" الم تر کیف فعل ربک "
قرآن مجید میں ، اللہ سبحانہ تعالیٰ نے کائنات کے ہادی کو مخاطب فرمایا ۔
" کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا "
باور ہو کہ یہ واقعہ اسی سال رونما ہوا تھا ، جس سال حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت ہوئی ۔ ابرہہہ ایک جوشیلا عیسائی گورنر تھا ، جو عیسائیت کو عروج پر دیکھنے کیلئے بیت اللہ کو منہدم کرنے کیلئے دوڑ نکلا تھا ۔ اسے زعم بھی تھا اور حقیقت بھی تھی کہ مکہ کی چند ہزار افراد کی آبادی میں کوئی اتنا جری لشکر نہیں تھا جو اسکا راستہ روکتا ۔ اللہ پاک نے اپنے حبیبؐ کو مخاطب کرتے ہوئے پوری امت مسلمہ کو سوال کیا ہے کہ
" کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا "
اشارہ ہے کہ اگر تمہارا ایمان اور توکل قائم ہے تو غور کرو کہ اللہ کی قوت اور تدبیر کتنی طاقتور ہے ۔ یہ الفاظ ایسے ہی ہیں جیسے کسی کو پوری طرح چوکنا کیا جانا مقصود ہو ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ امت مسلمہ کو چوکنا فرما رہا ہے ۔ پھر بتایا جاتا ہے
"کیا ہم نے انکی ہر تدبیر کو غلط نہیں کردیا "
ابرہہہ کی تدبیر تھی کہ کعبہ کے انہدام کی صورت میں مشرکین کی توجہ اس عالی شان کلیسا کیطرف مبذول ہو جائے گی ، جو اس نے صنعا میں تعمیر کرایا تھا اور عیسائیت اپنے عروج کو چھو لے گی ۔ اس مقصد کے حصول کیلئے دنیاوی طور پر اسکے سامنے کوئی رکاوٹ باقی نہیں تھی ۔ طاقتور لشکر جس کا ہراول دستہ ہاتھیوں پر مشتمل تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
" ہم نے ان پر پرندے بھیجے "
پرندے کا ذکر کرتے ہوئے واضع فرما دیا کہ چھوٹا سا پرندہ " ابا بیل " تھا ۔ یہ ایک کمزور اور نہایت چھوٹا سا بے ضرر پرندہ ہے ۔ جسکی جسامت " چڑیا " سے بھی چھوٹی ہوتی ہے اور جس کی خوراک ہوا میں اڑنے والے حشرات ہوتے ہیں ، جو صرف اسے زندہ رکھ سکیں ۔ کمزوری کی حالت یہ ہے کہ اگر زمین کی ہموار سطح پہ بیٹھ جائے تو دوبارہ اڑ نہیں سکتا ۔ اسلئے ہمیشہ کسی پتھر یا تھوڑی اونچی جگہ پر بیٹھتا تاکہ اڑ سکے ۔ عرب کی ہموار زمین سے کنکر اٹھا کر اڑنا اور پھر اسے ابرہہہ کے لشکر پر پھینکنا ، ایک معجزہ سے کم نہیں تھا ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
" جو اس لشکر پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں پھینک رہے تھے ۔ اور ان پرندوں نے ابرہہہ کے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے کیطرح کر ڈالا "
اگر ہم عقل کے ترازو پہ تولنے کی کوشش کریں تو سمجھ نہیں آتا کہ کیا چوٹی سی کنکری اتنی ہلاکت خیز ہو سکتی ہے کہ ہاتھی بھسم ہو جائے ۔ یہ صرف رب کی پاک ذات ہے جو اپنے دشمن کیلئے کر سکتا ہے ۔ یہی ایمان ہے کہ جو رب کہے اس پر عقل استعمال کئے بغیر یقین کر لیا جائے ۔
اس واقعہ سے حبشہ اور یمن کے لوگوں میں خوف بیٹھ گیا ، اور یقین کی ایک کرن دکھائی دی کہ کعبہ کی حفاظت کرنے والے بت نہیں ، بلکہ کوئی دوسری غیبی طاقت ہے ۔ اہل مکہ کے اندر بھی ایک جرات اور بہادری نے جنم لیا کہ وہ بے سہارا نہیں ہیں ۔
یہ واقعہ مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کیلئے بھی مذکور ہے کہ جو رب چھوٹے چھوٹے پرندوں سے بڑے بڑے ہاتھیوں کو بھوسہ بنا سکتا ۔ عبدالمطلب کے اللہ پر توکل سے کی گئی دعا کا اثر اتنا حیرت انگیز ہو سکتا ہے تو پھر مسلمانوں میں اسی توکل کی کمی ہے جو آج رسوائی جھیل رہے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٧ ستمبر ٢٠١٩
Saturday, 28 September 2019
الم تر کیف فعل ربک
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment