" مفتیان دین کے نام "
اللہ نے آپ کو دین کے علم سے سرفراز کیا ۔ امت مسلمہ کی تربیت ، تعلیم اور حقیقی اگاہی کے لئے ۔ آپ کو اعزاز دیا کہ آپ حتمی رائے دے سکو کہ حدود کیا ہیں ۔
برائی اور نیکی میں حد فاصل باندھ سکو ۔ کیا آپ نے اس اعزاز کی توقیر برقرار رکھی ؟ مسالک کی ترویج کیا آپ کی دینی تعلیم کا حصہ تھی ؟ یا تفرقہ بازی کو روکنا آپ کے فرائض میں شامل تھا ؟ جہاد کا اطلاق کفر کے اسباب کو روکنا ، ظلم کو روکنا ، دین اور وطن سے مخاصمت کو روکنا تھا ، یا فرقوں کو فروغ دے کر اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر بنا کر انکی گردنیں کاٹنا تھا ؟ ۔ جابر اور خائن حکمرانوں کے سامنے گردنیں جکھا دینا ، کیا اسلام کی تعلیم تھی ؟ کیا وطن پر نافذ نظام کو اسلام سے مطابقت تھی ، اگر نہیں تو اسے فتویٰ دینے میں مصلحت کو کیا کہیں گے ؟ کیا ایک اسلامی مملکت میں غیر اسلامی طرز رائج ہو جائے تو علماء حق کی خاموشی پر کوئی فتویٰ جاری نہیں ہونا چاہئے تھا ؟ دین سے باغی کو سربراہ مان لینے پر آپ کی کیا رائے تھی ؟ مذہب میں خلفشار پیدا کرنے والے کو آپ کے علم میں کیا کہنا چاہئے ؟
اگر آپ نے حق کو مصلحت کی نظر کر دیا ہے تو آپ پر دین کی کونسی حد لگتی ہے ؟
آپ نے خوف کو اپنے علم کی حد بندی بنا رکھا ہے تو آپ ایمان کے کس درجہ پر ہیں ؟
کیا کہتا ہے علم فتاویٰ کہ ایسے عالم کی تقلید کی جائے جو بے عمل ہے ، محض باتوں کا غازی ہے ؟
کیا آپ کو یقین ہے کہ اللہ زندگی اور موت ، رزق ، عزت اور ذلت پر قادر ہے ، اگر ہاں تو پھر حجروں میں کیوں چھپے بیٹھے ہو ۔ باہر آکر امت مسلمہ کو اگاہی کیوں نہیں دیتے کہ نظام کفر ، مذہب اسلام کی ضد ہے ۔
آزاد ھاشمی
Tuesday, 18 April 2017
مفتیان دین کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment