Monday, 17 September 2018

باب العلم کہنے میں حکمت

" باب العلم کہنے میں حکمت "
سرور کائنات سے منسوب لاکھوں احادیث موجود ہیں ۔ محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ ان لاکھوں احادیث میں ایسی بھی ہیں ، خود ساختہ ہیں ، ایسی بھی ہیں جن کے روایت کرنے والے کردار کے اس معیار پر نہیں کہ انکا اعتبار کر سکیں ۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ کون سی احادیث درست ہیں اور کونسی نہیں ۔ ایسی تمام احادیث ، جن کا تعلق اہل بیت سے ہے ، ان پر پوری امت کا اجماع ہے اور سب متفق ہیں ۔ اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اہل بیت کے بارے میں آپؐ نے جو بھی فرمایا ، محکم طریقے سے فرمایا اور سب کے سامنے فرمایا ۔ آپؐ کے  انہی محکم اعلانات میں سے ایک اعلان یہ بھی ہے کہ
" میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اسکا دروازہ ہے "
اس اعلان میں کونسی حکمت تھی کہ آپؐ نے یہ اعلان صرف صحابہ کرامؓ کی مجلس میں نہیں فرمایا کہ چند صحابہ نے سنا ہو ، بلکہ منبر پہ فرمایا کہ عوام الناس تک پیغام پہنچ جائے ۔ علیؑ کو علم کا دروازہ کہہ دینے سے کونسی فضیلت ، کونسا مقام دینا مقصود تھا ؟ یہ وہ سوال ہے ، جس کا کھوج لگانا ایمان کے استحکام کی ضرورت بن گیا ہے ۔ دروازہ وہ واحد راستہ ہوتا ہے جس سے داخل ہونا گھر میں درست داخلے کی ضمانت ہے ۔ دیوار پھلانگ کے گھر میں داخل ہونا ، عقبی دروازے سے گھر میں آنا یا کسی کھڑکی سے داخل ہونا ، نہ صرف غلط اقدام ہے بلکہ اسے نقب زنی کہا جاتا ہے ۔ گھر میں جانے کیلئے دروازہ ہی ایسی جگہ ہے جو راہ راست ہے ۔ سرور کائنات کے اس اعلان نے حضرت علیؑ کو ایسے اعلیٰ اور منفرد مقام پہ لا کھڑا کیا ہے ، کہ جہاں تک کسی دوسری ہستی کو پہنچنا نصیب نہیں ۔ رسولؐ تک رسائی کا واحد راستہ ، رسولؐ کے علم و حکمت تک پہنچنے کا واحد راستہ ، رشد و ہدایت پانے کی واحد راہ یہی ایک دروازہ ہی ہے ۔ جسے " علی ابن ابو طالب " کہتے ہیں ۔ گھر دروازہ ہی سے بنتا ہے ۔ دروازہ کسی بھی گھر کی زینت ، حفاظت اور وقار کا مظہر ہوتا ہے ۔ گھر کی عظمت گواہ ہے کہ دروازے کی شان کیا ہے ؟ دروازہ گھر کی شان ہوتا ہے اور گھر کی عظمت دروازے کی شان ۔ یہ اعلان جو رسولؐ  نے منبر سے فرمایا  "علیؑ " کے مقام کی بلندی ، علیؑ کی ذمہ داری کی غماض ہے ۔ علیؑ اور اولاد علیؑ نے بھی اس ذمہ داری کو کیسے نبھایا ،  حسنؑ کے خون سے ، کربلا کے میدان سے ، شام کی جیل سے ، آئمہ کے عقوبت خانوں میں مظالم سہنے سے ، علی اصغر کے گلے سے ، سکینہ کے ننھے گالوں سے ، زینب کے رسیوں سے جکڑے بازووں سے اور عباسؑ کے کٹے بازووں سے گواہی مل جائے گی ۔
آزاد ھاشمی
١٧ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment