدردی کا جو احساس بہن سے ملتا ہے ، اسے کوئی نام ہی نہیں دیا جا سکتا ۔
میں سوچتا ہوں کہ اگر عورت نہ ہوتی تو نہ تخلیق مکمل ہوتی اور نہ نظام دنیا چل پاتا ۔
سلام ہے تمام صالحہ بیٹیوں کو ، مونس و غمخوار بیویوں کو ، ہمدردی کی تصویر بہنوں کو اور عورت کی معراج ماوں کو ۔
اللہ سبحانہ تعالی کے اس انعام پر صد تشکر ۔
آزاد ھاشمی
Thursday, 8 March 2018
یوم نسواں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment