Saturday, 28 September 2019

الم تر کیف فعل ربک

" الم تر کیف فعل ربک "
قرآن مجید میں ، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کائنات کے ہادی کو مخاطب فرمایا ۔
" کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا "
باور ہو کہ یہ واقعہ اسی سال  رونما ہوا تھا ، جس سال حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی ۔ ابرہہہ ایک جوشیلا عیسائی گورنر تھا ، جو عیسائیت کو عروج پر دیکھنے کیلئے بیت اللہ کو منہدم کرنے کیلئے دوڑ نکلا تھا ۔ اسے زعم بھی تھا اور حقیقت بھی تھی کہ مکہ کی چند ہزار افراد کی آبادی میں کوئی اتنا جری لشکر نہیں تھا جو اسکا راستہ روکتا ۔ اللہ پاک نے اپنے حبیبؐ کو مخاطب کرتے ہوئے پوری امت مسلمہ کو سوال کیا ہے کہ
" کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا "
اشارہ ہے کہ اگر تمہارا ایمان اور توکل قائم ہے تو غور کرو کہ اللہ کی قوت اور تدبیر کتنی طاقتور ہے ۔ یہ الفاظ ایسے ہی ہیں جیسے کسی کو پوری طرح چوکنا کیا جانا مقصود ہو ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ امت مسلمہ کو چوکنا فرما رہا ہے ۔ پھر بتایا جاتا ہے 
"کیا ہم نے انکی ہر تدبیر کو غلط نہیں کردیا "
ابرہہہ کی تدبیر تھی کہ کعبہ کے انہدام کی صورت میں مشرکین کی توجہ اس عالی شان کلیسا کیطرف مبذول ہو جائے گی ، جو اس نے صنعا میں تعمیر کرایا تھا اور عیسائیت اپنے عروج کو چھو لے گی ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے دنیاوی طور پر اسکے سامنے کوئی رکاوٹ باقی نہیں تھی ۔ طاقتور لشکر جس کا ہراول دستہ ہاتھیوں پر مشتمل تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
" ہم نے ان پر پرندے بھیجے "
پرندے کا ذکر کرتے ہوئے واضع فرما دیا کہ چھوٹا سا پرندہ " ابا بیل " تھا ۔ یہ ایک کمزور اور نہایت چھوٹا سا بے ضرر پرندہ ہے ۔ جسکی جسامت " چڑیا " سے بھی چھوٹی ہوتی ہے اور جس کی خوراک ہوا میں اڑنے والے حشرات ہوتے ہیں ، جو صرف اسے زندہ رکھ سکیں ۔ کمزوری کی حالت یہ ہے کہ اگر زمین کی ہموار سطح پہ بیٹھ جائے تو  دوبارہ اڑ نہیں سکتا ۔ اسلئے ہمیشہ کسی پتھر یا تھوڑی اونچی جگہ پر بیٹھتا تاکہ اڑ سکے ۔ عرب کی ہموار زمین سے کنکر اٹھا کر اڑنا اور پھر اسے ابرہہہ کے لشکر پر پھینکنا ، ایک معجزہ سے کم نہیں تھا ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
" جو اس لشکر پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں پھینک رہے تھے ۔ اور ان پرندوں نے ابرہہہ کے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے کیطرح کر ڈالا "
اگر ہم عقل کے ترازو پہ تولنے کی کوشش کریں تو سمجھ نہیں آتا کہ کیا چوٹی سی کنکری اتنی  ہلاکت خیز ہو سکتی ہے کہ ہاتھی بھسم ہو جائے ۔ یہ صرف رب کی پاک ذات ہے جو اپنے دشمن کیلئے کر سکتا ہے ۔ یہی ایمان ہے کہ جو رب کہے اس پر عقل استعمال کئے بغیر یقین کر لیا جائے ۔
اس واقعہ سے حبشہ اور یمن کے لوگوں میں خوف بیٹھ گیا ، اور یقین کی ایک کرن دکھائی دی کہ کعبہ کی حفاظت کرنے والے بت نہیں ، بلکہ کوئی دوسری غیبی طاقت ہے ۔ اہل مکہ کے اندر بھی ایک جرات اور بہادری نے جنم لیا کہ وہ بے سہارا نہیں ہیں ۔
یہ واقعہ مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کیلئے بھی مذکور ہے کہ جو رب چھوٹے چھوٹے پرندوں سے بڑے بڑے ہاتھیوں کو بھوسہ بنا سکتا ۔ عبدالمطلب کے اللہ پر توکل سے کی گئی دعا کا اثر اتنا حیرت انگیز ہو سکتا ہے تو پھر مسلمانوں میں اسی توکل کی کمی ہے جو آج رسوائی جھیل رہے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ ستمبر ٢٠١٩

Thursday, 26 September 2019

ابرہہہ کے ہاتھی

" ابرہہہ اور ہاتھی "
جغرافیائی اعتبار سے بحراحمر کی دائیں طرف یمن ہے ، جو نسلی اعتبار سے عرب ہیں اور اس کے سامنے ہی بائیں طرف  "حبشہ "  جس کو اب " ایتھوپیا " کہا جاتا ہے  اور یہ افریقی ہیں  ۔ یمن والے بنیادی طور پر دیگر عربوں کیطرح  بت پرست اور دیگر مشرکانہ عقائد کے مقلد تھے ۔ حبشہ نے یمن پر چڑھائی کردی اور اسے اپنا زیر نگیں کر لیا ، حبشہ کے لوگ مذہباً عیسائی تھے اور اس عرب ملک پر قابض ہوگئے ، حبشہ کیلئے یہ بہت بڑی فتح تھی کہ وہ ایک عرب ملک پر قابض ہوگئے ، اور اسے عیسائیت کی کامیابی قرار دیا گیا ۔ عیسائیوں کو اس غلبہ نے عیسائت کی ترویج کی راہ ہموار کردی ۔  حبشہ کے بادشاہ نے  ابرہہ  کو یمن کا گورنر بنا  دیا ، چونکہ وہ ایک پُر جوش عیسائی تھا اور چاہتا تھا کہ اس پورے خطہ میں عیسائیت کو بنیادی مذہب کی حیثیت حاصل ہوجائے ۔  چنانچہ اس نے یمن کی راجدھانی صَنْعَاء میں قُلَّیْس نامی ایک شاہکار عمارت بنائی ، جو اپنی شان و شوکت ، سجاوٹ اور خوبصورتی کے اعتبار سے ایک مثالی عمارت تھی ،  یہ عیسائیوں کا عبادت خانہ یعنی چرچ تھا ۔
ابرہہ  کا احساس تھا کہ عیسائیت کی اشاعت میں سب سے بڑی رکاوٹ مکہ میں بنی ہوئی عبادت گاہ " کعبہ " ہے ، عربوں کو اس میں ایسی کشش اور اس عمارت سے ایسا جذباتی لگاؤ ہے کہ وہ اس کے مقابلہ میں کسی اورعبادت گاہ کو خاطر میں نہیں لاتے ؛ اس لئے عرب قبائل سے کہاجائے کہ وہ مکہ میں کعبہ کا حج کرنے کی بجائے " صنعاء " میں " قُلَّیْس " کا حج کریں ، عربوں کو جب یہ بات پہنچی تو انھیں بڑا غصہ آیا ، اتفاق سے اس وقت بعض عرب صنعاء میں موجود تھے ، انھوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے اسی عمارت میں قضاء حاجت کردی ،  تفتیش کی گئی تو معلوم ہواکہ یہ حرکت ان ہی لوگوں میں سے کسی نے کی ہے ، جو حج کے لئے کعبہ کو جایا کرتے ہیں ۔ ابرہہ کا غصہ اس وجہ سے اور بڑھ گیا ، قبیلہ بنوکنانہ کا آدمی اس کے پاس موجود تھا ، ابرہہ نے اس کو بھیجا کہ وہ اپنے قبیلہ کے لوگوں کو کعبہ کے بجائے قلیس کے حج کی دعوت دے ، جب وہ یہ پیغام لے کر پہنچا تو قبیلہ کے لوگوں نے اسے قتل کر ڈالا ، اب ابرہہ کا غصہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور اس نے عزم مصمم کر لیا کہ ہم ہر قیمت پر کعبہ کو منہدم کرکے رہے گا ۔  ابرہہ نے  ساٹھ ہزار افراد پر مشتمل فوج  تیار کی ، اس میں ایک دستہ  ہاتھیوں کا بھی تھا ۔  اسوقت مکہ کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل تھی ، اتنی بڑی یلغار کی قطعی ضرورت نہیں تھی ۔
بد مست ہاتھیوں اور بیشمار افراد پر مشتمل  لشکر کے راستے میں " کعبہ " کو گرانے کیلئے کوئی ایسی رکاوٹ نہیں ، پھر بھی وہ کوئی  امکان باقی نہیں رہنے دینا چاہتا تھا جو اسکے ارادوں کی تکمیل میں رکاوٹ بن جائے ۔
کعبہ کے متولی " عبدالمطلب " تھے ، انہوں نے  مکہ کے روساء کو مکہ سے کسی دوسری جگہ محفوظ مقام پر بھیج دیا اور  خود " کعبہ " میں رک گئے ۔ ابرہہہ کے لشکر نے عبدالمطلب کے اونٹ پکڑ لئے ، جنہیں لینے کیلئے عبدالمطلب ابرہہہ کے پاس گئے ۔ یمن کا یہ سرپھرا عیسائی تکبر میں بیٹھا ، عبدالمطلب سے مضحکہ خیز انداز میں بولا ۔
" آپ کو کعبہ کی فکر نہیں ، اپنے اونٹوں کی فکر ہے ؟ "
کعبہ کی چابیاں رکھنے والا یہ بہادر  سردارکہنے لگا ۔
" اونٹ میرے ہیں ، مجھے انکی حفاظت کی فکر ہے , کعبہ جس کا ہے وہ اسکی حفاظت بھی کرے گا "
پھر ابابیل کا لشکر ، کنکریوں کی بارش ، اور ہاتھیوں کی بے چینی میں ابرہہہ کا لشکر " کھائے ہوئے بھوسے " کیطرح بکھرا پڑا تھا ۔
آج بھی کچھ ابرہہہ " کعبے " پر یلغار کی غرض سے اکٹھے ہیں ۔ آج بھی زعم باقی ہے کہ عیسائیت کو غلبہ دلا کر رہیں گے ۔ آج بھی ہاتھی ہیں ، اسوقت گوشت پوست کے تھے ، آج فولاد کے ہیں ۔ ابرہہہ جس دور کا بھی ہو ، کھائے ہوئے بھوسے کیطرح نابود ہوتا ہے ۔ کمی کہاں ہے ؟ کہ عبدالمطلب کا ایمان اور یقین نظر نہیں آ رہا ، کہ اللہ پھر سے ابابیل بھیج دے ۔ ایمان اور یقین بننے کی دیر ہے ، اللہ کی مدد ضرور آئے گی ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ ستمبر ٢٠١٩

کربلا کے مسلمان "

" کربلا کے مسلمان "
کربلا میں دو حریف آمنے سامنے تھے ۔ایک حریف پوری طاقت کے ساتھ میدان میں تھا ، دوسرا چند اہل خاندان کے ساتھ دین کی خاطر سفر میں تھا ۔ اس کمزور حریف کے ساتھ پردہ دار خواتین تھیں ، چند نوجوان تھے ، کچھ بچے تھے اور چند بوڑھے ۔ دوسرے حریف کے ساتھ حاکم وقت کے بہترین تیر انداز ، بہترین تلوار باز اور جنگی چالوں سے بہترین اگاہی رکھنے والے ہزاروں لوگ ۔ کمزور حریف کے قافلے میں بہت سارے ایسے بھی تھے ، جو آل رسولؐ تھے ۔ وہی آل رسولؐ جن پر درود بھیجے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔
اکثر سوچتا ہوں اور سوال کا جواب نہیں پاتا ہوں کہ آخر اس کربلا میں ہزاروں مسلمان جو آل رسولؐ کا راستہ روکے کھڑے تھے ۔ کیا وہ مسلمان تھے بھی کہ نہیں ۔ کیونکہ اگر مسلمان تھے تو نماز تو پڑھتے ہونگے ۔ اگر نماز پڑھتے ہونگے تو
" اللھم صل علی محمد و علی آل محمد " پڑھنا لازم ہے ۔ عرب تھے تو جانتے بھی ہونگے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ پھر نماز پڑھنے والوں نے " آل محمد " پر تیر کیسے برسا دئیے ؟ آل رسولؐ پر  تلواریں کیسے سونت لیں ؟ گردنیں کیسے کاٹ دیں ؟ جسموں پر گھوڑے کیسے دوڑا دئیے ؟ پانی کیسے بند کردیا ؟ نیزوں پہ سر کیسے ٹانگ ڈالے ؟ رسولؐ کے گھر کی خواتین کے ہاتوں میں رسیاں کیسے باندھ ڈالیں ؟
یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اسلام کے بھیس میں ، وہی پرانے مشرک تھے ۔ جو اللہ کے نام کو سننے سے گریزاں تھے ۔ انہوں نے فتح مکہ کے وقت مسلمان ہونے کا ایک ڈھونگ  رچایاتھا ۔ یہ انہی سرداروں کی اولاد تھی جنہوں نے رسولؐ کو قتل کرنے کیلئے کئی میدان سجائے ۔ معلوم نہیں جو مسلمان ہی نظر نہیں آ رہے ، ان پر اللہ کے راضی ہونے کا اعلان کیسے کیا جا سکتا ہے ۔ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ انہیں جنت کی بشارت رسولؐ نے دی ہوگی ۔ یہ تو آل محمدؐ کے دشمن تھے اور دشمنی کو ثابت کر دکھایا ۔ جن کے دل کی حالت" علیم بالذات الصدور " جانتا ہو ، ان سے رسولؐ کیسے بے خبر ہوگا ۔
آزاد ھاشمی
٢٤ ستمبر ٢٠١٨

Wednesday, 25 September 2019

آفات آسمانی کیوں ؟

" آفات آسمانی کیوں ؟ "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی بلیغ کتاب میں فرمایا ۔
اَوَ لَا  یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ  کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً  اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ۔
" اور کیا ان کو  دکھلائی نہیں دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں  پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں "
آفات کا تسلسل انسان کو اگاہی ہے کہ تمہاری ساری کارگزاریوں پر نگرانی ہوتی ہے ۔ اللہ ہر اس عمل سے جو ظاہر میں کرتے ہو یا چھپ چھپا کر ،  اسے خوب دیکھتا ہے ۔ منافقت انسانوں سے چھپائی جا سکتی ہے مگر علیم و خبیر سے نہیں ۔ اللہ پاک غفور و رحیم ہے اور اکثر نادانیوں سے در گذر فرماتا ہے ۔ ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہت غلط نہیں ۔ ایسی سوچ پر تنبیہہ کے لئے کبھی زلزلہ کے ہلکے ہلکے جھٹکے ، کبھی تھوڑی شدت کے ساتھ ، کبھی بپھرے ہوئے پانی کے سیلاب اور کبھی باہمی قتل و غارت گری کی صورت میں چوکنا کیا جاتا ہے ۔ بیشتر اسکے کہ کوئی سونامی آ جائے ،  زمین کو پلٹ دیا جائے ، انسانوں کو خبر جاری رہتی ہے اور اللہ کی پکڑ سے پہلے چھوٹے چھوٹے نشان ظاہر ہوتے رہتے ہیں ۔ فرعون کو تکبر تھا کہ وہ نہایت طاقتور ہے ۔ اسے زعم تھا کہ وہ ہر عمل پر قادر ہو گیا ہے ۔ جب اللہ کیطرف سے چھوٹے چھوٹے نشان ظاہر ہونے لگے تو وہ اپنی راہ کو درست کرنے کی بجائے مزید اکڑتا گیا اور پھر پانی میں غرق ہوگیا ۔ نمرود بھی ایک مچھر کی اذیت برداشت نہ کر سکا ۔ عاداور ثمود بھی بہت طاقتور تھے ، نشان تک مٹا دیا گیا ۔ اب اس دور کے مسلمان ، جو قرآن کو چھوڑ بیٹھے ، رسولؐ کے اسوہ سے دور ہوگئے اور دنیا کے پیچھے حرص نے کتا بنا رکھا ہے ۔ کس کس آفت کا شکار نہیں ۔ بڑے بڑے ڈکٹیٹر کس اذیت کے موت مار دئیے گئے ۔ پوری مسلمان امت طاغوت کے سامنے بھیڑ بکریوں کیطرح ریوڑ بنی ہوئی ہے ۔ کبھی برما میں ، کبھی عراق میں ، کبھی شام میں اور کبھی کشمیر میں طاغوت کے لشکر جب چاہتے ہیں ہانک کر مقتل لے جاتے ہیں ۔ جو بچ جاتے ہیں وہ کھڑے تماشا دیکھتے ہیں ۔ بے خبر کہ ایک روز انکی باری بھی آنے والی ہے ۔ یہ بھی عذاب کی ہی ایک شکل ہے ۔ یہی عذاب بنی اسرائیل کی سرکشی پر ملا تھا ، کہ فرعون کے سپاہی انہیں جانوروں کیطرح ہانکتے تھے ۔ مردوں کو مار دیتے تھے اور عورتوں کو کنیزیں بنا لیتے تھے ۔ کیا یہ سب کچھ ہم کشمیر میں نہیں دیکھ رہے ؟ کیا ہم نے یہ تماشا برما میں نہیں دیکھا ؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ قرآن  کی  آیت کھلی اگاہی ہے ۔ مگر ہم نے نہ پہلے توبہ کیطرف بڑھنا شروع کیا اور نہ اب کر رہے ہیں ۔ ہمیں کوئی نصیحت متاثر  ہی نہیں کرتی ۔ ہم اسی کو بہتر سمجھتے ہیں جو خود کو اچھا لگتا ہے ۔ نہ اللہ پاک کی سنتے ہیں اور  نہ رسول اللہ کی ۔
آزاد ھاشمی
٢۵ ستمبر ٢٠١٩

ذلک الکتاب لا ریب فیہ

" ذلک الکتاب لا ریب فیہ "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انتہائی  آسان طریقے سے قرآن پاک کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ
" یہ وہ کتاب ہے ، جس میں کوئی
نقص ،  خامی یا ٹیڑھ نہیں ہے "
ریب وسیع معنی اور بلیغ لفظ ہے ، جس کو صرف " شک " تک محدود کر دینے سے معانی واضع نہیں ہو پاتے ۔ معلوم نہیں کہ اس تاثر نے کیسے جنم لیا کہ قرآن پاک کو کتابی شکل میں لانے کیلئے صحابہؓ کا بہت عمل تھا اور نہ ہی یہ وضاحت  ہو پاتی ہے کہ قرآن پاک کی تدوین دراصل کس جلیل القدر امیر المومنین کے دور میں ہوئی ؟ اس تحقیق کی ضرورت یوں باقی نہیں رہ جاتی کہ اس کی بنیادی وضاحت اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دی ہے ۔
قرآن کے آغاز میں اس آیت کا موجود ہونا ، کسی بھی ابہام کا جواب ہے کہ قرآن پاک حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ، تو لوح محفوظ میں کتاب کی شکل ہی میں موجود تھا ۔ گو آیات کا نزول وقتی مسائل کے اعتبار سے بتدریج ہوتا رہا ۔  مگر اسکی ترتیب و تدوین وہی تھی جو لوح محفوظ میں موجود تھی اور جو آج ہے ۔ اس ترتیب و تدوین کا معاملہ ہر گز قابل بحث نہیں ۔
قرآن کو ’ کتاب ‘ کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید پیغمبر اسلام ﷺ  کی حیاتِ طیبہ ہی میں ایک مُصحف اورکتاب کی صورت میں اسی شکل میں مرتب ہوچکا تھا ،جس شکل میں لوح محفوظ میں موجود تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک اسکا ایک ایک حرف محفوظ رہے گا ۔  اگر یہ مان لیا جائے کہ قرآن پاک کبھی پتوں پہ محفوظ کیا گیا اور کبھی چمڑے کے ٹکڑوں پر اور کبھی لکڑی کے تختوں پر تو قرآن کو الہامی کتاب نہ ماننے والے مستشرقین کیلئے آسانی ہوجاتی ہے ۔ کہ وہ قرآن کو بھی زبور ، تورات ، انجیل یا دوسرے صحائف کیطرح تحریف کی صف میں لے آئیں ۔
قرآن ہرگز  متفرق یا د داشتوں کا مجموعہ نہیں ، جسے پیغمبر سے ان کے مختلف اصحابؓ نے موقع بہ موقع سنا ہو ، پھر سینہ بہ سینہ ان کی روایت ہوئی ہو اور بعد کو یہ یاد داشتیں الفاظ ومعانی کی نوع بہ نوع تبدیلیوں کے ساتھ نقل اور جمع کی گئی ہوں ۔ کیونکہ ان مدارج سے گزرنے کے بعد شکوک کےجنم لینے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ اسی لئے قرآن کے آغاز ہی میں وضاحت فرما دی گئی کہ یہ "قرآن " ایک کتاب کی شکل میں نازل ہوا ۔ اور ایسی کتاب کہ جس میں کسی تحریف ، کسی نقص ، کسی کجی یا کسی ٹیڑھ کی گنجائش باقی نہیں ۔
قرآن مجید میں جتنے حقائق و واقعات بیان کئے گئے  ، گذشتہ اقوام کے قصص و واقعات ہوں ، مستقبل کی خبریں ہوں یا کائنات کی چھپی ہوئی حقیقتوں کا ذکرہو ، خواہ ان کا تعلق فلکیات سے ہو ، طبعیات سے ہو یا حیاتیات سے ، یہ سب حقیقت پر مبنی ہیں ، ان کے بارے میں شک و شبہ کا کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔  اگر کوئی بات ہماری  سمجھ اور ادراک سے باہر ہے تو یہ انسانی کی عقل  کی کوتاہی اور فہمِ و شعور کی انحطاط ہے ۔ آج چودہ سو سال سے زاید عرصہ گذر جانے کے بعد تمام سائنسی ، طبی اور تکنیکی عروج گواہ ہے کہ جو کچھ قرآن میں درج ہے ، وہ سب کا سب من و عن سچ اور حقیقت ثابت ہو رہا ہے ۔ جیسے جیسے شعور میں وسعت آ رہی ہے ، ویسے ویسے قرآن کے رموز واضع ہو رہے ہیں ۔ یہ قرآن کے " لاریب " ہونے کی دلیل ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢۵ ستمبر ٢٠١٩

Tuesday, 24 September 2019

یزید کی دادی (۵)

