Wednesday, 25 September 2019

آفات آسمانی کیوں ؟

" آفات آسمانی کیوں ؟ "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی بلیغ کتاب میں فرمایا ۔
اَوَ لَا  یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ  کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً  اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ۔
" اور کیا ان کو  دکھلائی نہیں دیتا کہ یہ لوگ ہر سال ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں  پھر بھی نہ توبہ کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں "
آفات کا تسلسل انسان کو اگاہی ہے کہ تمہاری ساری کارگزاریوں پر نگرانی ہوتی ہے ۔ اللہ ہر اس عمل سے جو ظاہر میں کرتے ہو یا چھپ چھپا کر ،  اسے خوب دیکھتا ہے ۔ منافقت انسانوں سے چھپائی جا سکتی ہے مگر علیم و خبیر سے نہیں ۔ اللہ پاک غفور و رحیم ہے اور اکثر نادانیوں سے در گذر فرماتا ہے ۔ ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ بہت غلط نہیں ۔ ایسی سوچ پر تنبیہہ کے لئے کبھی زلزلہ کے ہلکے ہلکے جھٹکے ، کبھی تھوڑی شدت کے ساتھ ، کبھی بپھرے ہوئے پانی کے سیلاب اور کبھی باہمی قتل و غارت گری کی صورت میں چوکنا کیا جاتا ہے ۔ بیشتر اسکے کہ کوئی سونامی آ جائے ،  زمین کو پلٹ دیا جائے ، انسانوں کو خبر جاری رہتی ہے اور اللہ کی پکڑ سے پہلے چھوٹے چھوٹے نشان ظاہر ہوتے رہتے ہیں ۔ فرعون کو تکبر تھا کہ وہ نہایت طاقتور ہے ۔ اسے زعم تھا کہ وہ ہر عمل پر قادر ہو گیا ہے ۔ جب اللہ کیطرف سے چھوٹے چھوٹے نشان ظاہر ہونے لگے تو وہ اپنی راہ کو درست کرنے کی بجائے مزید اکڑتا گیا اور پھر پانی میں غرق ہوگیا ۔ نمرود بھی ایک مچھر کی اذیت برداشت نہ کر سکا ۔ عاداور ثمود بھی بہت طاقتور تھے ، نشان تک مٹا دیا گیا ۔ اب اس دور کے مسلمان ، جو قرآن کو چھوڑ بیٹھے ، رسولؐ کے اسوہ سے دور ہوگئے اور دنیا کے پیچھے حرص نے کتا بنا رکھا ہے ۔ کس کس آفت کا شکار نہیں ۔ بڑے بڑے ڈکٹیٹر کس اذیت کے موت مار دئیے گئے ۔ پوری مسلمان امت طاغوت کے سامنے بھیڑ بکریوں کیطرح ریوڑ بنی ہوئی ہے ۔ کبھی برما میں ، کبھی عراق میں ، کبھی شام میں اور کبھی کشمیر میں طاغوت کے لشکر جب چاہتے ہیں ہانک کر مقتل لے جاتے ہیں ۔ جو بچ جاتے ہیں وہ کھڑے تماشا دیکھتے ہیں ۔ بے خبر کہ ایک روز انکی باری بھی آنے والی ہے ۔ یہ بھی عذاب کی ہی ایک شکل ہے ۔ یہی عذاب بنی اسرائیل کی سرکشی پر ملا تھا ، کہ فرعون کے سپاہی انہیں جانوروں کیطرح ہانکتے تھے ۔ مردوں کو مار دیتے تھے اور عورتوں کو کنیزیں بنا لیتے تھے ۔ کیا یہ سب کچھ ہم کشمیر میں نہیں دیکھ رہے ؟ کیا ہم نے یہ تماشا برما میں نہیں دیکھا ؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ قرآن  کی  آیت کھلی اگاہی ہے ۔ مگر ہم نے نہ پہلے توبہ کیطرف بڑھنا شروع کیا اور نہ اب کر رہے ہیں ۔ ہمیں کوئی نصیحت متاثر  ہی نہیں کرتی ۔ ہم اسی کو بہتر سمجھتے ہیں جو خود کو اچھا لگتا ہے ۔ نہ اللہ پاک کی سنتے ہیں اور  نہ رسول اللہ کی ۔
آزاد ھاشمی
٢۵ ستمبر ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment