Wednesday, 19 September 2018

کربلا اور ملوکیت

" کربلا اور ملوکیت "
آج کون ایسا ذی شعور ہے ، جو اس حقیقت سے انکار کر سکے کہ کربلا میں جو حسینؑ نے فیصلہ کیا ، وہ اسلام کی حیات کیلئے از حد ضروری تھا ۔ بنو امیہ نے ملوکیت کیلئے جال بنا تھا اور ملوکیت قائم کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ۔ اس سارے جتن میں صرف ایک ہی ایسا واقعہ نظر آتا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل نظام وہ نہیں تھا ، جو بنو امیہ نے قائم کردیا ، بلکہ اصل نظام اسلام وہ ہے جس کیلئے حسینؑ نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا ۔
بنو امیہ نے اسی دور میں اکثریت کو لالچ سے ، ترغیب سے ، تدبیر سے ، جبر سے حمایت میں ایسے تیار کرلیا  اور تاریخ گواہ ہے کہ منافقین کی تعداد اصل ایمان سے کہیں زیادہ تھی ۔ 
وہ نظام یکسر بدل گیا جس کیلئے اللہ نے حضرت محمدؐ کو مبعوث فرمایا اور جو اللہ کے رسولؐ نے قائم کیا ۔ یزید اسلامی نظام کےلئے حکمران کے طے کردہ  کردار کی مکمل نفی تھا ۔ اس میں ہر وہ عیب موجود تھا جسے اسلام حکمران کیلئے رد کرتا ہے ۔ اسکے بعد بنو امیہ کے خلفاء آتے رہے اور قرآن ، سنت اور اسوہ حسنہ کو فقہ ،فلسفہ اور منطق کے تابع کرتے رہے ۔ قرآن کے احکامات کو احادیث کے تابع کیا جانے لگا ۔ دلائل قرآن کے تابع ہونے چاہئیے تھے وہ احادیث ، فقہ ، فلسفہ اور منطق کے تابع ہو گئے ۔ اگر تاریخی حقائق کو دیانتداری سے دیکھا جائے تو آج کے مسالک اور مسائل تمام کے تمام بنو امیہ کے دور میں مروج ہوتے نظر آتے ہیں ۔
آل رسولؐ جو علم کے وارث تھے،  ان میں جو بھی امامت کا اہل نظر آیا  ، اسکا انجام بھیانک ہوا ۔
کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ اگر کربلا کا واقعہ نہ ہوتا تو آج جو دین ہوتا وہ " بنو امیہ " کا بنایا ہوا دین ہوتا ۔ یہ سوال کہ حسینؑ نے کربلا میں جان دینے کا فیصلہ کر لیا مگر بیعت تسلیم نہیں کی ۔ کیوں ؟ اسی ایک سوال کے جواب میں  اللہ کا دین اور نبیؐ کا نظام بچتا ہوا نظر آتاہے  ۔ اسی سوال کے جواب میں بنو امیہ کی سازشوں کی کلی کھلتی ہے ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج بھی بیشمار لوگ " یزید " کی حمایت میں ہیں ۔ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح یزید کو جنت میں پہنچا دیں ۔ اگر اسوقت حسینؑ  بھی مصلحت سے کام لے لیتے ، تو جو امام علیؑ پر گالیوں سے خطبہ جمعہ کا آغاز کرتے تھے ، جو آل رسولؑ کے سر نیزوں پر چڑھا کر گھماتے رہے ۔ آج رسولؐ کی رسالت کو اسی رنگ میں رہنے دیتے ؟
آج کا اسلام کیسا ہوتا ، تصور تو کریں ۔ یہ کربلا ہے جس نے نہ رسالت کو ڈوبنے دیا اور نہ اسلام کو مرنے دیا ۔ یہ کربلا ہے جو خون میں دین کی حدت کو ختم نہیں ہونے دیتی ۔ یہ کربلا ہے جو اللہ کے قرآن کیلئے گردن کٹوانے پہ آمادہ رکھتی ہے ۔ یہ کربلا ہے جو ملوکیت کے سامنے دیوار بن جاتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٠ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment