Tuesday, 18 April 2017

نیا وبال

" نیا وبال "
ایک محترم جمہوریت پسند نے پیغام بھیجا ہے ۔
آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔  محترم کا تعلق جماعت سے ہے ،  اور جماعت جمہوریت کے بغیر اسلام کے نظام کو ممکن نہیں سمجھتی ۔ 
(" 'اسلامی جمہوریت' کی شاندار مثال"
خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے امیر کیسے منتخب ہوئے ۔ ۔؟

انتخابی عمل کچھ یوں تھا:
حضرت عمرؓ نے حضرات عثمان, علی, زبیر, طلحہ, سعد عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنھم چھ افراد  نامزد کرکے ایک پینل بنایا اور اپنے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بطور آبزرور مقرر کیا تاہم فر مایا کہ " وہ خلافت کا امیدوار نہیں ہوگا ". اگر اپ لوگ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب کریں گے تو بہتر ہوگا تاھم مرضی لوگوں کی ہے جسے چاہے اپنا خلیفہ منتخب کریں " عبدالرحمن بن عوف  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چیف الیکشن کمیشن یا ناظم انتخاب مقرر کیا گیا, باقی تین افراد نے بھی اپنا اپنا نام دوسرے کے حق میں واپس لے لیا. اس طرح صرف حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو امیدوار باقی رہے. الیکشن کمشنر عبدالرحمن رض  تین دن رات لوگوں کی رائے اکھٹا کرتا رہا. سب سے زیادہ رائے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی اس لیے انہیں خلیفہ مقرر کیا گیا. (بخاری, المناقب 523،524/1)

روایات میں آتا ہے کہ عاقل بچوں اور خواتین سے بھی رائے لی گئی. جو فوج حج کے لیے آئی تھی اور دیگر سر کاری اہل کاروں سے بھی رائے لی گئی, پھر چیف الیکشن نے خود بیعت کی, پھر حضرت علیؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت کی پھر دیگر لوگوں اور افواج وغیرہ نے. اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ثالث بنے. (بخاری, الحکام, 70/2، جامع الاصول ١٢٤١٣٨/٤)
اس حوالے میں بہت سارے سقم ہیں ۔ بہت سارے حقائق سے متضاد باتیں ہیں ، اگر اس تحریر کو مان لیا جائے ، تو بھی اس سے پہلے اور اسکے بعد کسی اسلامی جمہوریت کا تسلسل ثابت نہیں ہوتا ۔ یہ تحریر بھی ثابت نہیں کرتی کہ انتخابی عمل ہوا ، یہ بھی ایک شخص کی تحقیق کے گرد گھومنے والی کہانی ہے ۔ اس تحریر میں بھی عوام کی رائے کا ثبوت مہمل ہے ۔
خدا را قوم کو وہ راستہ دکھائیں جو اللہ اور اسکے رسول کا راستہ ہے ۔ یہودی کے نظام کو اسلامی کا پیوند نہ لگائیں ۔ قوم آپ لوگوں کو اسلامی جماعت کے نام کیوجہ سے اسلامی نظام کا نمائندہ سمجھتی ہے ۔ مہربانی کریں ۔
آزاد ہاشمی

اگر تم کافروں کا کہا مانو گے

" اگر تم کافروں کا کہا مانو گے "
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ "
اگر تم ان کافروں کا کہا مانو گے تو وہ تمہیں الٹے پاوں پھیر دیں گے ، اور تم گھاٹے میں پڑ جاو گے "
سوال یہ ہے کہ اتنی واضع تنبیہ ، ہمیں کیوں سمجھ نہیں آ رہی ۔ اتنے واضع الفاظ کے بعد بھی ہم کافروں کو اپنا رہبر بنائے بیٹھے ہیں ۔ انکی ماننا تو دور کی بات ہو گئی ہے ۔ ہم تو یہ باور کر چکے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی دوسرا چارہ ہی نہیں ۔ ہمارا حکومتی نظام کافروں کا دیا ہوا ،
ہمارا معاشی نظام کافروں کا ، ہمارا عدالتی نظام کافروں کا ، ہمارا معاشرہ کافروں کی طرز پر ،  ہمارا تعلیمی نظام کافروں کا عنایت کردہ ۔
ایک ایسا مسلمان ، جو قران کی تعلیمات سے اگاہ نہیں ۔ اسکا عذر تو ہو سکتا ہے کہ مجھے خبر نہیں تھی ۔ مگر ان لوگوں کے پاس کیا عذر باقی ہے ، جو مذہب کی تعلیمات سے بخوبی اگاہ ہیں ۔ ان علماء کے پاس کیا جواب ہے ، جنہوں نے دین کی خدمت کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔ انہوں نے اپنے مقلدین کو اللہ کی اس تنبیہ سے اگاہی کیوں نہیں دی ۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں قران پاک کی ہدایت سے سرفراز فرمایا ، ہم نے قران حفظ کر لیا ، تجوید سیکھ لی ، مگر سمجھ نہیں پائے کہ پیغام کیا تھا ۔
ہمیں فلاسفروں کی فلاسفی سمجھ آگئی ، منطق سیکھ  لی ، دنیا بھر کے علوم پر دسترس حاصل کر لی ۔ اگر سمجھ نہیں آیا تو قران ۔ ہمیں کچھ مکاتب فکر کے کرتا دھرتا  نے ڈرا دیا کہ قران سمجھنا عام ذہن کے بس میں ہی نہیں ۔ 
یہ ایک سازش تھی کافروں کی ، جو آہستہ آہستہ مسلمانوں کے ذہنوں پہ بٹھا دی گئی ، اور ہمیں الٹے پاوں روشنی چھوڑ کر گمراہی کی طرف موڑ دیا گیا ۔ آج ہم جس مقام پر آچکے ہیں ، اسے روشنی نہیں کہا جا سکتا ۔
یہ سب کافروں کی تقلید کے سبب ہے ۔
ازاد ھاشمی

مفتیان دین کے نام

" مفتیان دین کے نام "
اللہ نے آپ کو دین کے علم سے سرفراز کیا ۔ امت مسلمہ کی تربیت ، تعلیم اور حقیقی اگاہی کے لئے ۔ آپ کو اعزاز دیا کہ آپ حتمی رائے دے سکو کہ حدود کیا ہیں ۔
برائی اور نیکی میں حد فاصل باندھ سکو ۔ کیا آپ نے اس اعزاز کی توقیر برقرار رکھی ؟ مسالک کی ترویج کیا آپ کی دینی تعلیم کا حصہ تھی ؟ یا تفرقہ بازی کو روکنا آپ کے فرائض میں شامل تھا ؟ جہاد کا اطلاق کفر کے اسباب کو روکنا ، ظلم کو روکنا ، دین اور وطن سے مخاصمت کو روکنا تھا ، یا فرقوں کو فروغ دے کر اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر بنا کر انکی گردنیں کاٹنا تھا ؟ ۔ جابر اور خائن حکمرانوں کے سامنے گردنیں جکھا دینا ، کیا اسلام کی تعلیم تھی ؟  کیا وطن پر نافذ نظام کو اسلام سے مطابقت تھی ، اگر نہیں تو اسے فتویٰ دینے میں مصلحت کو کیا کہیں گے ؟ کیا ایک اسلامی مملکت میں غیر اسلامی طرز رائج ہو جائے تو علماء حق کی خاموشی پر کوئی فتویٰ جاری نہیں ہونا چاہئے تھا ؟ دین سے باغی کو سربراہ مان لینے پر آپ کی کیا رائے تھی ؟ مذہب میں خلفشار پیدا کرنے والے کو آپ کے علم میں کیا کہنا چاہئے  ؟
اگر آپ نے حق کو مصلحت کی نظر کر دیا ہے تو آپ پر دین کی کونسی حد لگتی ہے ؟
آپ نے خوف کو اپنے علم کی حد بندی بنا رکھا ہے تو آپ ایمان کے کس درجہ پر ہیں ؟
کیا کہتا ہے علم فتاویٰ کہ ایسے عالم کی تقلید کی جائے جو بے عمل ہے ، محض باتوں کا غازی ہے ؟
کیا آپ کو یقین ہے کہ اللہ زندگی اور موت ، رزق ، عزت اور ذلت پر قادر ہے ، اگر ہاں تو پھر حجروں میں کیوں چھپے بیٹھے ہو ۔ باہر آکر امت مسلمہ کو اگاہی کیوں نہیں دیتے کہ نظام کفر ، مذہب اسلام کی ضد ہے ۔
آزاد ھاشمی

اللہ کے قانون کے فیصلے

" اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ "
اللہ پاک نے اپنی مکمل اور ہر شک ، نقص ، کجی اور عیب سے پاک ، مفصل ، بلیغ ، آسان فہم اور ہر علم پر احاطہ کئے ہوئے  کتاب میں فرمایا ۔
" جو اللہ کے اس نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ، وہ ظالم ہے "
اللہ نے ہر معاشرتی معاملے پر جو حدود قائم کر دیں ، جو قوانین ، قواعد و ضوابط بیان فرما دئے ، ان میں سے کتنے ہیں ، جو ہماری روز مرہ زندگی پر لاگو ہیں ۔ کبھی غور کیا ، کبھی علماء نے اس پر اگاہی دی ۔ کبھی دانشوروں نے غور کیا ۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ، ہمیں کونسی راہ اختیار کرنا تھی اور ہم نے کونسی راہ کا انتخاب کر رکھا ہے ۔ کیا ہم زندگی کے فیصلے ، اللہ کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق کر رہے ہیں ۔ یقیناً نہیں ۔ اس نہیں کے بعد ، کیا ہمارا شمار ظالموں میں سے نہیں ہو جاتا ۔
کیا ایک ظالم کی بات اللہ سنے گا ، کیا ظالم کی دعا قبولیت حاصل کرے گی ، کیا ظالم کو اللہ کی حمایت حاصل ہو گی ۔  بالکل نہیں ۔
ہر ظالم کی سزا اللہ نے دردناک عذاب ، رسوائی اور ناکامی رکھا ہے ۔ کیا یہی وجہ نہیں کہ ہماری دعاوٴں کو قبولیت نہیں ، ہم رسوا ہیں ۔ کیونکہ ہم نے ہدایت جان  کر بھی اسے پس پشت ڈال رکھا ہے ۔
ہر ظالم پر ،ایک بڑا ظالم مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا قانون ہے ۔ آج اسی سبب ہم پر ظالم مسلط ہیں ۔ جج ظالم ، محافظ ظالم ، حکمران ظالم ، گویا ایک مکمل معاشرہ ظالم ۔  اور ہم امن ڈھونڈھ رہے ہیں ۔
اللہ کے بتائے ہوئے فیصلوں سے الگ فیصلے کر کے ۔ امن ڈھونڈھنا پاگل پن ہے ۔
ہمیں قران کو سیکھنے ، سمجھنے کیطرف آنا ہو گا ۔ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ، قران پاک کو اپنانا ہو گا ۔ آغاز کریں بہت کچھ سمجھ آ جائے گا ۔ اللہ کا دعویٰ ہے کہ یہ کتاب عام فہم ، بلیغ اور آسان ہے ۔ اللہ کی بات پر شک کی گنجائش نہیں رہنا چاہئے ۔  جو کہے قران سمجھ نہیں آتا ، اللہ پر بہتان باندھ رہا ہے ۔ اللہ کے دعوے کا منکر ہے ۔  یہ بھی ظلم ہے ۔
ازاد ہاشمی

توہین رسالت

" توہین رسالت "
خبر ہے ۔
" تحریک انصاف نے قومی اسمبلی اجلاس میں توہین رسالت قانون میں ترمیم کا مطالبہ کر دیا۔ شرین مزاری نے مطالبہ کیا کہ توہین رسالت قانون معصوم لوگوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اسے ختم کیا جائے۔ اگر حکومت نے اس سلسلے میں خود قرارداد پیش نہ کی تو تحریک انصاف یہ قرارداد لائے گی۔"
کمال ہو گیا ۔ ابھی تو تحریک انصاف کی پتنگ ہوا میں بلند ہی نہیں ہوئی تھی کہ ڈور کو بے لگام  کر دیا ۔ سیاست کے نشے میں ، یہ بھول جانا کہ ہماری تو دنیا اور عاقبت ہے ہی توقیر رسالت سے ۔ ہمیں دنیا میں اگر کوئی پہچان حاصل ہے تو صرف رسالت کی غلامی سے ۔ کون کہتا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب لوگوں کو قانون سے سزا ملتی ہے ۔ یہ سزا تو رسالت کے شیدائی منتخب کرتے ہیں ۔ اور وہی عملدرامد کرتے آئے ہیں ، کرتے رہتے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ 
توہین رسالت کا معاملہ قانون کا نہ تھا اور نہ ہے ۔ یہ ایمان کا معاملہ ہے اور جن دلوں میں ایمان زندہ ہے ، وہ رسول پاک پر کھلنے والی زبان کو روکتے بھی رہیں گے اور کاٹتے بھی ۔ رسول خدا کی توہین کا مرتکب ، اللہ کی ذات کی توہین کا مرتکب ہے ۔ اسے روکنا ، سزا دینا اور کیفر کردار تک پہنچانا ، ایمان ہے ، جہاد ہے ۔
بی بی یقین کر لو کہ تمہاری سیاست کی کہانی زوال کا شکار ہو گئی ۔ اگر یہ پالیسی تحریک انصاف کی پالیسی ہے ، عمران خان کی سوچ ہے ، تمہارے دیگر رفقاء کا ارادہ ہے ، تو اپنی تحریک کی ناکامی کا یقین کر لو ۔ یہود نوازی کا جو الزام ہے ، اسے حقیقت کا رنگ دے رہے ہیں آپ لوگ ۔ ہوش کرو اور اپنے ایمان کی اصلاح کرو ۔
ازاد ہاشمی