" نیا وبال "
ایک محترم جمہوریت پسند نے پیغام بھیجا ہے ۔
آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ محترم کا تعلق جماعت سے ہے ، اور جماعت جمہوریت کے بغیر اسلام کے نظام کو ممکن نہیں سمجھتی ۔
(" 'اسلامی جمہوریت' کی شاندار مثال"
خلیفہ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے امیر کیسے منتخب ہوئے ۔ ۔؟
انتخابی عمل کچھ یوں تھا:
حضرت عمرؓ نے حضرات عثمان, علی, زبیر, طلحہ, سعد عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنھم چھ افراد نامزد کرکے ایک پینل بنایا اور اپنے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بطور آبزرور مقرر کیا تاہم فر مایا کہ " وہ خلافت کا امیدوار نہیں ہوگا ". اگر اپ لوگ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب کریں گے تو بہتر ہوگا تاھم مرضی لوگوں کی ہے جسے چاہے اپنا خلیفہ منتخب کریں " عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چیف الیکشن کمیشن یا ناظم انتخاب مقرر کیا گیا, باقی تین افراد نے بھی اپنا اپنا نام دوسرے کے حق میں واپس لے لیا. اس طرح صرف حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو امیدوار باقی رہے. الیکشن کمشنر عبدالرحمن رض تین دن رات لوگوں کی رائے اکھٹا کرتا رہا. سب سے زیادہ رائے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی اس لیے انہیں خلیفہ مقرر کیا گیا. (بخاری, المناقب 523،524/1)
روایات میں آتا ہے کہ عاقل بچوں اور خواتین سے بھی رائے لی گئی. جو فوج حج کے لیے آئی تھی اور دیگر سر کاری اہل کاروں سے بھی رائے لی گئی, پھر چیف الیکشن نے خود بیعت کی, پھر حضرت علیؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت کی پھر دیگر لوگوں اور افواج وغیرہ نے. اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ ثالث بنے. (بخاری, الحکام, 70/2، جامع الاصول ١٢٤١٣٨/٤)
اس حوالے میں بہت سارے سقم ہیں ۔ بہت سارے حقائق سے متضاد باتیں ہیں ، اگر اس تحریر کو مان لیا جائے ، تو بھی اس سے پہلے اور اسکے بعد کسی اسلامی جمہوریت کا تسلسل ثابت نہیں ہوتا ۔ یہ تحریر بھی ثابت نہیں کرتی کہ انتخابی عمل ہوا ، یہ بھی ایک شخص کی تحقیق کے گرد گھومنے والی کہانی ہے ۔ اس تحریر میں بھی عوام کی رائے کا ثبوت مہمل ہے ۔
خدا را قوم کو وہ راستہ دکھائیں جو اللہ اور اسکے رسول کا راستہ ہے ۔ یہودی کے نظام کو اسلامی کا پیوند نہ لگائیں ۔ قوم آپ لوگوں کو اسلامی جماعت کے نام کیوجہ سے اسلامی نظام کا نمائندہ سمجھتی ہے ۔ مہربانی کریں ۔
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment