ہمارے شعور میں یہ تصور نقش کیا جا رہا ہے کہ
جمہوریت کے سوا کوئی بھی نظام امور سلطنت کو چلانے کے لئے موزوں نہیں ہے - دوست
پوچھتے ہیں کہ آخر جمہوری نظام میں کیا خامی ہے کہ ہم نظام اسلام کی رٹ لگا رہے
ہیں - کچھ دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلام امور سلطنت کا نظام نہیں , یہ تو عبادت
کا طور طریقه ہے - ایسے بہت سارے دلائل سامنے آتے ہیں -
اختصار کے ساتھ دونوں نظاموں کو دیکھنے سے
پتہ چلتا ہے کہ :-
١- جمہوریت انسانی سوچ کا اخذ کردہ
نظام ہے ,اور انسانی فکر کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے - جس میں
معاشرہ کی ترغیبات نہایت اہم ہوتی ہیں - کثرت کا جو مزاج بنے گا وہی نظام
سلطنت کا روپ اختیار کر لے گا - اب یہی ہو رہا ہے کہ
لبرل اور سکولر سوچ تیزی سے غلبہ پا
رہی ہے-
جبکہ اسلام قادر مطلق کا دیا ہوا نظام
ہے , جس میں انسان کی دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ملحوظ رکھا گیا اور جو
معاشرے کے بگاڑ کی اصلاح کرتا ہے , جس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں -
٢ - جمہوریت میں اہلیت اور کردار
غیر اہم رہتے ہیں - فیصلے گنتی کے اعتبار سے کیے جاتے ہیں - اگر
لٹیروں ایک جم غفیر موجود ہو تو لٹیرا صاحب توقیر ہو جایگا -
اسلام میں کردار اور اہلیت اولین ہیں -
انتخاب کا حق بھی اہل اور صاحبان کردار ہی کو ہے - جس سے ایک اچھا
معاشرہ ہی جنم لیگا -
٣- جمہوریت میں ٹارگٹ اقتدار ہوتا ہے , جس کے
حصول کے ہر طریقه روا سمجھا جاتا ہے - مخالف کی پردہ دری کرنا معیوب نہیں
ہوتا -
جبکہ اسلام میں ٹارگٹ اسلامی طرز پر امور
چلانے لازمی ہوتے ہیں لہٰذا یہ ایک خدمت کے طور پر کیے جاتے ہیں , ذمہ دار نہ صرف
شوری کو جواب دہ ہوتا ہے بلکہ عقیدہ کے لحاظ سے الله کے سامنے بھی خود کو جواب دہ
سمجھتا ہے - یہ احتساب ایک عام شہری بھی کرنے کا مجاز ہوتا ہے -
٤- جمہوریت میں اقتدار کے حصول کی تگ
و دو میں باہمی اختلافات اور رنجشیں جنم لیتی ہیں , جس کا اثر معاشرے میں
بگاڑ پیدا کرتا ہے , اس سبب سے شرفا الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں , اور فسادی ذہنیت کے
لوگ آگے آ جاتے ہیں -
اسلامی نظام میں بہترین اخلاق کے لوگ نظام
حکومت چلاتے ہیں , جس سے معاشرہ نہایت بہتر ہوتا ہے -
شکریہ
آزاد