Sunday, 22 September 2019

یزید کی دادی (۴) "

" یزید کی دادی (۴) "
بنو امیہ سے محبت رکھنے والوں کا ایک اصرار اور دلیل یہ بھی ہے کہ جس جس نے بھی اسلامی جنگوں میں حصہ لیا ، خواہ وہ غزوات ہوں ، سرایہ ہوں یا خلفاء راشدین دور کی جنگیں ہوں ۔ وہ احادیث نبوی کے تحت جنتی ہو جاتے ہیں اور اللہ ان پر راضی ہو جاتا ہے ۔
اسلام کے دفاع اور سربلندی کیلئے کوئی بھی عملی اقدام جہاد کہلاتا ہے , اس سے انکار ممکن نہیں کہ جہاد اللہ کے ہاں محبوب ترین عمل ہے ۔ اگر کسی نے جہاد کیا تو اسے جہاد کا اجر دینا اللہ کی مشیت ہے اور اسکی رضا ہے ۔  صحابہؓ کے مقام و منزلت کے اپنے اپنے درجے ہیں ۔ سب کو ایک ہی جیسا مان لینا ، نہ تو قرین قیاس ہے اور نہ ہی ممکن ۔ تقوی ، رسولؐ کی اطاعت ، اسلام سے علمی اگاہی اور اسلام کیلئے دی گئی قربانیاں ان درجات کی بنیاد ہیں ۔ جنہوں نے روز اول سے اسلام قبول کیا اور اسکے لئے ساری عمر قربانیوں میں گذار دی ، اور جو مصلحت کے تحت مسلمان ہوئے  ، دونوں کو برابر درجہ نہیں دیا جا سکتا ۔ ایک صحابہؓ وہ ہیں ، جنہوں نے اللہ کے حکم پر جان دے دی اور ایک وہ ہیں ، جنہوں نے اقتدار کی خاطر دوسرے صحابہ کی جان لے لی ۔ یقینی طور پر اللہ اسی سے راضی ہوگا ، جس نے اللہ کی راہ میں جان دی ۔ اس سے راضی ہونے کا امکان نہیں ، جس نے اپنے ذاتی مفادات کیلئے دوسرے صحابی کی جان لے لی ۔ اب صحابی ہو جانا الگ بات ہے اور عمل الگ معاملہ ۔ ہمارے مفکروں نے ایک کلیہ بنا لیا کہ جو رسولؐ کی صحبت میں بیٹھا  ، بس وہ جنتی ہے اور رضی اللہ ہونا ، اسکا شرعی حق ہے ۔ رسولؐ اللہ کے پاس بیٹھنا اٹھنا ، اسی صورت فلاح ہے ، جب اطاعت کی تکمیل کی جائے ۔ وگرنہ آپؐ  کی صحبت میں تو منافقین بھی بیٹھا کرتے تھے ، جو سامنے کچھ بات کرتے اور بعد میں کوئی دوسری بات دہراتے ۔ اسکا واضع ذکر قرآن میں موجود ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ جب ہندہ نے اسلام قبول کیا ، تو کتنی بار آپؐ کی صحابیت کا موقع ملا ، کیونکہ تاریخی حوالہ جات کے مطابق اللہ کے پاک رسولؐ نے ہندہ کو معاف کرتے ہوئے یہ شرط رکھی تھی کہ موصوفہ کبھی سامنے نہ آئیں ۔ اس حقیقت پر اکثریت متفق رہی ہے ۔ اگر اس حکم کو فرضی کہانی بھی مان لیا جائے جو ہندہ کے مخالفین نے گھڑی ہو گی تو بھی کوئی ایسا مستند حوالہ موجود نہیں کہ ہندہ آپؐ کے سامنے کبھی دوبارہ پیش ہوئیں ۔ اب دوسری خوبی کہ موصوفہ نے خلفاء راشدین کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا ۔
اول تو فتح مکہ کے بعد  اسلام کو علانیہ غلبہ حاصل ہو گیا تھا اور اس لیے عورتوں کو غزوات میں شریک ہونے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی ۔ مسلمان اس طاقت میں آچکے تھے کہ کسی بھی معرکے میں نہ تو عورتوں کو رزم پڑھنے کی ضرورت تھی اور نہ تلوار اٹھا کر میدان میں کودنے کی ۔  چونکہ عرب کے رسم و رواج پر اسلامی طرز معاملات غالب آگئے تھے ۔  البتہ خواتین اپنے شوہروں کے ساتھ جنگ میں جاتی رہیں ، کیونکہ طویل عرصے تک جہاد پر رہنے کی صورت میں ، عورتوں کو ساتھ لے جانے کی اجازت بھی تھی اور احسن بھی ۔ اگر کسی جنگ میں ابو سفیان کے ساتھ انکی شریک حیات شامل بھی تھیں تو تلوار اور تیر چلانے کیلئے نہیں تھیں بلکہ ابوسفیان کی شریک حیات کی نسبت سے تھیں ۔ ایسا کوئی تاریخی حوالہ موجود نہیں کہ موصوفہ نے کبھی تلوار چلائی یا کبھی تیر اندازی کی ۔
۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٣ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment