Wednesday, 25 September 2019

ذلک الکتاب لا ریب فیہ

" ذلک الکتاب لا ریب فیہ "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انتہائی  آسان طریقے سے قرآن پاک کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ
" یہ وہ کتاب ہے ، جس میں کوئی
نقص ،  خامی یا ٹیڑھ نہیں ہے "
ریب وسیع معنی اور بلیغ لفظ ہے ، جس کو صرف " شک " تک محدود کر دینے سے معانی واضع نہیں ہو پاتے ۔ معلوم نہیں کہ اس تاثر نے کیسے جنم لیا کہ قرآن پاک کو کتابی شکل میں لانے کیلئے صحابہؓ کا بہت عمل تھا اور نہ ہی یہ وضاحت  ہو پاتی ہے کہ قرآن پاک کی تدوین دراصل کس جلیل القدر امیر المومنین کے دور میں ہوئی ؟ اس تحقیق کی ضرورت یوں باقی نہیں رہ جاتی کہ اس کی بنیادی وضاحت اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خود ہی فرما دی ہے ۔
قرآن کے آغاز میں اس آیت کا موجود ہونا ، کسی بھی ابہام کا جواب ہے کہ قرآن پاک حضرت محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ، تو لوح محفوظ میں کتاب کی شکل ہی میں موجود تھا ۔ گو آیات کا نزول وقتی مسائل کے اعتبار سے بتدریج ہوتا رہا ۔  مگر اسکی ترتیب و تدوین وہی تھی جو لوح محفوظ میں موجود تھی اور جو آج ہے ۔ اس ترتیب و تدوین کا معاملہ ہر گز قابل بحث نہیں ۔
قرآن کو ’ کتاب ‘ کہہ کر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید پیغمبر اسلام ﷺ  کی حیاتِ طیبہ ہی میں ایک مُصحف اورکتاب کی صورت میں اسی شکل میں مرتب ہوچکا تھا ،جس شکل میں لوح محفوظ میں موجود تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ قیامت تک اسکا ایک ایک حرف محفوظ رہے گا ۔  اگر یہ مان لیا جائے کہ قرآن پاک کبھی پتوں پہ محفوظ کیا گیا اور کبھی چمڑے کے ٹکڑوں پر اور کبھی لکڑی کے تختوں پر تو قرآن کو الہامی کتاب نہ ماننے والے مستشرقین کیلئے آسانی ہوجاتی ہے ۔ کہ وہ قرآن کو بھی زبور ، تورات ، انجیل یا دوسرے صحائف کیطرح تحریف کی صف میں لے آئیں ۔
قرآن ہرگز  متفرق یا د داشتوں کا مجموعہ نہیں ، جسے پیغمبر سے ان کے مختلف اصحابؓ نے موقع بہ موقع سنا ہو ، پھر سینہ بہ سینہ ان کی روایت ہوئی ہو اور بعد کو یہ یاد داشتیں الفاظ ومعانی کی نوع بہ نوع تبدیلیوں کے ساتھ نقل اور جمع کی گئی ہوں ۔ کیونکہ ان مدارج سے گزرنے کے بعد شکوک کےجنم لینے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ اسی لئے قرآن کے آغاز ہی میں وضاحت فرما دی گئی کہ یہ "قرآن " ایک کتاب کی شکل میں نازل ہوا ۔ اور ایسی کتاب کہ جس میں کسی تحریف ، کسی نقص ، کسی کجی یا کسی ٹیڑھ کی گنجائش باقی نہیں ۔
قرآن مجید میں جتنے حقائق و واقعات بیان کئے گئے  ، گذشتہ اقوام کے قصص و واقعات ہوں ، مستقبل کی خبریں ہوں یا کائنات کی چھپی ہوئی حقیقتوں کا ذکرہو ، خواہ ان کا تعلق فلکیات سے ہو ، طبعیات سے ہو یا حیاتیات سے ، یہ سب حقیقت پر مبنی ہیں ، ان کے بارے میں شک و شبہ کا کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ۔  اگر کوئی بات ہماری  سمجھ اور ادراک سے باہر ہے تو یہ انسانی کی عقل  کی کوتاہی اور فہمِ و شعور کی انحطاط ہے ۔ آج چودہ سو سال سے زاید عرصہ گذر جانے کے بعد تمام سائنسی ، طبی اور تکنیکی عروج گواہ ہے کہ جو کچھ قرآن میں درج ہے ، وہ سب کا سب من و عن سچ اور حقیقت ثابت ہو رہا ہے ۔ جیسے جیسے شعور میں وسعت آ رہی ہے ، ویسے ویسے قرآن کے رموز واضع ہو رہے ہیں ۔ یہ قرآن کے " لاریب " ہونے کی دلیل ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢۵ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment