" ابن زیاد کون تھا "
ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ کوئی مسلمان ، جو دل سے مسلمان ہو ، اسکے دل میں بغض آل رسولؑ ہو ۔ کیونکہ ایمان اور بغض آل نبیؐ ایک دل میں اکٹھے رہ ہی نہیں سکتے ۔ اب جن لوگوں نے کربلا میں آل رسولؐ اور انکے ساتھیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے انکا ایمان زیر بحث رہ ہی نہیں جاتا ۔ یہ فیصلہ قرآن کا بھی ہے کہ کسی مسلمان کا ناحق قتل کس زمرے میں آتا ہے ۔ یہاں تو ایک مسلمان کی بات نہیں بہتر اہل ایمان اور ایمان کے اعلیٰ درجے پر فائز جانوں کا قتل ہے ۔ جن میں نبیؐ کی لاڈلی بیٹی کے لخت جگر بھی شامل ہیں ۔ ابن زیاد ان بد بختوں میں سے ایک تھا جو اس ظلم کے باب کا متحرک مہرہ تھا ۔
آئیں دیکھیں یہ نسل اور اصل کے اعتبار سے کون تھا ۔
ابن زیاد کا نام عبیداللہ تھا ، اسکا والد زیاد بن ابیہ تھا ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ابو سفیان کی ناجائز اولاد تھا ، اسی لئے اسے ابن ابیہ کہا جاتا ہے ، یا ابن سمیہ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ اسے ابوسفیان کا نام بطور والد نہیں ملا ۔اور اسے "ابن ابیہ"(یعنی اپنے باپ کا بیٹا) کہا جاتا تھا. تاریخ میں ذیاد کو "زیاد بن ابی سفیان" کے بجاۓ " زیاد بن سمیہ" کہا گیا ہے .
ابن زیاد کی ماں "مرجانہ" نامی کنیز تھی ، جس نے ابن زیاد کی پیدائش کے بعد میں ایک ایرانی فرد "شیرویہ" کے ساتھ شادی کی. مرجانہ کردار باختہ عورت تھی ۔ اسلئے زیاد بن ابیہ کیطرح ابن زیاد کا نسب بھی مستند نہیں کہ وہ کس کا حقیقی بیٹا تھا ۔
عربوں میں زیاد بن ابیہ کو ابن سمیہ بھی کہا جاتا ہے اوربیٹے کو ابن مرجانہ بھی کہتے ہیں کہ جو اسکی ناپاک ولادت کی طرف اشارہ ہے. تاریخ میں اس عورت کے بدنام اور زناکار ہونے کی تصریح موجود ہے.
کربلا میں اور کربلا کے بعد جو بھی ہوا ، اسے یہ کہنا کہ یزید کی فوج کے یہ ظالم کردار ، نسلی طور پر مشکوک تھے درست حقیقت ہے ۔ ایک بد نسل اور مشکوک حسب کا انسان " آل رسولؑ " کی عظمت ادراک کیسے کر سکتا تھا ۔
١٦ ستمبر ٢٠١٨
Sunday, 16 September 2018
ابن زیاد کون تھا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment