آج بھی اگر تہذیب کا اصل چہرہ , خلوص کی
پہچان , وطن سے وارفتگی , مذھب سے لگاؤ اور انسانیت سے محبت دیکھنی ہو تو انہی
پتھر کے زمانے کے لوگوں میں دیکھی جا سکتی ہے - یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ہمیشہ انگریز
نے نا قابل تسخیر سمجھا اور ہمیشہ انکے کردار کو مضحکہ خیز بنانے کی کوشش
میں لگا رہا - کیونکہ اسے یہ اچھی طرح سے علم تھا کہ صرف اور صرف یہی وہ لوگ ہیں
جو کبھی دین پر سودے بازی نہیں کریں گے , نہ ہی یہ لوگ اپنی دھرتی کو بیچیں گے ,
نہ یہ اپنی روایات کو چھوڑیں گے - یہی وہ لوگ ہیں جو مذھب کے خلاف ہر سازش کو اپنی
جنگ سمجھیں گے -
یہ وہ کردار تھا جسے , ختم کرنا یا
تبدیل کرنا بالکل ایسے ہے تھا جیسے دریا کے پانی کو الٹا بہایا جاے - انکی یہی
اصول پرستی ہے جو انکو کبھی بھی , کسی بھی حال میں متزلزل نہیں کرتی - کوئی خوف
, کوئی لالچ , کوئی ترغیب اپنے رستے سے ہٹا نہیں سکتی - انکی جرات کو جہالت
سمجھنا اور ارادوں کو قدامت پرستی کہنا , ان لوگوں کا شیوہ ہے جو خود کسی بھی قیمت
پہ بک جاتے ہیں - جن کا اپنا کوئی کردار نہیں ہوتا , جو حیا اور بے حیائی میں تمیز
نہیں جانتے , جن کے آباؤ اجداد کے کردار مشکوک رہے ہیں - ایک ملاله کی تضحیک
جن کو نئی اقدار کی ترقی نظر آتی ہے - انہیں تاریخ سے آگاہی ہی نہیں , کہ یہی وہ
پتھر کے دور کے لوگ تھے جو کفر سے جب بھی بر سر پیکار ہوۓ , کفر کو ذلت ملی - یہی
وہ پتھر کے دور کے لوگ ہیں , جنہوں نے وطن کی حفاظت میں ہمیشہ پہل کی , یہی وہ لوگ
ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسلامی اقدار کو سینے سے لگاے رکھا - سلام ہے ان پتھر کے زمانے
کے لوگوں کو -
کاش ہم بحثیت قوم ایسے ہی پتھر کے زمانے کے
لوگ بن جاتے - پھر نہ کوئی اسلام کی تضحیک کرتا , نہ کوئی گستاخ رسول ہوتا , نہ
ہماری بہن بیٹیاں بازاروں میں بے پردہ گھومتیں - اور نہ ہی بے راہروی اتنی عام
ہوتی -
کاش ہم بھی پتھر کے زمانے کا لوگ ہو سکیں -
شکریہ
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment