Monday, 5 March 2018

کیا جمہوریت نظام ہے ؟

" کیا جمہوریت نظام ہے "
ہمارے بہت سارے فاضل دوست , جو حالات و واقعات کا بخوبی علم رکھتے ہیں - دنیا کے نشیب و فراز کی ہر خبر انکی انگلیوں پر ہوتی ہے - اگر مجھ جیسا کم فہم اور ناقص العقل یہ کہہ بیٹھے کہ جمہوریت ناکام اور نا مکمل نظام ہی نہیں سرے سے کوئی نظام ہی نہیں - تو حضرات ایسے سیخ پا ہو جاتے ہیں , جیسے انکی دیوی کو گالی دے دی ہو -
مگر کھلی آنکھ اور ٹھنڈے دماغ سے جائزہ لیا جائے تو حقیقت یہی ہے - جمہوریت صرف اکثریت کی راے سے ایسے لوگوں کا انتخاب کرنے کا طریقه ہے , جن کے ہاتھ میں ہم اپنی لگامیں دیتے ہیں کہ وہ ہماری تقدیر کا فیصلہ کریں - اسکے بعد محترمہ جمہوریت کا کام ختم -
انسانی فطرت ہے کہ ہم اپنے اپنے مزاج کے لوگوں کو پسند کرتے ہیں - اب اگر جہلا کی اکثریت ہو گی تو جہلا کا انتخاب ہو گا - اہل علم و دانش کی اکثریت ہو گی تو اہل علم آئین گے -
مشاہدہ یہ ہے کہ صاحبان کردار چھپ چکے ہیں - جمہوریت کا کھیل ہر پارٹی کے گماشتوں کے ہاتھ میں ہے - اپنی اپنی باری پہ اپنی اپنی مرضی کے قوانین بنا لئے جاتے ہیں - کوئی مائی کا لال جرات نہیں کر سکتا کہ اس عمل کو روک سکے - گویا جمہوریت بہت سارے ہاتھوں والی اس دیوی کا نام ہے , جو کسی بھی بولنے والی گردن مروڑ سکتی ہے -
میڈیا اور بکا ہوا دانشور طبقہ یہ ذہن نشین کرانے میں اس حد تک کامیاب ہو گیا ہے - اب کوئی سوچتا ہی نہیں کہ جمہوریت میں نظام والی کونسی بات ہے - یہ تو صرف اور صرف اقتدار تک پہنچانے کا ایک طریقه ہے - اسکے بعد عوام کی قسمت چند لوگوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے - ایک خاص مدت کیلیے کھیل ختم اور اگلی مدت کی تیاری -
کیا یہی نہیں -
اسکے علاوہ اور کیا ہے -
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment