Friday, 21 September 2018

ہم اور بنو امیہ کا نظام حکومت

"ہم اور بنو امیہ کا نظام حکومت"
تاریخی حقائق کو یکسر تبدیل کر کے   تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی
ہے کہ بنو امیہ کے دور حکومت میں
اسلامی  سلطنت کو وسعت ملی ۔اسلام علاقے فتح کرنے  اور وسیع و عریض سلطنت قائم کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دل فتح کرنے اور اللہ کے احکامات کے نفاذ والے ایسے نظام کی تعلیم دیتا ہے ، جس میں ہر شہری بنیادی حقوق کے ساتھ پرسکون زندگی بسر کر سکے ۔ یہ نظام لاگو کرنے کا عمل اللہ کے پاک نبیؐ سے شروع ہوا اور خلفاء راشدین تک چلتا رہا ۔ اس نظام میں جو تبدیلی بنو امیہ نے کی ، وہ آج کے دور حکمرانی سے ملتی جلتی ہے ۔  ہم نے بنو امیہ کا طرز حکومت اختیار کر رکھا ہے ۔
بنو امیہ نے خلفاء راشدین کے طرز حکومت کو یکسر تبدیل کر دیا۔
بنو امیہ کے زمانے میں خلافت اسلامیہ کو ملوکیت میں تبدیل کردیا گیا ۔   شوریٰ کا طرز تبدیل کر کے خاندانی اور موروثی حکمرانی قائم کر دی ۔ ملک کا سب سے بڑا حاکم نام کے اعتبار سے خلیفہ رہا اور خلفائے راشدین کی طرح اپنے آپ کو امیر المومنین کہلاتا رہا ۔  خلفائے بنو امیہ مسلمانوں کے آزادانہ اور کھلے مشورہ سے نہیں بلکہ اپنی طاقت اور قوت کے بل بوتے پر بر سر اقتدار آتے رہے ۔ ان کی حیثیت ایک مطلق العنان بادشاہ کی سی تھی۔
خود خلیفہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھا۔
مجلس شوریٰ کی حیثیت ختم کر دی گئی ۔ اب خلیفہ کے مشیر اور مصاحبین، امرائے دربار اور شاہی خاندان کے افراد تھے۔ خلفاء کے لیے بیعت حاصل کرنا لازمی قرار دیا اگرچہ یہ بیعت اقتدار اور جبر ہی کا نتیجہ ہوا کرتی تھی ۔ یزید نے اسی طریقے سے بیعت لی اور جس نے انکار کیا اسے جبر کا نشانہ بنایا ۔ کربلا اس کا ثبوت ہے۔ 
خلفائے بنو امیہ بظاہر اپنی مذہبی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے لیکن ان کی اپنی زندگیاں قیصر و کسریٰ کے نمونہ پر ڈھل چکی تھی۔  خلفاء محلوں اور اونچے اونچے ایوانوں میں رہتے۔ عیش و عشرت کی محفلیں منعقد کرتے۔ اپنے دروازوں پر دربان اور حاجب رکھتے اور اپنے خلاف اٹھائی جانے والی ہر آواز کو سختی سے دبا دیتے۔ آل رسولؐ کے تمام امام اس سختی کا شکار بنے کیونکہ وہ اس طرز حکومت کی حمایت نہیں کر سکتے تھے ۔
خلفاء راشدین کے دور میں بیت المال کو قومی خزانہ  تھا۔ یہ ایک ایسی امانت تھی جسے خلیفہ اپنے من مانے طریقے سے خرچ کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ وہ اپنے گزارے کے لیے بیت المال سے صرف اتنی تنخواہ لینے کاحقدار تھا، جس سے ایک اوسط درجہ کے آدمی کا گزر اوقات کر سکے۔ بنو امیہ کے دور میں بیت المال کو خزانہ شاہی سمجھتے ہوئے خلیفہ اور اس کے خاندان کی ذاتی ملکیت قرار دیا گیا۔ اس کی آمد و خرچ کے بارے میں وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھا۔ بیت المال کی آمدنی کا کثیر حصہ خلفاء اور اس کے رشتہ داروں پر وظائف، انعامات اور جاگیروں اور املاک کی صورت میں صرف ہوتا۔ شاعروں اور گویوں کی سرپرستی کی گئی اور ضرورت مند اور نادار لوگوں کے وظائف کی تعداد میں کمی کر دئی گئی۔ اخراجات کے علاوہ بیت المال کی آمدنی کے ضمن میں اب حلال و حرام کی تمیز اور تخصیص بھی ختم کر دی گئی۔ طرح طرح کے نئے ٹیکس لگائے گئے جن کی شرعی اور عوامی بہبود کے نقطہ نظر سے کوئی حیثیت نہ تھی۔
خلفائے راشدین کے دور میں خلیفہ کی حیثیت سے تمام اہم امور کے  فیصلے مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھ کرکئے جاتے ،  لیکن امیر معاویہ نے اپنے بیٹھنے کے لیے تخت کی سی ایک نشست گاہ بنوائی۔
شاہی محلات کے دروازوں پر حاجب اور دربان مقرر تھے لوگ اب براہ راست ان کے پاس اپنی فریاد اور درخواست لے کر نہ جا سکتے تھے۔   خلیفہ کیلئے حفاظتی دستہ " الحرس " بنا دیا گیا ۔  گویا عوام اور خلیفہ کے درمیان ایک فصیل قائم ہوگئی ۔
امیر معاویہ کے جانشیوں کے ہاتھوں دربار داری کے لوازمات میں مزید اضافے ہوئے۔ اور شاعر، مسخرے، گویے اور موسیقار دربار کی زینت بنے ۔
تقابل کریں تو ثابت ہوتا ہے کہ ہم اموی طرز بادشاہت قائم کئے بیٹھے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢١ ستمبر ٢٠١٨

Thursday, 20 September 2018

کیا رونا کفر ہے؟

"کیا رونا کفر ہے؟ "
رونا ایک ایسا عمل ہے ، جو انسان اپنی بے بسی کے اظہار کیلئے کرتا ہے ۔ رحم اور ہمدردی مانگنے کیلئے کرتا ہے ۔ اللہ کے سامنے خشیت کے اظہار کیلئے کرتا ہے ۔ کسی کی محبت میں کرتا ہے ۔ کسی کے ظلم پر احتجاج کیلئے کرتا ہے ۔ حضرت یعقوبؑ نے تو اپنے بیٹے کی جدائی میں رو رو کر اپنی بینائی داو پہ لگا دی ۔ یہ رونا اللہ سے احتجاج نہیں بلکہ بیٹے کی محبت اور جدائی میں تھا ۔ حضرت ایوبؑ خشیت الہیٰ میں اتنا روئے کہ آنسووں نے گالوں پر نشان بنا دئیے ۔ آل رسولؐ کے ساتھ جو کربلا کے میدان میں ہوا ، اس پر اگر دل روتا نہیں تو ایمان میں جھول ہے ۔ شہید زندہ ہے ، بر حق ہے کیونکہ اللہ نے فرما دیا ۔ زندہ پر رونا اور گریہ کرنا مناسب نہیں ۔کیا یہ بات حضرت یعقوبؑ کو بھی معلوم نہیں تھی ؟ پھر وہ تو جسمانی طور پر زندہ پر بھی روتے رہے ، اللہ کے نبی تھے ۔ اللہ نے بھی نہیں روکا ۔ شہید تو جسمانی طور پر زندہ بھی نہیں ہوتا ۔ اسکی قبر بھی ہوتی ہے ، اسکا جنازہ بھی پڑھا جاتا ہے ، دفن بھی کیا جاتا ہے ، اور اللہ کہتا ہے کہ وہ زندہ ہے ۔ کیسی زندگی جی رہا ہے ؟  کیسے زندہ ہے ؟ چونکہ یہ انسانی ادراک کی وسعت سے باہر ہے ، اسلئے فرما دیا گیا کہ شہید کی زندگی کا تمہیں شعور نہیں ۔
جو آل رسولؑ پر انہماک سے وابستہ ہوگا ، وہ ان کے رنج و الم کو ضرور محسوس کرے گا ۔ یہ احساس کی شدت ہے کہ رونا آئے گا ۔ کون ہے جو محسوس کرے کہ چھ ماہ کے معصوم بچے کی گردن میں تیر لگا ہو اور وہ ماں کے پاس لے جایا جائے تو آنسو روکنا ممکن ہو ۔ کربلا میں ہونے والے مظالم کا ایک ایک پہلو ، کرب کی ایک کہانی ہے ۔ محسوس کی جائے تو نہ رونے والا شقی القلب ہی ہو سکتا ہے ,  احساس رکھنے والا انسان نہیں ہو سکتا ۔
اگر رونا گناہ نہیں ، تو آل رسولؑ کیلئے رونا کفر کیونکر ہو گیا ۔ رونا خشییت کی شکل ہے اور اللہ کو  عبادت میں خشییت کا عمل نہایت پسندیدہ ہے ۔ خشییت ، دل کا پسیجنا ہے ، کیسے ممکن کہ آل رسولؐ پر ہونے والے مظالم پر ذہن جائے اور دل پر خشییت طاری نہ ہو ؟
آزاد ھاشمی
٢٠ ستمبر ٢٠١٨

POETRY OF SALEEM HASHMI 2


POETRY OF SALEEM HASHMI


LOVE TO HUSSAIN (a.s)


ISLAMIN ECONOMY


Wednesday, 19 September 2018

امام حسینؑ نے فرمایا

" امام حسینؑ نے فرمایا "
حضرت علیؑ کی خلافت کے آغاز ہی میں ،  بنو امیہ نے اپنا انتقام اور کینہ آزمانے کا آغاز کردیا ۔ مواقع پیدا کئے جاتے رہے کہ کسی طرح عدم استحکام کی صورت پیدا کرکے ،  اقتدار کو بنو امیہ کی جھولی میں ڈال لیا جائے ۔ ادھر آل رسولؐ کسی بھی حال میں نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان ایک دوسرے کا خون بہائیں ۔ ورنہ جو خیبر کو توڑ سکنے کی جرات رکھتا ہو ، اسکے لئے سازشوں کو کچلنا بڑا معرکہ نہیں تھا ۔ مگر اقتدار کی ہوس اور انتقام کی آگ نے وہ کر دکھایا کہ حضرت علیؑ شہید ہوئے ، امام حسنؑ کا جگر خون کے ساتھ باہر آیا اور شہادت پائی ۔ معاویہ نے حتی الوسع کوشش کی کہ اسوقت جلیل القدر  اصحاب کو یزید کی بیعت پر قائل کر لے ۔ اسکے لئے کچھ لالچ ، دھونس دھمکی ، ظلم جبر اور تمام ممکن ذرائع بھی استعمال  کئے ۔ سب کوشش کے باوجود پوری رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ پھر بھی جو صورت حال سامنے تھی ، اس میں امام حسینؑ کو قائل کرنا نا ممکن تھا ۔ امام حسینؑ کو بخوبی علم تھا کہ بنو امیہ کے اقتدار کیلئے معاویہ کا بیٹا کس حد تک جا سکتا ہے  ۔ امام حسینؑ نے اس ادراک کا اظہار اپنے صحابہ میں کربلا پہنچنے کے یوں فرمایا ۔
" لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے اس وقت تک دین کی حمایت و پشت پناہی کرتے ہیں جب تک ان کی زندگی فلاح و رفاہ میں ہو اور جب بھی بلاء اور آزمائش کی گھڑی ہو تو دیندار بہت قلیل ہیں "
باب العلم کے لخت جگر نے ان چند الفاظ میں ایک تاریخ بیان فرما دی ۔
منقول ہے کہ کربلا میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد، امام حسینؑ نے اپنے فرزندوں، بھائیوں اور اہل خاندان کو اکٹھا کیا اور ان سب پر ایک نگاہ ڈالی  اور فرمایا۔
"  خداوندا! ہم تیرے نبیؐ کی عترت اور خاندان ہیں جنہیں اپنے (شہر و دیار سے) نکال باہر کیا گیا ہے اور حیران و پریشان اپنے نانا رسول اللہؐ کے حرم سے نکالا گیا ہے؛ اور بنو امیہ نے ہمارے خلاف جارحیت کی؛ خداوندا! پس ان سے ہمارا حق لے لے اور ظالموں کے خلاف ہماری نصرت فرما"۔
آزاد ھاشمی
١٩ ستمبر ٢٠١٨

مساجد ، مدرسے اور مولوی

" مساجد , مدرسے اور مولوی "
پاکستان سرزمین , جس میں مساجد کا اندازہ ایک لاکھ بیس ہزار ہے . جبکہ یقینی طور پر غیر رجسٹرڈ مساجد کی گنتی شامل نہیں . علماء , مولوی اور مشائخ کروڑ کے لگ بھگ اندازہ کئے جاتے ہیں , ان میں وہ دانشور شامل نہیں , جو داڑھی کے بغیر مولوی ہیں . مدارس جہاں اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے , چالیس ہزار رجسٹرڈ ہیں اور غیر رجسٹرڈ کا اندازہ ممکن نہیں . پیر پرستی کے دربار بھی ہزاروں کی تعداد میں ہے .
یہ دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارا رحجان کسقدر اسلامی ہے . جہاں اسلامی تعلیم اور تبلیغ کا یہ عالم اور شوق ہو وہاں پر اسلامی تعلیمات سے فرار ناقابل فہم ہے . لبرلز , دین کے سرکش اور اسلام کے مخالفین کتنے ہونگے . جنکا نہ کوئی سکول ہے اور نہ کوئی مربوط ٹھکانہ . پھر کیا وجہ ہے کہ چند کامیاب ہیں اور اکثریت ناکام . کیا وجہ ہے کہ اتنے عالم اور شیوخ کی موجودگی میں بھی نظام اسلام مدرسوں میں قید ہو کر رہ گیا اور بی بی جمہوریت روز بروز تقویت پکڑتی جا رہی ہے . ہر مولوی کے بیسیوں مقلد اور شیدائی ہوتے ہیں . پھر ان لوگوں کو اسطرف کیوں نہیں لگایا جاتا کہ اسلامی نظام کیطرف سوچنا شروع کریں . کیا پڑھایا جاتا ہے ان چالیس ہزار مدرسوں میں . اگر یہی لوگ اور انکے مقلدین خاص ہی متحد ہو جائیں تو اسلامی قوانین کا اطلاق ایک دن میں ہو سکتا ہے . مسالک کا دھندہ روزی اور آسائشوں کا ماخذ سہی . نہیں روکنا چاہتے مت روکیں . کم از کم سب کا اللہ تو ایک ہے , رسول تو ایک ہے , قران تو ایک ہے . اپنے اپنے فقہ کی حدود و قیود , سزائیں اور شرائط الگ الگ لاگو ہونے میں قباحت بھی نہیں . چور جس مسلک کا بھی ہو اسی فقہ کے مطابق ہاتھ کاٹ دو . زانی جس مسلک کا بھی ہو اسی مسلک کے مطابق سنگسار کر دو . بد عنوان کی سزا  اسی کے فقہی دستور پر دے دو .
اگر یہی علماء , شیوخ اور مولوی پورے اخلاص سے اپنے فرائض ادا کریں تو جمہوریت کا جنازہ اسی انتخاب پہ اٹھ جاتا ہے . اگر نہیں کیا جاتا تو اس رسوائی کے لئے تیار ہو جائیں جو لبرلز اور طاغوت تیار کر رہا ہے . جیسے آج ہر داڑھی والا دہشت گرد بنا دیا گیا ہے . علماء کی تضحیک کا ایک طوفان اٹھے گا , جس میں علماء کا کردار نشانہ بنے گا . تعظیم اور توقیر کا بھرم ختم ہو جائے گا .
اللہ کا قانون یہی ہے جو اللہ کے نظام سے مکر کرتا ہے تو اللہ اس سے مکر کرتا اور اللہ کا مکر ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے .
از راہ کرم نہ سہی , اپنی عاقبت کے خوف سے ہی سہی . آپ فکر کریں اور حجروں سے نکل کر طاغوت کو روکیں . دعائیں بھی اسی وقت قبول ہوں گی جب عمل شامل ہو گا .
ازاد ھاشمی

کربلا اور ملوکیت

" کربلا اور ملوکیت "
آج کون ایسا ذی شعور ہے ، جو اس حقیقت سے انکار کر سکے کہ کربلا میں جو حسینؑ نے فیصلہ کیا ، وہ اسلام کی حیات کیلئے از حد ضروری تھا ۔ بنو امیہ نے ملوکیت کیلئے جال بنا تھا اور ملوکیت قائم کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ۔ اس سارے جتن میں صرف ایک ہی ایسا واقعہ نظر آتا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل نظام وہ نہیں تھا ، جو بنو امیہ نے قائم کردیا ، بلکہ اصل نظام اسلام وہ ہے جس کیلئے حسینؑ نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ۔
بنو امیہ نے اسی دور میں اکثریت کو لالچ سے ، ترغیب سے ، تدبیر سے ، جبر سے حمایت میں ایسے تیار کرلیا  اور تاریخ گواہ ہے کہ منافقین کی تعداد اصل ایمان سے کہیں زیادہ تھی ۔ 
وہ نظام یکسر بدل گیا جس کیلئے اللہ نے حضرت محمدؐ کو مبعوث فرمایا اور جو اللہ کے رسولؐ نے قائم کیا ۔ یزید اسلامی نظام کےلئے حکمران کے طے کردہ  کردار کی مکمل نفی تھا ۔ اس میں ہر وہ عیب موجود تھا جسے اسلام حکمران کیلئے رد کرتا ہے ۔ اسکے بعد بنو امیہ کے خلفاء آتے رہے اور قرآن ، سنت اور اسوہ حسنہ کو فقہ ،فلسفہ اور منطق کے تابع کرتے رہے ۔ قرآن کے احکامات کو احادیث کے تابع کیا جانے لگا ۔ دلائل قرآن کے تابع ہونے چاہئیے تھے وہ احادیث ، فقہ ، فلسفہ اور منطق کے تابع ہو گئے ۔ اگر تاریخی حقائق کو دیانتداری سے دیکھا جائے تو آج کے مسالک اور مسائل تمام کے تمام بنو امیہ کے دور میں مروج ہوتے نظر آتے ہیں ۔
آل رسولؐ جو علم کے وارث تھے،  ان میں جو بھی امامت کا اہل نظر آیا  ، اسکا انجام بھیانک ہوا ۔
کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ اگر کربلا کا واقعہ نہ ہوتا تو آج جو دین ہوتا وہ " بنو امیہ " کا بنایا ہوا دین ہوتا ۔ یہ سوال کہ حسینؑ نے کربلا میں جان دینے کا فیصلہ کر لیا مگر بیعت تسلیم نہیں کی ۔ کیوں ؟ اسی ایک سوال کے جواب میں  اللہ کا دین اور نبیؐ کا نظام بچتا ہوا نظر آتاہے  ۔ اسی سوال کے جواب میں بنو امیہ کی سازشوں کی کلی کھلتی ہے ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج بھی بیشمار لوگ " یزید " کی حمایت میں ہیں ۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح یزید کو جنت میں پہنچا دیں ۔ اگر اسوقت حسینؑ  بھی مصلحت سے کام لے لیتے ، تو جو امام علیؑ پر گالیوں سے خطبہ جمعہ کا آغاز کرتے تھے ، جو آل رسولؑ کے سر نیزوں پر چڑھا کر گھماتے رہے ۔ آج رسولؐ کی رسالت کو اسی رنگ میں رہنے دیتے ؟
آج کا اسلام کیسا ہوتا ، تصور تو کریں ۔ یہ کربلا ہے جس نے نہ رسالت کو ڈوبنے دیا اور نہ اسلام کو مرنے دیا ۔ یہ کربلا ہے جو خون میں دین کی حدت کو ختم نہیں ہونے دیتی ۔ یہ کربلا ہے جو اللہ کے قرآن کیلئے گردن کٹوانے پہ آمادہ رکھتی ہے ۔ یہ کربلا ہے جو ملوکیت کے سامنے دیوار بن جاتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٠ ستمبر ٢٠١٨

امام حسینؑ نے فرمایا

" امام حسینؑ نے فرمایا "
حضرت علیؑ کی خلافت کے آغاز ہی میں ،  بنو امیہ نے اپنا انتقام اور کینہ آزمانے کا آغاز کردیا ۔ مواقع پیدا کئے جاتے رہے کہ کسی طرح عدم استحکام کی صورت پیدا کرکے ،  اقتدار کو بنو امیہ کی جھولی میں ڈال لیا جائے ۔ ادھر آل رسولؐ کسی بھی حال میں نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان ایک دوسرے کا خون بہائیں ۔ ورنہ جو خیبر کو توڑ سکنے کی جرات رکھتا ہو ، اسکے لئے سازشوں کو کچلنا بڑا معرکہ نہیں تھا ۔ مگر اقتدار کی ہوس اور انتقام کی آگ نے وہ کر دکھایا کہ حضرت علیؑ شہید ہوئے ، امام حسنؑ کا جگر خون کے ساتھ باہر آیا اور شہادت پائی ۔ معاویہ نے حتی الوسع کوشش کی کہ اسوقت جلیل القدر  اصحاب کو یزید کی بیعت پر قائل کر لے ۔ اسکے لئے کچھ لالچ ، دھونس دھمکی ، ظلم جبر اور تمام ممکن ذرائع بھی استعمال  کئے ۔ سب کوشش کے باوجود پوری رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ پھر بھی جو صورت حال سامنے تھی ، اس میں امام حسینؑ کو قائل کرنا نا ممکن تھا ۔ امام حسینؑ کو بخوبی علم تھا کہ بنو امیہ کے اقتدار کیلئے معاویہ کا بیٹا کس حد تک جا سکتا ہے  ۔ امام حسینؑ نے اس ادراک کا اظہار اپنے صحابہ میں کربلا پہنچنے کے یوں فرمایا ۔
" لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے اس وقت تک دین کی حمایت و پشت پناہی کرتے ہیں جب تک ان کی زندگی فلاح و رفاہ میں ہو اور جب بھی بلاء اور آزمائش کی گھڑی ہو تو دیندار بہت قلیل ہیں "
باب العلم کے لخت جگر نے ان چند الفاظ میں ایک تاریخ بیان فرما دی ۔
منقول ہے کہ کربلا میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد، امام حسینؑ نے اپنے فرزندوں، بھائیوں اور اہل خاندان کو اکٹھا کیا اور ان سب پر ایک نگاہ ڈالی  اور فرمایا۔
"  خداوندا! ہم تیرے نبیؐ کی عترت اور خاندان ہیں جنہیں اپنے (شہر و دیار سے) نکال باہر کیا گیا ہے اور حیران و پریشان اپنے نانا رسول اللہؐ کے حرم سے نکالا گیا ہے؛ اور بنو امیہ نے ہمارے خلاف جارحیت کی؛ خداوندا! پس ان سے ہمارا حق لے لے اور ظالموں کے خلاف ہماری نصرت فرما"۔
آزاد ھاشمی
١٩ ستمبر ٢٠١٨

Tuesday, 18 September 2018

انا اعطینک الکوثر

" انا اعطینک الکوثر "
اللہ سبحانہ تعالی نے اپنے نبیؐ کو مخاطب کرتے ہوئے اسوقت فرمایا ، جب مشرکین مکہ کہتے تھے کہ آپؐ کے ہاں نورینہ اولاد نہیں ، جو ہوئی وہ وصال فرما گئی ، اب آپؐ کی نسل نہیں چلے گی ، اور آپ کا نام لینے والا کوئی نہیں ہو گا ۔ تو اللہ نے فرمایا ، یہ طے شدہ امر ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ کو " کوثر " یعنی ایسی کثرت عطا کر دی ہے ، وہ نسل کی ہو ، امت کی ہو یا ناموری کی ہو ، جسکا پیمانہ ہی نہیں کہ کتنی ہوگی ۔ اب تو
" فصل الربک " اپنے رب کی نماز پڑھ
اور
" وانحر " قربانی دے ۔
دیکھ لینا کہ
تیرے دشمن کا نام لینے والا بھی کوئی نہ ہوگا ۔ آج اس صداقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے جیسی آل اولاد اپنے حبیبؐ کو نصیب کی ویسی آل اولاد کائنات میں کسی کو نصیب نہیں ہوئی ۔ جس آل نے اپنے رب کی نماز بھی ایسی پڑھی کہ ایسی نماز نہ پہلے کسی نے پڑھی اور نہ بعد میں کوئی پڑھے گا ۔ قربانی بھی ایسی دی کہ مثال نہیں ۔ آج دنیا کا وہ کونسا کونہ ہے جہاں نبیؐ اور آل نبیؐ کا نام نہیں ۔ لاوارث تو وہ رہ گئے ، "ابتر " تو وہ ہوگئے جو رسولؐ پر طعنہ زن تھے ۔ اللہ نے جیسی اولاد اپنے حبیبؐ کو دی ، ویسی کس کو ملی؟ کس کے نصیب میں تھا حسنؑ ، کس کے نصیب میں تھا حسینؑ ؟ کہاں ہیں جو آل نبی کا نام مٹانا چاہتے تھے ۔ اللہ کا وعدہ ہے رسولؐ سے ، جو اج مکمل نظر آتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٨ ستمبر ٢٠١٨

Monday, 17 September 2018

ملاوٹ کیسے پکڑیں

مختلف اشیاء میں ملاوٹ پکڑنے کے بہت ہی آسان طریقے.

آج کل ہر کھانے اور چیز میں ملاوٹ کا ہونا ایک عام سی بات بنتی جارہی ہے. چند روپوں کے لئے انسانیت سے کھیلنے والے یہ ظالم لوگ اس چیز کا بھی خیال نہیں کرتے کہ ان کے اس قابل مذمت عمل سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں.

  ■- چائے
پتی کو ٹھنڈے پانی میں ڈالیں اور اگر پانی کا رنگ براؤن ہوجائے تو جان لیں کہ آپکی چائے میں ملاوٹ ہے.

  ■- فروزن مٹر
اگر مٹروں کو فریز کردیا جائے تو وہ محفوظ ہوجاتے ہیں.
لیکن کچھ کمپنیاں انہیں لمبے عرصے تک محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایسا کیمیکل استعمال کرتی ہیں جو کہ ہمارے لئے بہت ہی خطرناک ہے.
اگر فریج سے نکال کر مٹروں کو پانی میں ڈالا جائے اور پانی کی رنگت سبز ہوجائے تو فوری طور پر ان مٹروں کو تلف کردیں.

  ■-  ثابت دارچینی
ثابت دار چینی کی ڈنڈیوں کو اپنے ہاتھوں پر رکھ کر توڑیں.اگر آپکے ہاتھ رنگدار ہوجائیں تو یہ ڈنڈیاں ملاوٹ زدہ ہیں.

  ■-  ثابت ہلدی
یہ مت سمجھیں کہ آپ ہلدی کی جڑیں استعمال کرکے خالص ہلدی استعمال کررہے ہیں کیونکہ یہ بھی ملاوٹ زدہ ہوسکتی ہیں.
ہلدی کی جڑوں کو کاغذ پر رکھیں اور تھوڑا سا ٹھنڈا پانی ڈالیں.
اگر کاغذ پیلا ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہلدی کی جڑیں جعلی ہیں.

  ■-  سیب
کچھ لوگ سیب کو چمکدار بنانے کے لئے اس پر پالش کرتے ہیں.
اگر سیب کے کاٹنے کے دوران اسکے اوپر سے سفید چیز اترے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اس پر ویکس لگایا گیا ہے.

  ■-  ثابت کالی مرچ
اگر ثابت کالی مرچ چمکدار ہو اوراس میں سے کیروسین آئل کی بدبو آرہی ہو تو یہ ملاوٹ زدہ ہے.

  ■-  زیرہ
اگر آپ زیرہ کو اپنے ہاتھ پر رکھ کر پیسیں یا رگڑیں اور آپکی ہتھیلی سیاہ ہوجائے تو یہ زیرہ ملاوٹ شدہ ہے.

  ■-  دودھ
اگر دودھ میں ڈٹرجنٹ کی ملاوٹ جاننی ہو تو 10ملی لیٹر پانی اور10ملی لیٹر دودھ لے کر ملائیں اور اگر دودھ پر جھاگ آجائے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ دودھ میں ڈٹرجنٹ کی ملاوٹ ہے.

  ■-  سوکھا دھنیا
اس مصالحے میں اگر چورے کی ملاوٹ کے بارے میں جاننا ہو تو سوکھے دھنیے کو پانی میں ڈالیں, جو چیز بھی پانی کے اوپر ابھرے گی وہ چورا ہوگا.

  ■-  ناریل کا تیل
اس تیل کو فریج میں رکھیں جو چیز جم جائے گی وہ ناریل کا تیل ہے اور جو مائع رہ جائے گا وہ ملاوٹی اجزاء ہیں.

  ■-  شہد
روئی میں شہد کو بھگوئیں اور اب اس روئی کو آگ لگائیں،اگر بآسانی آگ لگ جائے تو شہد خالص ہے اور اگر’چڑ چڑ‘ کی آواز آئے تو اس میں ملاوٹ ہے.

  ■-  سرخ مرچ
سرخ مرچ کو پانی کے گلاس میں ڈالیں،اگر یہ رنگ چھوڑ جائے تو سرخ مرچ ملاوٹ شدہ ہے.
ہر عمل اللَّـه رب العزت کی رضا کے لیے ﺁﺋﯿﮯ  اور آپ  ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍپنے ﺍﺭﺍﺩﻭﮞ ﮐﻮ اللَّـه ﮐﯽ ﭘﻨﺎﮦ میں ﺩﮮ ﺩﯾﮟ
خود میں اور معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھیں.

باب العلم کہنے میں حکمت

" باب العلم کہنے میں حکمت "
سرور کائنات سے منسوب لاکھوں احادیث موجود ہیں ۔ محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ ان لاکھوں احادیث میں ایسی بھی ہیں ، خود ساختہ ہیں ، ایسی بھی ہیں جن کے روایت کرنے والے کردار کے اس معیار پر نہیں کہ انکا اعتبار کر سکیں ۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ کون سی احادیث درست ہیں اور کونسی نہیں ۔ ایسی تمام احادیث ، جن کا تعلق اہل بیت سے ہے ، ان پر پوری امت کا اجماع ہے اور سب متفق ہیں ۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اہل بیت کے بارے میں آپؐ نے جو بھی فرمایا ، محکم طریقے سے فرمایا اور سب کے سامنے فرمایا ۔ آپؐ کے  انہی محکم اعلانات میں سے ایک اعلان یہ بھی ہے کہ
" میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اسکا دروازہ ہے "
اس اعلان میں کونسی حکمت تھی کہ آپؐ نے یہ اعلان صرف صحابہ کرامؓ کی مجلس میں نہیں فرمایا کہ چند صحابہ نے سنا ہو ، بلکہ منبر پہ فرمایا کہ عوام الناس تک پیغام پہنچ جائے ۔ علیؑ کو علم کا دروازہ کہہ دینے سے کونسی فضیلت ، کونسا مقام دینا مقصود تھا ؟ یہ وہ سوال ہے ، جس کا کھوج لگانا ایمان کے استحکام کی ضرورت بن گیا ہے ۔ دروازہ وہ واحد راستہ ہوتا ہے جس سے داخل ہونا گھر میں درست داخلے کی ضمانت ہے ۔ دیوار پھلانگ کے گھر میں داخل ہونا ، عقبی دروازے سے گھر میں آنا یا کسی کھڑکی سے داخل ہونا ، نہ صرف غلط اقدام ہے بلکہ اسے نقب زنی کہا جاتا ہے ۔ گھر میں جانے کیلئے دروازہ ہی ایسی جگہ ہے جو راہ راست ہے ۔ سرور کائنات کے اس اعلان نے حضرت علیؑ کو ایسے اعلیٰ اور منفرد مقام پہ لا کھڑا کیا ہے ، کہ جہاں تک کسی دوسری ہستی کو پہنچنا نصیب نہیں ۔ رسولؐ تک رسائی کا واحد راستہ ، رسولؐ کے علم و حکمت تک پہنچنے کا واحد راستہ ، رشد و ہدایت پانے کی واحد راہ یہی ایک دروازہ ہی ہے ۔ جسے " علی ابن ابو طالب " کہتے ہیں ۔ گھر دروازہ ہی سے بنتا ہے ۔ دروازہ کسی بھی گھر کی زینت ، حفاظت اور وقار کا مظہر ہوتا ہے ۔ گھر کی عظمت گواہ ہے کہ دروازے کی شان کیا ہے ؟ دروازہ گھر کی شان ہوتا ہے اور گھر کی عظمت دروازے کی شان ۔ یہ اعلان جو رسولؐ  نے منبر سے فرمایا  "علیؑ " کے مقام کی بلندی ، علیؑ کی ذمہ داری کی غماض ہے ۔ علیؑ اور اولاد علیؑ نے بھی اس ذمہ داری کو کیسے نبھایا ،  حسنؑ کے خون سے ، کربلا کے میدان سے ، شام کی جیل سے ، آئمہ کے عقوبت خانوں میں مظالم سہنے سے ، علی اصغر کے گلے سے ، سکینہ کے ننھے گالوں سے ، زینب کے رسیوں سے جکڑے بازووں سے اور عباسؑ کے کٹے بازووں سے گواہی مل جائے گی ۔
آزاد ھاشمی
١٧ ستمبر ٢٠١٨