Friday, 21 September 2018

ہم اور بنو امیہ کا نظام حکومت

"ہم اور بنو امیہ کا نظام حکومت"
تاریخی حقائق کو یکسر تبدیل کر کے   تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی
ہے کہ بنو امیہ کے دور حکومت میں
اسلامی  سلطنت کو وسعت ملی ۔اسلام علاقے فتح کرنے  اور وسیع و عریض سلطنت قائم کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دل فتح کرنے اور اللہ کے احکامات کے نفاذ والے ایسے نظام کی تعلیم دیتا ہے ، جس میں ہر شہری بنیادی حقوق کے ساتھ پرسکون زندگی بسر کر سکے ۔ یہ نظام لاگو کرنے کا عمل اللہ کے پاک نبیؐ سے شروع ہوا اور خلفاء راشدین تک چلتا رہا ۔ اس نظام میں جو تبدیلی بنو امیہ نے کی ، وہ آج کے دور حکمرانی سے ملتی جلتی ہے ۔  ہم نے بنو امیہ کا طرز حکومت اختیار کر رکھا ہے ۔
بنو امیہ نے خلفاء راشدین کے طرز حکومت کو یکسر تبدیل کر دیا۔
بنو امیہ کے زمانے میں خلافت اسلامیہ کو ملوکیت میں تبدیل کردیا گیا ۔   شوریٰ کا طرز تبدیل کر کے خاندانی اور موروثی حکمرانی قائم کر دی ۔ ملک کا سب سے بڑا حاکم نام کے اعتبار سے خلیفہ رہا اور خلفائے راشدین کی طرح اپنے آپ کو امیر المومنین کہلاتا رہا ۔  خلفائے بنو امیہ مسلمانوں کے آزادانہ اور کھلے مشورہ سے نہیں بلکہ اپنی طاقت اور قوت کے بل بوتے پر بر سر اقتدار آتے رہے ۔ ان کی حیثیت ایک مطلق العنان بادشاہ کی سی تھی۔
خود خلیفہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھا۔
مجلس شوریٰ کی حیثیت ختم کر دی گئی ۔ اب خلیفہ کے مشیر اور مصاحبین، امرائے دربار اور شاہی خاندان کے افراد تھے۔ خلفاء کے لیے بیعت حاصل کرنا لازمی قرار دیا اگرچہ یہ بیعت اقتدار اور جبر ہی کا نتیجہ ہوا کرتی تھی ۔ یزید نے اسی طریقے سے بیعت لی اور جس نے انکار کیا اسے جبر کا نشانہ بنایا ۔ کربلا اس کا ثبوت ہے۔ 
خلفائے بنو امیہ بظاہر اپنی مذہبی ذمہ داریاں بھی ادا کرتے لیکن ان کی اپنی زندگیاں قیصر و کسریٰ کے نمونہ پر ڈھل چکی تھی۔  خلفاء محلوں اور اونچے اونچے ایوانوں میں رہتے۔ عیش و عشرت کی محفلیں منعقد کرتے۔ اپنے دروازوں پر دربان اور حاجب رکھتے اور اپنے خلاف اٹھائی جانے والی ہر آواز کو سختی سے دبا دیتے۔ آل رسولؐ کے تمام امام اس سختی کا شکار بنے کیونکہ وہ اس طرز حکومت کی حمایت نہیں کر سکتے تھے ۔
خلفاء راشدین کے دور میں بیت المال کو قومی خزانہ  تھا۔ یہ ایک ایسی امانت تھی جسے خلیفہ اپنے من مانے طریقے سے خرچ کرنے کا مجاز نہیں تھا۔ وہ اپنے گزارے کے لیے بیت المال سے صرف اتنی تنخواہ لینے کاحقدار تھا، جس سے ایک اوسط درجہ کے آدمی کا گزر اوقات کر سکے۔ بنو امیہ کے دور میں بیت المال کو خزانہ شاہی سمجھتے ہوئے خلیفہ اور اس کے خاندان کی ذاتی ملکیت قرار دیا گیا۔ اس کی آمد و خرچ کے بارے میں وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں تھا۔ بیت المال کی آمدنی کا کثیر حصہ خلفاء اور اس کے رشتہ داروں پر وظائف، انعامات اور جاگیروں اور املاک کی صورت میں صرف ہوتا۔ شاعروں اور گویوں کی سرپرستی کی گئی اور ضرورت مند اور نادار لوگوں کے وظائف کی تعداد میں کمی کر دئی گئی۔ اخراجات کے علاوہ بیت المال کی آمدنی کے ضمن میں اب حلال و حرام کی تمیز اور تخصیص بھی ختم کر دی گئی۔ طرح طرح کے نئے ٹیکس لگائے گئے جن کی شرعی اور عوامی بہبود کے نقطہ نظر سے کوئی حیثیت نہ تھی۔
خلفائے راشدین کے دور میں خلیفہ کی حیثیت سے تمام اہم امور کے  فیصلے مسجد نبوی کے صحن میں بیٹھ کرکئے جاتے ،  لیکن امیر معاویہ نے اپنے بیٹھنے کے لیے تخت کی سی ایک نشست گاہ بنوائی۔
شاہی محلات کے دروازوں پر حاجب اور دربان مقرر تھے لوگ اب براہ راست ان کے پاس اپنی فریاد اور درخواست لے کر نہ جا سکتے تھے۔   خلیفہ کیلئے حفاظتی دستہ " الحرس " بنا دیا گیا ۔  گویا عوام اور خلیفہ کے درمیان ایک فصیل قائم ہوگئی ۔
امیر معاویہ کے جانشیوں کے ہاتھوں دربار داری کے لوازمات میں مزید اضافے ہوئے۔ اور شاعر، مسخرے، گویے اور موسیقار دربار کی زینت بنے ۔
تقابل کریں تو ثابت ہوتا ہے کہ ہم اموی طرز بادشاہت قائم کئے بیٹھے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢١ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment