Tuesday, 6 March 2018

قاتک کون

" قاتل کون "
جس عہد میں , سر بازار قتل ہونے لگتے ہیں , قاتل کوئی اور نہیں حکمران ہوتے ہیں - شہر کا داروغہ قاتل ہوتا ہے - جو معاشرہ چپ سادہ لیتا ہے وہ قاتل ہوتا ہے -
آج کے جدید دور میں جب ساری سہولتیں میسر ہیں , دہشت کی لہر کا بار بار اٹھنا , حفاظت کے ذمہ داروں کی مجرمانہ غفلت نہیں مجرمانہ ذہنیت کی عکاس ہے - جب محافظ چند سکوں پر قاتل کی طرفداری کرنے لگیں گے تو مقتول کا خوں یونہی بہتا رہے گا - جب عدل کی کرسی پر مصلحت اندیش قاضی بیٹھا ہو گا , جرم یونہی دندناتا رہے گا - جب حکمران سینکڑوں محافظوں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھے گا , بزدلی مجرموں کو مزید بہادر بناتی رہے گی - جب تک معاشرہ ظلم سہتا رہے گا , تب تک گردنیں کٹتی رہیں گی - فوج , رینجرز اور عسکری ایجنسیز کے دعوے محض طفل تسلی بن گئے , عوام پہلے بھی غیر محفوظ تھے آج بھی قاتلوں کے رحم و کرم پہ ہیں - پولیس کے بڑے بڑے ذمہ دار اپنے دفتروں میں  پہلے بھی  پیسے بناتے تھے اب بھی بنا رہے ہیں - ادارے , حکمران , سیاستدان اور دیگر ذمہ دار , جب ناکامی دیکھتے ہیں تو کبھی کسی سیاسی جماعت کو , کبھی کسی کالعدم تنظیم کو , کبھی ہمسایہ ملکوں کی ایجنسیوں کو مورد الزام ٹھہرا کر پہلو تہی کر جاتے ہیں - عوام پھر خاموشی سے اگلے قتل کا انتظار کرنے لگتے ہیں - چند روز اخبارات پر واویلا ہوتا ہے , چند لاکھ مقتول کے وارثوں کو حکمران دے کر تصویریں چھپوا لیتے ہیں - اور بات پرانی ہو جاتی ہے - جرم کی بیخ کنی کیلیے نہ کوئی قانون بنا نہ کوئی موثر آپریشن ہوا اور نہ کوئی تحریک اٹھی - ایک سوال کل بھی تھا آج بھی ہے کہ یہ قتل صرف اور صرف غریب کا کیوں - یہ قاتل ارباب اقتدار سے انتقام لینے کی بجاے غریبوں سے کیوں لیتے ہیں - پروفیسر , ڈاکٹر , علماء , بسوں کے مسافر اور غریب راہگیر کیوں نشانہ بنتے ہیں - مذھب سے وابستہ لوگ کبھی قاتل اور دہشتگرد نہیں ہوتے - مذھب یا عقیدہ کوئی بھی ہو , امن کا , حسن سلوک کا , باہمی روا داری کا , انسانوں سے  محبت کا پیامبر ہوتا ہے -
اداروں کو , حکمرانوں کو کہانیاں گھڑنے سے اجتناب کرتے ہوے اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہو گا اور اپنے فرائض کو بغیر کسی مصلحت کے پورا کرنا ہو گا - نہیں تو قاتل کسی بھی آنگن میں گھس جایگا -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment