" کربلا کا راستہ "
کوفے کے لوگ پریشان تھے کہ یزیدیت اپنی جڑیں گاڑھ رہی ہے ۔ اللہ کے احکامات اور اسکے رسول کے اسوہ سے انحراف ہو رہا ہے ۔ جبر کی زبان اور ہاتھ روکنے کی جرات کسی میں نہیں تھی ۔ ایسا ایمان بھی شاز ہی تھا کہ آواز ہی اٹھا لیتا ۔ کوفے والوں کو یہ جرات علی کرم اللہ وجہہ کے لخت جگر کے علاوہ کہیں نظر نہیں آئی ۔ لکھ بھیجا کہ اللہ کے دین کو آپ کی ضرورت ہے ، آپ نے حج کے ارادہ تبدیل کیا اور رخت سفر باندھ لیا ۔ جو بھی اللہ نے دے رکھا تھا ، سب ساتھ لیا اور نانا کی امت کی آواز پر لبیک کہا ۔
تاریخ لکھنے والے کہتے ہیں کہ اہل کوفہ نے بے وفائی کی ۔ آل رسول صل اللہ علیہ وسلم کو بلا کر وعدہ وفا نہیں کیا ۔ اس عہد شکنی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ سب جانتے تھے۔ یزید کی ظالمانہ فطرت کو ۔ یہ خوف بھی ایک وجہ تھی ۔ اہل کوفہ میں وہ جرات نہیں تھی جو ابن علی کے خون میں تھی ۔ اللہ کی رضا کی طلب جو حسین علیہ السلام کی شان ہے وہ کائنات میں کسی اور کی ہو نہیں سکتے ۔ ہر کسی میں اتنا دم کہاں کہ اپنے دل کے ٹکڑے حرمت اسلام پہ اپنے ھاتھوں سے نثار کر سکے ۔ اللہ کا خلیل ایک بیٹے کی قربانی پر آنکھوں پٹی باندھنے پر مجبور ہو گیا ۔ مگر یہ تو حسین کا جگر کہ ساری اولاد ، سارے عزیز ، سارے ساتھی قربان کر دئیے ۔ نہ اللہ سے گلہ نہ امت سے شکایت ۔ وقت نے ثابت کیا کہ یزید کے ظلم کی انتہا کیا تھی ۔ اخلاقی پستی کا عالم بھی چشم فلک نے دیکھا ۔ جو شخص آل رسول پر ظلم کے پہاڑ توڑ سکتا ہے ، وہ ساتھ دینے والوں سے کیا کرتا ۔
کربلا کا راستہ صرف حسین علیہ السلام ہی طے کر سکتے تھے ۔ کوئی دوسرا نہیں ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
Monday, 5 March 2018
کربلا کا راستہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment