Monday, 5 March 2018

اسمبلی ممبران سے اخلاقیات کی امید

ہمارے لوگ کبھی کبھی بھولپن میں اسمبلیوں میں بیٹھے لوگوں سے تہذیب کی امید بھی کرنے لگتے ہیں - جیسے جانتے ہی نہیں کہ اسمبلی تک آنے کے لئے جس تربیت کی اہم ضرورت ہوتی ہے وہ یہی بد اخلاقی ہے , جس کا مظاہرہ خبروں کی زینت بننے لگا ہے - اپنے اپنے حلقے کے سیاستدانوں کا بغور جائزہ لیں تو حقیقت آشکار ہو جائیگی کہ یہ سیاست کے کھلاڑی کس قماش کے لوگ ہوتے ہیں - جن چیدہ چیدہ شخصیات پر اخلاقیات کا کمال دکھائی دیتا ہے , وہ بھی کبھی نہ کبھی کھل جائیں تو یقین نہیں آتا کہ یہ سب بھرم جھوٹ اور بناوٹ تھی - سیاست  میں وہی کامیاب ہے جو زیادہ شاطر ہے اور شاطر ہونا کوئی صفت نہیں برائی ہے , جسے مہذب معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے - سیاسی اکھاڑے میں اترنے والا یورپ کا تعلیم یافتہ ہو , کسی مذہبی مدرسے کا عالم ہو , کسی بہت معزز گھرانے سے تعلق رکھتا ہو , عالم فاضل ہو یا میانہ درجے کا تعلیم یافتہ ہو , سب کے سب جب سیاسی اکھاڑے میں آتے ہیں تو ایک جیسے ہوں تو بات بنتی ہے -
سوچنا ان لیڈروں اور سیاسی لوگوں کا کام نہیں کہ کب اور کہاں کیا کہنا ہے - سوچنا ان جھنڈا بردار کارکنوں کا ہے کہ وہ کس قماش کے افراد کی پیروی میں لگے ہیں -
خواتین جو ہماری تہذیب کی نشانی ہوتی ہیں , اگر انکا سیاسی اکھاڑے میں کردار دیکھا جاے تو قطعی طور پر قابل ستائش اور قابل تقلید نہیں - انہوں نے آزادی کا پرچم اٹھا رکھا  ہے - برابری کے حقوق پر بضد ہیں , خصوصی طور پہ یہ سیاسی خواتین , تو پھر یہ بد تہذیبی کوئی عجیب بات نہیں رہ جاتی - ایسے مخلوط ماحول میں یہ سب معمول بن رہا ہے - اور اس معمول کے ہم سب برابر کے ذمہ دار ہیں - جب تک عورت اور مرد اپنی حدود میں رہتے ہیں , ایسی زبانیں خاموش رہتی ہیں جیسی آج کل اسمبلیوں میں اور میڈیا پہ استعمال ہونے لگی ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment