" امام حسینؑ نے فرمایا "
حضرت علیؑ کی خلافت کے آغاز ہی میں ، بنو امیہ نے اپنا انتقام اور کینہ آزمانے کا آغاز کردیا ۔ مواقع پیدا کئے جاتے رہے کہ کسی طرح عدم استحکام کی صورت پیدا کرکے ، اقتدار کو بنو امیہ کی جھولی میں ڈال لیا جائے ۔ ادھر آل رسولؐ کسی بھی حال میں نہیں چاہتے تھے کہ مسلمان ایک دوسرے کا خون بہائیں ۔ ورنہ جو خیبر کو توڑ سکنے کی جرات رکھتا ہو ، اسکے لئے سازشوں کو کچلنا بڑا معرکہ نہیں تھا ۔ مگر اقتدار کی ہوس اور انتقام کی آگ نے وہ کر دکھایا کہ حضرت علیؑ شہید ہوئے ، امام حسنؑ کا جگر خون کے ساتھ باہر آیا اور شہادت پائی ۔ معاویہ نے حتی الوسع کوشش کی کہ اسوقت جلیل القدر اصحاب کو یزید کی بیعت پر قائل کر لے ۔ اسکے لئے کچھ لالچ ، دھونس دھمکی ، ظلم جبر اور تمام ممکن ذرائع بھی استعمال کئے ۔ سب کوشش کے باوجود پوری رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ پھر بھی جو صورت حال سامنے تھی ، اس میں امام حسینؑ کو قائل کرنا نا ممکن تھا ۔ امام حسینؑ کو بخوبی علم تھا کہ بنو امیہ کے اقتدار کیلئے معاویہ کا بیٹا کس حد تک جا سکتا ہے ۔ امام حسینؑ نے اس ادراک کا اظہار اپنے صحابہ میں کربلا پہنچنے کے یوں فرمایا ۔
" لوگ دنیا کے غلام ہیں اور دین صرف ان کی زبانوں تک محدود ہے اس وقت تک دین کی حمایت و پشت پناہی کرتے ہیں جب تک ان کی زندگی فلاح و رفاہ میں ہو اور جب بھی بلاء اور آزمائش کی گھڑی ہو تو دیندار بہت قلیل ہیں "
باب العلم کے لخت جگر نے ان چند الفاظ میں ایک تاریخ بیان فرما دی ۔
منقول ہے کہ کربلا میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد، امام حسینؑ نے اپنے فرزندوں، بھائیوں اور اہل خاندان کو اکٹھا کیا اور ان سب پر ایک نگاہ ڈالی اور فرمایا۔
" خداوندا! ہم تیرے نبیؐ کی عترت اور خاندان ہیں جنہیں اپنے (شہر و دیار سے) نکال باہر کیا گیا ہے اور حیران و پریشان اپنے نانا رسول اللہؐ کے حرم سے نکالا گیا ہے؛ اور بنو امیہ نے ہمارے خلاف جارحیت کی؛ خداوندا! پس ان سے ہمارا حق لے لے اور ظالموں کے خلاف ہماری نصرت فرما"۔
آزاد ھاشمی
١٩ ستمبر ٢٠١٨
Wednesday, 19 September 2018
امام حسینؑ نے فرمایا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment