Friday, 17 February 2017

جمہوریت کے سوا



جمہوریت کے سوا
ہمارے شعور میں یہ تصور نقش کیا جا رہا ہے کہ جمہوریت کے سوا کوئی بھی نظام امور سلطنت کو چلانے کے لئے موزوں نہیں ہے - دوست پوچھتے ہیں کہ آخر جمہوری نظام میں کیا خامی ہے کہ ہم نظام اسلام کی رٹ لگا رہے ہیں - کچھ دوست یہ بھی کہتے ہیں کہ اسلام امور سلطنت کا نظام نہیں , یہ تو عبادت کا طور طریقه ہے - ایسے بہت سارے دلائل سامنے آتے ہیں -
اختصار کے ساتھ دونوں نظاموں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ :-
١- جمہوریت انسانی سوچ کا اخذ   کردہ نظام ہے ,اور  انسانی فکر کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل کیا جا سکتا ہے - جس میں معاشرہ کی  ترغیبات نہایت اہم ہوتی ہیں - کثرت کا جو مزاج بنے گا وہی نظام سلطنت کا روپ اختیار کر لے گا - اب  یہی  ہو  رہا  ہے کہ  لبرل   اور  سکولر  سوچ  تیزی سے غلبہ   پا  رہی  ہے-
جبکہ اسلام قادر مطلق کا دیا ہوا نظام  ہے , جس میں انسان کی دنیاوی اور اخروی بھلائی کو ملحوظ رکھا گیا اور جو معاشرے  کے بگاڑ کی اصلاح کرتا ہے , جس میں کسی تبدیلی کا امکان نہیں -
٢ - جمہوریت  میں اہلیت اور کردار  غیر اہم  رہتے  ہیں - فیصلے گنتی کے اعتبار سے کیے جاتے ہیں - اگر لٹیروں ایک جم غفیر موجود ہو تو لٹیرا صاحب توقیر ہو جایگا -
اسلام میں کردار اور اہلیت اولین ہیں -  انتخاب کا حق بھی اہل  اور صاحبان کردار ہی کو ہے - جس سے ایک اچھا معاشرہ ہی جنم لیگا -
٣- جمہوریت میں ٹارگٹ اقتدار ہوتا ہے , جس کے  حصول کے ہر طریقه روا سمجھا جاتا ہے - مخالف کی پردہ دری کرنا معیوب نہیں ہوتا -
جبکہ اسلام میں ٹارگٹ اسلامی طرز پر امور چلانے لازمی ہوتے ہیں لہٰذا یہ ایک خدمت کے طور پر کیے جاتے ہیں , ذمہ دار نہ صرف شوری کو جواب دہ ہوتا ہے بلکہ عقیدہ کے لحاظ سے الله کے سامنے بھی خود کو جواب دہ سمجھتا ہے - یہ احتساب ایک عام شہری بھی کرنے کا مجاز ہوتا ہے -
٤- جمہوریت میں اقتدار کے حصول کی  تگ  و دو میں باہمی اختلافات اور رنجشیں جنم لیتی ہیں , جس کا اثر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتا ہے , اس سبب سے شرفا الگ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں , اور فسادی ذہنیت کے لوگ آگے آ جاتے ہیں -
اسلامی نظام میں بہترین اخلاق کے لوگ نظام حکومت چلاتے ہیں , جس سے معاشرہ نہایت بہتر ہوتا ہے -
شکریہ
آزاد

تہذیب کا اصل چہرہ



 تہذیب کا اصل چہرہ
آج بھی اگر تہذیب کا اصل چہرہ , خلوص کی پہچان , وطن سے وارفتگی , مذھب سے لگاؤ اور انسانیت سے محبت دیکھنی ہو تو انہی پتھر کے زمانے کے لوگوں میں دیکھی جا سکتی ہے - یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ہمیشہ انگریز نے نا قابل تسخیر سمجھا اور ہمیشہ  انکے کردار کو مضحکہ خیز بنانے کی کوشش میں لگا رہا - کیونکہ اسے یہ اچھی طرح سے علم تھا کہ صرف اور صرف یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی دین پر سودے بازی نہیں کریں گے , نہ ہی یہ لوگ اپنی دھرتی کو بیچیں گے , نہ یہ اپنی روایات کو چھوڑیں گے - یہی وہ لوگ ہیں جو مذھب کے خلاف ہر سازش کو اپنی جنگ سمجھیں گے -
یہ وہ کردار تھا جسے ,  ختم کرنا یا تبدیل کرنا بالکل ایسے ہے تھا جیسے دریا کے پانی کو الٹا بہایا جاے - انکی یہی اصول پرستی ہے جو انکو کبھی بھی , کسی بھی حال میں متزلزل نہیں کرتی - کوئی خوف  , کوئی لالچ , کوئی ترغیب اپنے رستے سے ہٹا نہیں سکتی - انکی جرات کو جہالت سمجھنا اور ارادوں کو قدامت پرستی کہنا , ان لوگوں کا شیوہ ہے جو خود کسی بھی قیمت پہ بک جاتے ہیں - جن کا اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا , جو حیا اور بے حیائی میں تمیز نہیں جانتے , جن کے آباؤ اجداد کے کردار  مشکوک رہے ہیں - ایک ملاله کی تضحیک جن کو نئی اقدار کی ترقی نظر آتی ہے - انہیں تاریخ سے آگاہی ہی نہیں , کہ یہی وہ پتھر کے دور کے لوگ تھے جو کفر سے جب بھی بر سر پیکار ہوۓ , کفر کو ذلت ملی - یہی وہ پتھر کے دور کے لوگ ہیں , جنہوں نے وطن کی حفاظت میں ہمیشہ پہل کی , یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسلامی اقدار کو سینے سے لگاے رکھا - سلام ہے ان پتھر کے زمانے کے لوگوں کو -
کاش ہم بحثیت قوم ایسے ہی پتھر کے زمانے کے لوگ بن جاتے - پھر نہ کوئی اسلام کی تضحیک کرتا , نہ کوئی گستاخ رسول ہوتا , نہ ہماری بہن بیٹیاں بازاروں میں بے پردہ گھومتیں - اور نہ ہی بے راہروی اتنی عام  ہوتی -
کاش ہم بھی پتھر کے زمانے کا لوگ ہو سکیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی 

عظیم ہستی


" عظیم ہستی "
ماں ایک ایسا وجود ہے ،  جو ہمیشہ عظمت کی بلندی پر  رہتا ہے ۔ اولاد کے لئے ہی نہیں ہر بچے کے  لیے ایک سا جذبہ صرف ماں کی شان ہے ۔ کائنات کی تصویر میں جو سب سے زیادہ خوبصورت رنگ ہے وہ ماں ہے ۔
آج اپنی ماں کی عظمت کی وہ تصویر دیکھی  ، جو پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔ جب میرے بیٹے کی آواز کا درد میرے کانوں سے ٹکرایا ۔ وہ کہہ رہا تھا ۔
" ابو ! میرے لئے وہ لمحہ بہت دکھ بھرا تھا ، جب مجھے ڈکلیئر کرنا تھا کہ جو شخص میرے سامنے ہے وہ مر چکا ہے ۔ میں دن میں کتنے لوگوں کو مردہ ڈکلیئر کرتا ہوں ۔ مگر آج میں اس ہستی کے پاس کھڑا رو رہا تھا ۔ سوچ رہا تھا جن دعاؤں کی طفیل آج اس مقام پر ہوں ، وہ دعائیں میرے سامنے مردہ ہیں ۔ میرے لئے زندگی کا پہلا امتحان تھا ۔ جہاں میرے قلم ، میرے الفاظ اور میرے آرڈر  میں کپکپاہٹ تھی ۔  وہ ہاتھ جو ہمیشہ ہمارے لئے اللہ کے سامنے پھیلے رہتے تھے ، آج سے ساکت ہو گئے تھے "
درد کا احساس جو اسکے لفظوں میں تھا ، یہ سب اسی عظیم ہستی کا مرہون تھا ۔ جسے وہ دادی کہتے ہیں اور جس کا بیٹا ہونے کا اعزاز مجھے بھی حاصل ہے ۔اللہ اپنی رحمتوں کی آغوش میں رکھے اور جنت نصیب کردے ۔ آمین
شکریہ
آزاد ہاشمی




تذبذب کیوں


" تذبذب کیوں "
اسلامی کیلنڈر میں شائد کوئی مہینہ ہو جو اسلامی تاریخ کے اعتبار سے اہم نہیں ۔ محرم الحرام سے بہت سارے اہم واقعات کا تعلق ہے ۔ کربلا کے واقعہ سے پہلے اس ماہ کی تاریخی اہمیت کیا تھی ۔ اور مسلمانوں میں اس مہینے میں کون کونسے ایام کو منایا جاتا رہا ۔ کیا رکاوٹ تھی کہ اپنی تاریخ کو زندہ رکھنے کیلئے اہتمام کیا جاتا ۔ کربلا کے بعد جب آل رسول کی محبت میں اس ماہ کو ایک مخصوص اہمیت حاصل ہو گئی ۔ اور روز بروز یہ لگن بڑھتی چلی گئی ۔ تو کچھ اسلام کے مبلغین کو ایک ایک واقعہ یاد آنے لگ گیا ۔ تاریخ کی گم گشتہ کہانیاں از بر ہونے لگیں ۔
اپنی تاریخ کو یاد رکھنا اور دہراتے رہنا قابل ستائش بات ہے ۔ اس سے کسی کو نہ اعتراض ہے اور نہ ہونا چاھئے ۔ جس کا جس سے تعلق ہے وہ اپنے تعلق  کھل کر منائے ۔ کون روکتا ہے ۔ جن کے دلوں میں کربلا کے شہدا اور اسیروں کا درد یے ، ان کو ایام غم منانے دیں ۔ جن کو یزید کی حب بے چین کرتی ہے ، تذبذب میں کیوں ہیں ، یوم یزید  منائیں . جو حب علی سے سرشار ہیں انکو منانے دیں ۔ جن کو معاویہ کی محبت ہے معاویہ کی شان کے قصیدے گائیں ۔
یہ حقیقت ہے کہ آل رسول کو چھوڑا نہیں جا سکتا ۔  چھوڑ کر نہ نماز ہو گی نہ عبادت ۔ اگر یزید کو رہبر مانو گے تو حسین ع کو چھوڑنا پڑتا ہے ۔ درمیان کا راستہ منافقت بنتا ہے ۔ تذبذب کیوں ہے ۔ گھٹے گھٹے لفظوں میں یزیدیت کی حمایت سے حسینیت کی مخالفت کا عنصر نہیں چھپتا ۔ ایک راہ اختیار کرو  ۔ خوف کیوں ۔
تذبذب کیوں ۔
شکریه
آزاد ھاشمی



قرآن مبین


" قرآن مبین "
اللہ کریم کا دعویٰ ہے کہ قرآن ، آسان ، مفصل ، واضع اور مکمل کتاب ہے ۔ جو ہر کجی ، شک اور نقص سے قطعی مبرا ہے ۔  یہ دعویٰ اللہ کا ہے ، جس پر کسی سوال کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔ اللہ نے ان تمام امور کا حل بھی فرما دیا جو ناقدین اٹھاتے رہیں گے کہ اطاعت رسول صل اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرو ۔
اللہ نے قرآن کو سمجھنے  کے طریقے بھی واضع فرما دئے کہ قران پڑھو ، اس پر فکرکرو ، اور ایسے پڑھو جیسے پڑھنے کا حق ہے ۔ تدبر اور غورو فکر  لازمی حصہ ہیں ۔ 
ہماری مذہبی تربیت میں ثواب کا تصور قائم ہو چکا ہے ۔ ہم قران کو عموماً ثواب کے لئے پڑھتے ہیں ، اسکی تعلیمات کو سیکھنے کی غرض مفقود ہوتی ہے ۔ یا پھر ثانوی سوچ یہ رہ جاتی ہے کہ قران پاک کی کونسی آیات کس مسئلہ کا حل ہے ، کونسا وظیفہ کرنے سے دنیاوی آسائشوں کی راہ کھل جائے گی ۔  اس میں قطعی دوسری رائے نہیں کہ اللہ کی مبارک کتاب سے ملنے والی ہدایت سے ہر حل طلب مسئلہ حل ہو جاتا ہے ۔
ایک تصور کہ علماء کرام کی تفاسیر ، دیگر تشریحی کتب کے بغیر قرآن کو سمجھنا ممکن ہی نہیں ۔ قرآن کا تفصیلی مفہوم جاننے کے لئے کسی کتاب کی معاونت حاصل کرنا یا کسی عالم سے استفادہ کرنا ، ایک احسن قدم ہے ، شرط صرف اتنی ہے کہ سیکھنے والا اور سکھانے والا ، دونوں ہی کسی بھی مخصوص  مسلک کی عینک استعمال نہ کریں ۔  یہ تصور قائم کر لینا کہ قرآن کو سمجھنا  نا ممکن ہے  ،  قرآن کی  شان میں گستاخی بھی ہے اور تحقیقاتی کمزوری بھی ۔ دنیا میں قرآن سے زیادہ نہ کوئی کتاب مفصل ہے ، نہ واضع ، نہ علوم عالم پہ مستند ، نہ آسان اور نہ ہی عام فہم ۔
اگر یہ کہا جائے کہ قرآنی تعلیمات کی تشریح و تفسیر نے بہت سارے اختلافی مسائل پیدا کر دئیے ہیں ۔ جن کا حل بھی صرف قرآن سے ہی ملے گا ، صرف تحقیق کی ضرورت ہے ۔ تو غلط نہ ہو گا ۔
ہمیں اپنی اپنی فہم و فراست کے مطابق قرآن کو سیکھنے ، سمجھنے کی ہر ممکن سعی کرنا چاہئے ۔ یہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ قران سیکھے بھی اور سکھائے بھی ۔
اللہ ہم سب کو توفیق بخشے ۔ آمین
آزاد ھاشمی