" یزید کی دادی (۵) ۔"
گذشتہ مختصر تحریروں میں واضع ہوتا ہے کہ ہندہ کو کسی بھی طور نہ تو صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔ کیونکہ فتح مکہ کے دن ، جس روز وہ اسلام قبول کرتی ہیں ، اللہ کے رسولؐ کا حکم ہوتا ہے کہ موصوفہ دوبارہ کبھی آپؐ کے سامنے نہ آئیں ۔ نہ جنگوں میں بطور مجاہدہ شرکت کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ اب ایک اور  دلیل دی جاتی ہے کہ ہندہ حضور اکرمؐ کی ساس تھیں ، اس لحاظ سے رشتہ داری اور رقابت ظاہر ہوتی ہے ۔ باور ہو کہ معاویہ نے بھی حضور اکرمؐ کا سالہ ہونے کو اپنی امارت کیلئے زینہ بنایا تھا ۔ کیونکہ کسی طلقاء کو امارت اسلامی کا حق حاصل نہیں تھا ۔
تاریخی حوالہ جات کے مطابق ہندہ حضرت رملہؓ کی حقیقی والدہ نہیں تھیں ، ام حبیبہؓ (رملہ ) کی حقیقی والدہ صفیہ بنت ابو العاص  تھیں۔ یہ بھی واضع ہو کہ یہ نکاح حجرت حبشہ کے بعد ہوا تھا ، جس وقت ابوسفیان اور ہندہ حضور اکرمؐ کے دشمنوں کی اولین صفوں میں تھے ۔
رشتوں اور رقابت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ابولہب ، ابو جہل تو بہت قریبی رشتہ دار تھے ۔ جبکہ خلفاء راشدین میں سے پہلے تینوں خلفاء کے قبائل بھی الگ تھے ۔ مگر دینی قربت کے اعتبار سے اسوقت بھی قریب تر تھے ،  جبکہ رشتہ داریاں ابھی شروع نہیں ہوئیں تھیں ۔ اگر ساس ہونا اعزاز سمجھ لیا جائے تو حضرت میمونہؓ کی والدہ ماجدہ ہند بنت عوف تھیں ۔جن کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کی   بیٹیاں  بالترتیب نبی اکرمؐ اور دو خلفاء راشدین کے ساتھ رشتہ ازدواج میں تھیں ۔   اسی لیے انہیں عرب میں عظیم تریں دامادوں کی ساس کہا جاتا ہے۔ حضرت صفیہؓ  کے والدحیی بن اخطب قبیلہ بنو نضیر سے تعلق تھا ، والدہ برہ بنت سموال قبیلہ بنو قریظہ سے تھیں جو دونوں یہودی قبائل تھے ۔ کیا نبی کے ساس اور سسر ہونے پر انکو بھی برات ملتی ہے ؟ ہر گز نہیں کیونکہ برات کیلئے ایمان اور کامل ایمان مشروط ہے ۔
اگر ہم اسی تسلسل سے دیکھتے جائیں تو ماریہ قبطیہ بھی آپ کی ازدواج میں شامل ہیں اور انکے والدین بھی عیسائی تھے ۔ 
گویا یہ دلیل نہایت کمزور ہے کہ ہندہ کو ساس ہونے کے ناطے نبی پاکؐ سے قریبی نسبت ہے اسلئے مسلمانوں پر انکا احترام واجب ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢۴ ستمبر ٢٠١٩

 

Sunday, 22 September 2019

یزید کی دادی (۴) "

" یزید کی دادی (۴) "
بنو امیہ سے محبت رکھنے والوں کا ایک اصرار اور دلیل یہ بھی ہے کہ جس جس نے بھی اسلامی جنگوں میں حصہ لیا ، خواہ وہ غزوات ہوں ، سرایہ ہوں یا خلفاء راشدین دور کی جنگیں ہوں ۔ وہ احادیث نبوی کے تحت جنتی ہو جاتے ہیں اور اللہ ان پر راضی ہو جاتا ہے ۔
اسلام کے دفاع اور سربلندی کیلئے کوئی بھی عملی اقدام جہاد کہلاتا ہے , اس سے انکار ممکن نہیں کہ جہاد اللہ کے ہاں محبوب ترین عمل ہے ۔ اگر کسی نے جہاد کیا تو اسے جہاد کا اجر دینا اللہ کی مشیت ہے اور اسکی رضا ہے ۔  صحابہؓ کے مقام و منزلت کے اپنے اپنے درجے ہیں ۔ سب کو ایک ہی جیسا مان لینا ، نہ تو قرین قیاس ہے اور نہ ہی ممکن ۔ تقوی ، رسولؐ کی اطاعت ، اسلام سے علمی اگاہی اور اسلام کیلئے دی گئی قربانیاں ان درجات کی بنیاد ہیں ۔ جنہوں نے روز اول سے اسلام قبول کیا اور اسکے لئے ساری عمر قربانیوں میں گذار دی ، اور جو مصلحت کے تحت مسلمان ہوئے  ، دونوں کو برابر درجہ نہیں دیا جا سکتا ۔ ایک صحابہؓ وہ ہیں ، جنہوں نے اللہ کے حکم پر جان دے دی اور ایک وہ ہیں ، جنہوں نے اقتدار کی خاطر دوسرے صحابہ کی جان لے لی ۔ یقینی طور پر اللہ اسی سے راضی ہوگا ، جس نے اللہ کی راہ میں جان دی ۔ اس سے راضی ہونے کا امکان نہیں ، جس نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے دوسرے صحابی کی جان لے لی ۔ اب صحابی ہو جانا الگ بات ہے اور عمل الگ معاملہ ۔ ہمارے مفکروں نے ایک کلیہ بنا لیا کہ جو رسولؐ کی صحبت میں بیٹھا  ، بس وہ جنتی ہے اور رضی اللہ ہونا ، اسکا شرعی حق ہے ۔ رسولؐ اللہ کے پاس بیٹھنا اٹھنا ، اسی صورت فلاح ہے ، جب اطاعت کی تکمیل کی جائے ۔ وگرنہ آپؐ  کی صحبت میں تو منافقین بھی بیٹھا کرتے تھے ، جو سامنے کچھ بات کرتے اور بعد میں کوئی دوسری بات دہراتے ۔ اسکا واضع ذکر قرآن میں موجود ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ جب ہندہ نے اسلام قبول کیا ، تو کتنی بار آپؐ کی صحابیت کا موقع ملا ، کیونکہ تاریخی حوالہ جات کے مطابق اللہ کے پاک رسولؐ نے ہندہ کو معاف کرتے ہوئے یہ شرط رکھی تھی کہ موصوفہ کبھی سامنے نہ آئیں ۔ اس حقیقت پر اکثریت متفق رہی ہے ۔ اگر اس حکم کو فرضی کہانی بھی مان لیا جائے جو ہندہ کے مخالفین نے گھڑی ہو گی تو بھی کوئی ایسا مستند حوالہ موجود نہیں کہ ہندہ آپؐ کے سامنے کبھی دوبارہ پیش ہوئیں ۔ اب دوسری خوبی کہ موصوفہ نے خلفاء راشدین کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا ۔
اول تو فتح مکہ کے بعد  اسلام کو علانیہ غلبہ حاصل ہو گیا تھا اور اس لیے عورتوں کو غزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی ۔ مسلمان اس طاقت میں آچکے تھے کہ کسی بھی معرکے میں نہ تو عورتوں کو رزم پڑھنے کی ضرورت تھی اور نہ تلوار اٹھا کر میدان میں کودنے کی ۔  چونکہ عرب کے رسم و رواج پر اسلامی طرز معاملات غالب آگئے تھے ۔  البتہ خواتین اپنے شوہروں کے ساتھ جنگ میں جاتی رہیں ، کیونکہ طویل عرصے تک جہاد پر رہنے کی صورت میں ، عورتوں کو ساتھ لے جانے کی اجازت بھی تھی اور احسن بھی ۔ اگر کسی جنگ میں ابو سفیان کے ساتھ انکی شریک حیات شامل بھی تھیں تو تلوار اور تیر چلانے کیلئے نہیں تھیں بلکہ ابوسفیان کی شریک حیات کی نسبت سے تھیں ۔ ایسا کوئی تاریخی حوالہ موجود نہیں کہ موصوفہ نے کبھی تلوار چلائی یا کبھی تیر اندازی کی ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٣ ستمبر ٢٠١٩