" یزید کی دادی (۵) ۔"
گذشتہ مختصر تحریروں میں واضع ہوتا ہے کہ ہندہ کو کسی بھی طور نہ تو صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہوا ۔ کیونکہ فتح مکہ کے دن ، جس روز وہ اسلام قبول کرتی ہیں ، اللہ کے رسولؐ کا حکم ہوتا ہے کہ موصوفہ دوبارہ کبھی آپؐ کے سامنے نہ آئیں ۔ نہ جنگوں میں بطور مجاہدہ شرکت کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ اب ایک اور دلیل دی جاتی ہے کہ ہندہ حضور اکرمؐ کی ساس تھیں ، اس لحاظ سے رشتہ داری اور رقابت ظاہر ہوتی ہے ۔ باور ہو کہ معاویہ نے بھی حضور اکرمؐ کا سالہ ہونے کو اپنی امارت کیلئے زینہ بنایا تھا ۔ کیونکہ کسی طلقاء کو امارت اسلامی کا حق حاصل نہیں تھا ۔
تاریخی حوالہ جات کے مطابق ہندہ حضرت رملہؓ کی حقیقی والدہ نہیں تھیں ، ام حبیبہؓ (رملہ ) کی حقیقی والدہ صفیہ بنت ابو العاص تھیں۔ یہ بھی واضع ہو کہ یہ نکاح حجرت حبشہ کے بعد ہوا تھا ، جس وقت ابوسفیان اور ہندہ حضور اکرمؐ کے دشمنوں کی اولین صفوں میں تھے ۔
رشتوں اور رقابت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ابولہب ، ابو جہل تو بہت قریبی رشتہ دار تھے ۔ جبکہ خلفاء راشدین میں سے پہلے تینوں خلفاء کے قبائل بھی الگ تھے ۔ مگر دینی قربت کے اعتبار سے اسوقت بھی قریب تر تھے ، جبکہ رشتہ داریاں ابھی شروع نہیں ہوئیں تھیں ۔ اگر ساس ہونا اعزاز سمجھ لیا جائے تو حضرت میمونہؓ کی والدہ ماجدہ ہند بنت عوف تھیں ۔جن کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کی بیٹیاں بالترتیب نبی اکرمؐ اور دو خلفاء راشدین کے ساتھ رشتہ ازدواج میں تھیں ۔ اسی لیے انہیں عرب میں عظیم تریں دامادوں کی ساس کہا جاتا ہے۔ حضرت صفیہؓ کے والدحیی بن اخطب قبیلہ بنو نضیر سے تعلق تھا ، والدہ برہ بنت سموال قبیلہ بنو قریظہ سے تھیں جو دونوں یہودی قبائل تھے ۔ کیا نبی کے ساس اور سسر ہونے پر انکو بھی برات ملتی ہے ؟ ہر گز نہیں کیونکہ برات کیلئے ایمان اور کامل ایمان مشروط ہے ۔
اگر ہم اسی تسلسل سے دیکھتے جائیں تو ماریہ قبطیہ بھی آپ کی ازدواج میں شامل ہیں اور انکے والدین بھی عیسائی تھے ۔
گویا یہ دلیل نہایت کمزور ہے کہ ہندہ کو ساس ہونے کے ناطے نبی پاکؐ سے قریبی نسبت ہے اسلئے مسلمانوں پر انکا احترام واجب ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢۴ ستمبر ٢٠١٩
No comments:
Post a Comment